<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 07:59:30 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 07:59:30 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آرمی چیف کے نوٹس پر کارروائی کا طریقہ کیا ہے؟
</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30246426/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی جانب سے کراچی واقعے کا نوٹس لینے کے بعد کور کمانڈر کراچی کی جانب سے ان کو رپورٹ دنوں میں نہیں گھنٹوں میں دی جائے گی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سابق سیکرٹری دفاع جنرل ریٹائرڈ آصف یاسین جو کہ خود کور کمانڈر پشاور بھی رہ چکے ہیں کا کہنا ہے کہ آرمی میں اس طرح کی رپورٹ بہت جلد تیار کر لی جاتی ہے تاہم ان کے مطابق اس طرح کی رپورٹ پبلک نہیں کی جاتی بلکہ یہ ادارے کی داخلی معلومات کے لیے ہوگی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یاد رہے کہ کراچی میں مسلم لیگ ن کے رہنما کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کے خلاف ایف آئی ار کے اندراج اور ان کی گرفتاری کے بعد سندھ کی حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو نے آرمی چیف سے واقعے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بلاول بھٹو کی پریس کانفرنس کے کچھ دیر بعد  پاک فوج کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا تھا کہ آرمی چیف نے کور کمانڈر کراچی سے کہا ہے کہ واقعے کی تحقیقات کر کے رپورٹ دیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عام طور پر آرمی چیف کے نوٹس لینے پر  کیسے کارروائی ہوتی ہے؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس حوالے سے نجی ویب سائٹ کے رابطہ کرنے پر لیفٹیننٹ جنرل آصف یاسین ملک کا کہنا تھا کہ فوج کی اس طرح کی تحقیقات میں یہ نہیں ہوتا کہ گواہیاں ہوں اور لمبا چوڑا وقت لیا جائے۔ ’میرے خیال میں آرمی چیف کو چند گھنٹوں میں یا زیادہ سے زیادہ بدھ تک رپورٹ مل جائے گی۔‘
فوج کے نظام میں جب اس طرح کی رپورٹ مانگی جاتی ہے تو واقعاتی شہادتوں اور ثبوتوں کی بنیاد پر فوری رپورٹ تیار کی جاتی ہے اور ہائی کمان تک پہنچا دی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں جس طرح کا واقعہ ہوا ہے وہ پاک فوج کی تاریخ میں کبھی نہیں دیکھا گیا کہ جس میں وزیراعلیٰ اور آئی جی کے حوالے سے اس طرح کی شکایت آئے اور انکوائری ہو اس لیے یہ اپنی نوعیت کا واحد کیس ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے واقعے کی صحت پر بھی شک کا اظہار کیا اور کہا کہ اگر واقعی آئی جی اتنا کمزور ہوتا ہے تو اسے چھٹی کی درخواست کے بجائے استعفیٰ دینا چاہیے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسری طرف ایک نجی ٹی وی چینل کے ٹاک شو میں بات کرتے ہوئے ایک اور ریٹائرڈ آرمی آفیسر لیفٹیننٹ جنرل غلام مصطفی کا کہنا تھا کہ کراچی واقعے میں کیا سچ ہے کیا جھوٹ ہے انکوائری کے بعد نکل آئے گا تاہم ہمیں سوچنا ہوگا کہ  وطن عزیز کے ساتھ ہم کیا کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ سیاسی قائدین جن کا کام ہے بچوں کو صحیح راستہ دکھانا وہ ملک کو آہستہ آہستہ دلدل میں لے جا رہے ہیں۔ پاکستان میں اب کوئی ادارہ محترم نہیں رہ گیا۔ غلطیاں سب نے کی ہیں مگر اب ہم دلدل میں کھڑے ہیں سب نے ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑنا ہے تو باہر نکل کر آئیں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ اس موقع پر قومی ڈائیلاگ کے لیے ان کی درخواست ہے کہ وفاق کی علامت صدر مملکت بیچ میں آئیں اور تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو بلا کر مکالمہ کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسا کرنے کا موقع ابھی ہے کیونکہ اس کے بعد دیر ہو جائے گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ آرمی چیف کو بھی نوٹس لینا چاہیے۔ اگر فوج کے اندر بے چینی پھیلی جو لازمی پھیلے گی تو آرمی چیف غیر متعلق نہیں رہ سکتے۔ انہیں اپنی فوج کو متحد رکھنا ہے، آرمی چیف صدر کے ساتھ مل کر بات چیت کا حصہ بنیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی جانب سے کراچی واقعے کا نوٹس لینے کے بعد کور کمانڈر کراچی کی جانب سے ان کو رپورٹ دنوں میں نہیں گھنٹوں میں دی جائے گی۔</strong></p>

<p>سابق سیکرٹری دفاع جنرل ریٹائرڈ آصف یاسین جو کہ خود کور کمانڈر پشاور بھی رہ چکے ہیں کا کہنا ہے کہ آرمی میں اس طرح کی رپورٹ بہت جلد تیار کر لی جاتی ہے تاہم ان کے مطابق اس طرح کی رپورٹ پبلک نہیں کی جاتی بلکہ یہ ادارے کی داخلی معلومات کے لیے ہوگی۔</p>

<p>یاد رہے کہ کراچی میں مسلم لیگ ن کے رہنما کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کے خلاف ایف آئی ار کے اندراج اور ان کی گرفتاری کے بعد سندھ کی حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو نے آرمی چیف سے واقعے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔</p>

<p>بلاول بھٹو کی پریس کانفرنس کے کچھ دیر بعد  پاک فوج کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا تھا کہ آرمی چیف نے کور کمانڈر کراچی سے کہا ہے کہ واقعے کی تحقیقات کر کے رپورٹ دیں۔</p>

<p><strong>عام طور پر آرمی چیف کے نوٹس لینے پر  کیسے کارروائی ہوتی ہے؟</strong></p>

<p>اس حوالے سے نجی ویب سائٹ کے رابطہ کرنے پر لیفٹیننٹ جنرل آصف یاسین ملک کا کہنا تھا کہ فوج کی اس طرح کی تحقیقات میں یہ نہیں ہوتا کہ گواہیاں ہوں اور لمبا چوڑا وقت لیا جائے۔ ’میرے خیال میں آرمی چیف کو چند گھنٹوں میں یا زیادہ سے زیادہ بدھ تک رپورٹ مل جائے گی۔‘
فوج کے نظام میں جب اس طرح کی رپورٹ مانگی جاتی ہے تو واقعاتی شہادتوں اور ثبوتوں کی بنیاد پر فوری رپورٹ تیار کی جاتی ہے اور ہائی کمان تک پہنچا دی جاتی ہے۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں جس طرح کا واقعہ ہوا ہے وہ پاک فوج کی تاریخ میں کبھی نہیں دیکھا گیا کہ جس میں وزیراعلیٰ اور آئی جی کے حوالے سے اس طرح کی شکایت آئے اور انکوائری ہو اس لیے یہ اپنی نوعیت کا واحد کیس ہے۔</p>

<p>انہوں نے واقعے کی صحت پر بھی شک کا اظہار کیا اور کہا کہ اگر واقعی آئی جی اتنا کمزور ہوتا ہے تو اسے چھٹی کی درخواست کے بجائے استعفیٰ دینا چاہیے۔</p>

<p>دوسری طرف ایک نجی ٹی وی چینل کے ٹاک شو میں بات کرتے ہوئے ایک اور ریٹائرڈ آرمی آفیسر لیفٹیننٹ جنرل غلام مصطفی کا کہنا تھا کہ کراچی واقعے میں کیا سچ ہے کیا جھوٹ ہے انکوائری کے بعد نکل آئے گا تاہم ہمیں سوچنا ہوگا کہ  وطن عزیز کے ساتھ ہم کیا کر رہے ہیں۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ سیاسی قائدین جن کا کام ہے بچوں کو صحیح راستہ دکھانا وہ ملک کو آہستہ آہستہ دلدل میں لے جا رہے ہیں۔ پاکستان میں اب کوئی ادارہ محترم نہیں رہ گیا۔ غلطیاں سب نے کی ہیں مگر اب ہم دلدل میں کھڑے ہیں سب نے ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑنا ہے تو باہر نکل کر آئیں گے۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ اس موقع پر قومی ڈائیلاگ کے لیے ان کی درخواست ہے کہ وفاق کی علامت صدر مملکت بیچ میں آئیں اور تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو بلا کر مکالمہ کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسا کرنے کا موقع ابھی ہے کیونکہ اس کے بعد دیر ہو جائے گی۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ آرمی چیف کو بھی نوٹس لینا چاہیے۔ اگر فوج کے اندر بے چینی پھیلی جو لازمی پھیلے گی تو آرمی چیف غیر متعلق نہیں رہ سکتے۔ انہیں اپنی فوج کو متحد رکھنا ہے، آرمی چیف صدر کے ساتھ مل کر بات چیت کا حصہ بنیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30246426</guid>
      <pubDate>Wed, 21 Oct 2020 13:12:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2020/10/5f8fed3bb7707.png" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2020/10/5f8fed3bb7707.png"/>
        <media:title>
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
