<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 06 May 2026 13:40:41 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 06 May 2026 13:40:41 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>متنازع بیان: ایاز صادق کے خلاف کیا قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے؟
</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30246995/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے عندیہ دیا ہے کہ ’مسلم لیگ ن کے رہنما ایاز صادق کے قومی اسمبلی میں دیے گئے بیان پر ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔‘&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ٹوئٹر پر ایک بیان میں سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ ’ایازصادق کی کہی بات معافی سے آگے نکل چکی ہے، اب قانون اپنا راستہ لے گا۔ ریاست کو کمزور کرنا ناقابل معافی جرم ہے جس کی سزا ایاز صادق اور ان کے حواریوں کو ضرور ملنی چاہیے۔‘&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وزیر اطلاعات شبلی فراز، ایاز صادق کے قومی اسمبلی میں بدھ کو دیے گئے بیان کا حوالہ دے رہے تھے جس میں ن لیگی رہنما نے بھارتی جاسوس ابھی نندن کی حوالگی کے حوالے سے بات کی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے بھی ایاز صادق  کے بیان کے تناظر میں ان کا نام لیے بغیر جمعرات کو نیوز کانفرنس میں کہا تھا کہ ’ایسا بیان دیا گیا جس میں تاریخ کو مسخ کرنے کی بات کی گئی اور  پاکستان کی فتح کو متنازع بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔‘&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایاز صادق کے خلاف کیا قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وزیر اطلاعات کی طرف سے قانونی کارروائی کے عندیے کے باوجود قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک رکن اسمبلی کی پارلیمنٹ میں کی گئی تقریر پر ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی نہیں کی جا سکتی۔  &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آئین کے آرٹیکل 66 (شق ایک) کے مطابق پارلیمنٹ میں اظہار رائے کی آزادی ہے اور کسی رکن پارلیمنٹ کی ایوان میں کی گئی کسی بات پر اس کے خلاف کسی عدالت میں کوئی کارروائی نہیں کی جا سکتی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;حالیہ تاریخ میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی کہ کسی رکن اسمبلی کی پارلیمنٹ میں کی گئی تقریر پر کوئی قانونی کارروائی ہوئی ہو کیونکہ قومی اسمبلی میں تقریر پر سپریم کورٹ اور کوئی اور عدالت ایکشن نہیں لے سکتی۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;حکومت کے پاس ایاز صادق کے خلاف کارروائی کے کیا آپشنز ہیں؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آئین کے آرٹیکل 63 (ون جی) کے تحت اگر کسی رکن اسمبلی کو اگر کسی عدالت سے مسلح افواج کے ساکھ کو نقصان پہنچانے پر سزا ہو چکی ہو تو پھر اس کی رکنیت معطل کی جا سکتی ہے اور اس مقصد کے لیے سپیکر قومی اسمبلی کو ریفرنس بھیجا جا سکتا ہے، تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ رکن اسمبلی کو کسی عدالت سے سزا ہو چکی ہو۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;حکومت کے پاس دوسرا آپشن یہ ہوتا ہے کہ حکومت آئین کے آرٹیکل سترہ کے تحت کسی پوری سیاسی جماعت کے قیام کو پاکستان کی سلامتی اور آزادی کے خلاف قرار دے تاہم ایسا قرار دینے کے پندرہ دن کے اندر ہی اس کی سپریم کورٹ سے توثیق لازم ہوتی ہے۔ تاہم ایاز صادق کے حوالے سے حکومت کے پاس لیگل آپشنز محدود ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یاد رہے کہ ایاز صادق نے جمعہ کو ایک وضاحتی ویڈیو بیان جاری کیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ’کل جو میں نے اسمبلی میں بیان دیا اس پر انڈین میڈیا کا جو ردعمل آیا ہے وہ میرے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا اور اس کو تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی۔‘&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے عندیہ دیا ہے کہ ’مسلم لیگ ن کے رہنما ایاز صادق کے قومی اسمبلی میں دیے گئے بیان پر ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔‘</strong></p>

<p>ٹوئٹر پر ایک بیان میں سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ ’ایازصادق کی کہی بات معافی سے آگے نکل چکی ہے، اب قانون اپنا راستہ لے گا۔ ریاست کو کمزور کرنا ناقابل معافی جرم ہے جس کی سزا ایاز صادق اور ان کے حواریوں کو ضرور ملنی چاہیے۔‘</p>

<p>وزیر اطلاعات شبلی فراز، ایاز صادق کے قومی اسمبلی میں بدھ کو دیے گئے بیان کا حوالہ دے رہے تھے جس میں ن لیگی رہنما نے بھارتی جاسوس ابھی نندن کی حوالگی کے حوالے سے بات کی تھی۔</p>

<p>پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے بھی ایاز صادق  کے بیان کے تناظر میں ان کا نام لیے بغیر جمعرات کو نیوز کانفرنس میں کہا تھا کہ ’ایسا بیان دیا گیا جس میں تاریخ کو مسخ کرنے کی بات کی گئی اور  پاکستان کی فتح کو متنازع بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔‘</p>

<p><strong>ایاز صادق کے خلاف کیا قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے؟</strong></p>

<p>وزیر اطلاعات کی طرف سے قانونی کارروائی کے عندیے کے باوجود قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک رکن اسمبلی کی پارلیمنٹ میں کی گئی تقریر پر ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی نہیں کی جا سکتی۔  </p>

<p>آئین کے آرٹیکل 66 (شق ایک) کے مطابق پارلیمنٹ میں اظہار رائے کی آزادی ہے اور کسی رکن پارلیمنٹ کی ایوان میں کی گئی کسی بات پر اس کے خلاف کسی عدالت میں کوئی کارروائی نہیں کی جا سکتی۔</p>

<p>حالیہ تاریخ میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی کہ کسی رکن اسمبلی کی پارلیمنٹ میں کی گئی تقریر پر کوئی قانونی کارروائی ہوئی ہو کیونکہ قومی اسمبلی میں تقریر پر سپریم کورٹ اور کوئی اور عدالت ایکشن نہیں لے سکتی۔ </p>

<p><strong>حکومت کے پاس ایاز صادق کے خلاف کارروائی کے کیا آپشنز ہیں؟</strong></p>

<p>آئین کے آرٹیکل 63 (ون جی) کے تحت اگر کسی رکن اسمبلی کو اگر کسی عدالت سے مسلح افواج کے ساکھ کو نقصان پہنچانے پر سزا ہو چکی ہو تو پھر اس کی رکنیت معطل کی جا سکتی ہے اور اس مقصد کے لیے سپیکر قومی اسمبلی کو ریفرنس بھیجا جا سکتا ہے، تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ رکن اسمبلی کو کسی عدالت سے سزا ہو چکی ہو۔</p>

<p>حکومت کے پاس دوسرا آپشن یہ ہوتا ہے کہ حکومت آئین کے آرٹیکل سترہ کے تحت کسی پوری سیاسی جماعت کے قیام کو پاکستان کی سلامتی اور آزادی کے خلاف قرار دے تاہم ایسا قرار دینے کے پندرہ دن کے اندر ہی اس کی سپریم کورٹ سے توثیق لازم ہوتی ہے۔ تاہم ایاز صادق کے حوالے سے حکومت کے پاس لیگل آپشنز محدود ہیں۔</p>

<p>یاد رہے کہ ایاز صادق نے جمعہ کو ایک وضاحتی ویڈیو بیان جاری کیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ’کل جو میں نے اسمبلی میں بیان دیا اس پر انڈین میڈیا کا جو ردعمل آیا ہے وہ میرے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا اور اس کو تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی۔‘</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30246995</guid>
      <pubDate>Sat, 31 Oct 2020 09:18:47 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2020/10/5f9ce5849c63d.png" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2020/10/5f9ce5849c63d.png"/>
        <media:title>
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
