<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 06 May 2026 07:33:55 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 06 May 2026 07:33:55 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کیاآپ چاہتےہیں ملک میں سب لوگ چرس پینا شروع کر دیں؟ سندھ ہائیکورٹ
</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30247355/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کراچی :سندھ ہائیکورٹ نے شہری کی 10 گرام چرس پینے کی اجازت دینے کی درخواست ناقابل سماعت قرار دے کر مسترد کرتےہوئے ریمارکس دیئے کہ کیا آپ چاہتے ہیں ملک میں سب لوگ چرس پینا شروع کر دیں؟  بتائیں آپ پر کتنا جرمانہ عائد کی کیا جائے؟۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سندھ ہائیکورٹ میں عدالتی تاریخ کا انوکھا کیس آیا ہے، 10گرام تک چرس پینے کی اجازت کیلئے شہری عدالت پہنچ گیا ۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عدالت نے درخواست گزار پر اظہار برہمی کرتے ہوئے استفسار کیا کہ یہ آپ کیسی درخواست لیکر آئے  ہیں،کیا آپ چاہتے ہیں ملک میں سب لوگ چرس پینا شروع کر دیں؟  بتائیں آپ پر کتنا جرمانہ عائد کیا جائے؟۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;درخواست گزارغلام اصغر سائین  نے وفاق اوروزارت قانون کو فریق بناتے ہوئے موقف اختیارکیا کہ غریب آدمی ہوں، مفاد عامہ کی درخواست لیکر آیا ہوں، 10گرام چرس رکھنے پر جرمانہ بھی ختم کیا جائے،چرس شریف لوگ پیتے ہیں، جن کو پولیس تنگ کرتی ہے،دنیا کے بیشتر ممالک میں چرس پینے کی اجازت ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جسٹس محمد علی مظہر نے درخواست گزار سے مکالمے میں کہا کہ آپ کو چرس پینا ہے تو ان ممالک میں چلیں جائیں جہاں اس کی اجازت ہے،ایسی درخواستیں عدالت میں کیوں لیکر آتے ہیں؟ ۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;درخواست گزار نے مزید کہا کہ چرس پینے کی اجازت دینے سے ملک کی آمدنی بڑھے گی اورریونیو میں اضافہ ہوگا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ نہیں چاہیئے ایسا ریونیو،آمدنی بڑھانے کے اور بھی جائز طریقے ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عدالت نے 10گرام چرس پینے کی اجازت دینے کی دائر درخواست ناقابل سماعت قراردے کر مسترد کردی۔ &lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کراچی :سندھ ہائیکورٹ نے شہری کی 10 گرام چرس پینے کی اجازت دینے کی درخواست ناقابل سماعت قرار دے کر مسترد کرتےہوئے ریمارکس دیئے کہ کیا آپ چاہتے ہیں ملک میں سب لوگ چرس پینا شروع کر دیں؟  بتائیں آپ پر کتنا جرمانہ عائد کی کیا جائے؟۔</strong></p>

<p>سندھ ہائیکورٹ میں عدالتی تاریخ کا انوکھا کیس آیا ہے، 10گرام تک چرس پینے کی اجازت کیلئے شہری عدالت پہنچ گیا ۔ </p>

<p>عدالت نے درخواست گزار پر اظہار برہمی کرتے ہوئے استفسار کیا کہ یہ آپ کیسی درخواست لیکر آئے  ہیں،کیا آپ چاہتے ہیں ملک میں سب لوگ چرس پینا شروع کر دیں؟  بتائیں آپ پر کتنا جرمانہ عائد کیا جائے؟۔</p>

<p>درخواست گزارغلام اصغر سائین  نے وفاق اوروزارت قانون کو فریق بناتے ہوئے موقف اختیارکیا کہ غریب آدمی ہوں، مفاد عامہ کی درخواست لیکر آیا ہوں، 10گرام چرس رکھنے پر جرمانہ بھی ختم کیا جائے،چرس شریف لوگ پیتے ہیں، جن کو پولیس تنگ کرتی ہے،دنیا کے بیشتر ممالک میں چرس پینے کی اجازت ہے۔</p>

<p>جسٹس محمد علی مظہر نے درخواست گزار سے مکالمے میں کہا کہ آپ کو چرس پینا ہے تو ان ممالک میں چلیں جائیں جہاں اس کی اجازت ہے،ایسی درخواستیں عدالت میں کیوں لیکر آتے ہیں؟ ۔</p>

<p>درخواست گزار نے مزید کہا کہ چرس پینے کی اجازت دینے سے ملک کی آمدنی بڑھے گی اورریونیو میں اضافہ ہوگا۔</p>

<p>جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ نہیں چاہیئے ایسا ریونیو،آمدنی بڑھانے کے اور بھی جائز طریقے ہوتے ہیں۔</p>

<p>عدالت نے 10گرام چرس پینے کی اجازت دینے کی دائر درخواست ناقابل سماعت قراردے کر مسترد کردی۔ </p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30247355</guid>
      <pubDate>Fri, 06 Nov 2020 14:25:13 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (Sajid Siddique)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2020/11/5fa4f260a2b5a.png" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2020/11/5fa4f260a2b5a.png"/>
        <media:title>
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
