<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 05 May 2026 22:10:21 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 05 May 2026 22:10:21 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان ریلویزنےکراچی والوں کو بڑی خبر سنادی
</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30247626/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کراچی: (کامران شیخ) پاکستان ریلویزنےکراچی والوں کو بڑی خبر سنادی ہے، پیر16 نومبر سےکراچی سرکلرریلوے کومرحلہ واربحال کرنے کا اعلان کردیا،کراچی کے شہریوں کا برسوں پرانا خواب سچ ہوسکے گا یا نہیں اسکا شدت سے انتظار ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کےسی آر کی ابتداء 1962میں اس وقت ہوئی جب پاکستان ریلوے نے سٹی اسٹیشن سے ڈرگ روڈ اسٹیشن تک میٹروٹرین کی کامیاب تجرباتی سروس شروع کی۔ 1969 میں منصوبے کو وسعت دیتے ہوئے شہرکے اطراف 140 کلو میٹر کا ٹریک بچھا کر 23 نئے اسٹیشن بنائے گئے، 1970 تک مجموعی طور پریومیہ 140 ٹرینیں لاکھوں شہریوں کو مرکزشہرتک لاتی اور لے جاتی تھیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;1990 کی دہائی میں سرکلر ریلوے کی آمدنی میں کمی ہوئی اور 1994 تک کےسی آر بدترین مالی بحران کا شکارہوا اورٹرینیں بند کر دی گئیں۔ 1999 میں کراچی سرکلرریلوے کو مکمل طورپربند کردیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سپریم کورٹ آف پاکستان نے کراچی سرکلرریلوے کی بحالی کےلئے سخت احکامات جاری کرتے ہوئےوفاق اورسندھ کے تمام ذمہ داروں کو پابند کیا کہ کراچی سرکلرریلوے ہرصورت بحال کرایا جائے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کے سی آر کے بحال نہ ہونے کی سب سے بڑی اوراہم وجہ اسکی راہ میں موجود تجاوزات ہیں، شہر کےبیشترمقامات پر پٹری کا نام ونشان موجود نہیں توکہیں مکانات بنادیئے گئے ہیں کئی بارتجاوزات کےخلاف آپریشن کیاگیا لیکن کامیابی نہیں ہوسکی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;لیاقت آباد، یاسین آباد اورناظم آباد میں بڑے پیمانے پرریلوے کی اراضی پرتجاوزات قائم کردی گئی ہیں،کہیں فرنیچرمارکیٹ موجود ہے توکہیں پٹری سے متصل گھراورکہیں تو پٹری کا وجود ہی مٹ چکا ہے۔اورنگی، چنیسر ہالٹ، شہید ملت، لیاری، وزیر مینشن کے مقام پرریلوے کی پٹریاں کہیں ہیں تو کہیں غائب ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;گذشتہ روزبھی چیف جسٹس آف پاکستان گلزاراحمد نے کراچی سرکولرریلوے کے معاملے پرچیف سیکرٹری سندھ اورسیکریٹری ریلویزکو اظہاروجوہ کا نوٹس جاری کیا،انھوں نے ریمارکس دیئےکہ اب بات صرف یہاں تک نہیں رکے گی، سب کو بلائیں گے،ضرورت پڑی تووزیراعظم او وزیراعلیٰ سندھ کو بھی بلا لیں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسری جانب پاکستان ریلویز کراچی کی انتظامیہ نے اعلامیہ جاری کیا جس کےمطابق پیرسولہ نومبرسے کراچی سرکلرریلوے کو مرحلہ وار بحال کیا جارہاہے، ابتدائی طورپرکے سی آرکو پپری سے لانڈھی، اور اورنگی تک چلایا جائیگا۔ دن میں 4 ٹرینیں پپری اور 4 اورنگی سے روانہ کی جائیں گی جسکے اوقات کارصبح 7 اور 10 بجے، جبکہ دوپہرمیں 1 اور 4 بجے ہوں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ریلوے انتظامیہ کےمطابق مکمل سفر 60 کلومیٹر پرمحیط ہوگا جسکا کرایہ 50 روپے ہوگا،کے سی آر ٹریک میں 20 اسٹیشنزاور 24 پھاٹک ہیں جس میں 20 اسٹیشنز ہیں جن میں سے 15 لوپ لائن اور 5 مین لائن پر ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کراچی: (کامران شیخ) پاکستان ریلویزنےکراچی والوں کو بڑی خبر سنادی ہے، پیر16 نومبر سےکراچی سرکلرریلوے کومرحلہ واربحال کرنے کا اعلان کردیا،کراچی کے شہریوں کا برسوں پرانا خواب سچ ہوسکے گا یا نہیں اسکا شدت سے انتظار ہے۔</strong></p>

<p>کےسی آر کی ابتداء 1962میں اس وقت ہوئی جب پاکستان ریلوے نے سٹی اسٹیشن سے ڈرگ روڈ اسٹیشن تک میٹروٹرین کی کامیاب تجرباتی سروس شروع کی۔ 1969 میں منصوبے کو وسعت دیتے ہوئے شہرکے اطراف 140 کلو میٹر کا ٹریک بچھا کر 23 نئے اسٹیشن بنائے گئے، 1970 تک مجموعی طور پریومیہ 140 ٹرینیں لاکھوں شہریوں کو مرکزشہرتک لاتی اور لے جاتی تھیں۔</p>

<p>1990 کی دہائی میں سرکلر ریلوے کی آمدنی میں کمی ہوئی اور 1994 تک کےسی آر بدترین مالی بحران کا شکارہوا اورٹرینیں بند کر دی گئیں۔ 1999 میں کراچی سرکلرریلوے کو مکمل طورپربند کردیا گیا تھا۔</p>

<p>سپریم کورٹ آف پاکستان نے کراچی سرکلرریلوے کی بحالی کےلئے سخت احکامات جاری کرتے ہوئےوفاق اورسندھ کے تمام ذمہ داروں کو پابند کیا کہ کراچی سرکلرریلوے ہرصورت بحال کرایا جائے۔</p>

<p>کے سی آر کے بحال نہ ہونے کی سب سے بڑی اوراہم وجہ اسکی راہ میں موجود تجاوزات ہیں، شہر کےبیشترمقامات پر پٹری کا نام ونشان موجود نہیں توکہیں مکانات بنادیئے گئے ہیں کئی بارتجاوزات کےخلاف آپریشن کیاگیا لیکن کامیابی نہیں ہوسکی۔</p>

<p>لیاقت آباد، یاسین آباد اورناظم آباد میں بڑے پیمانے پرریلوے کی اراضی پرتجاوزات قائم کردی گئی ہیں،کہیں فرنیچرمارکیٹ موجود ہے توکہیں پٹری سے متصل گھراورکہیں تو پٹری کا وجود ہی مٹ چکا ہے۔اورنگی، چنیسر ہالٹ، شہید ملت، لیاری، وزیر مینشن کے مقام پرریلوے کی پٹریاں کہیں ہیں تو کہیں غائب ہیں۔</p>

<p>گذشتہ روزبھی چیف جسٹس آف پاکستان گلزاراحمد نے کراچی سرکولرریلوے کے معاملے پرچیف سیکرٹری سندھ اورسیکریٹری ریلویزکو اظہاروجوہ کا نوٹس جاری کیا،انھوں نے ریمارکس دیئےکہ اب بات صرف یہاں تک نہیں رکے گی، سب کو بلائیں گے،ضرورت پڑی تووزیراعظم او وزیراعلیٰ سندھ کو بھی بلا لیں گے۔</p>

<p>دوسری جانب پاکستان ریلویز کراچی کی انتظامیہ نے اعلامیہ جاری کیا جس کےمطابق پیرسولہ نومبرسے کراچی سرکلرریلوے کو مرحلہ وار بحال کیا جارہاہے، ابتدائی طورپرکے سی آرکو پپری سے لانڈھی، اور اورنگی تک چلایا جائیگا۔ دن میں 4 ٹرینیں پپری اور 4 اورنگی سے روانہ کی جائیں گی جسکے اوقات کارصبح 7 اور 10 بجے، جبکہ دوپہرمیں 1 اور 4 بجے ہوں گے۔</p>

<p>ریلوے انتظامیہ کےمطابق مکمل سفر 60 کلومیٹر پرمحیط ہوگا جسکا کرایہ 50 روپے ہوگا،کے سی آر ٹریک میں 20 اسٹیشنزاور 24 پھاٹک ہیں جس میں 20 اسٹیشنز ہیں جن میں سے 15 لوپ لائن اور 5 مین لائن پر ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30247626</guid>
      <pubDate>Wed, 11 Nov 2020 14:25:00 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2020/11/5faba780224db.png" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2020/11/5faba780224db.png"/>
        <media:title>
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
