<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 05 May 2026 14:42:39 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 05 May 2026 14:42:39 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>'بات چیت کےتمام دروازے بند ہیں'
</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30248038/</link>
      <description>&lt;p&gt;مسلم لیگ ن کےرہنما خواجہ آصف کہتے ہیں بات چیت کےتمام دروازے بند ہیں۔بات چیت کےلئےآئین کورجوع کرناچاہیئے۔آئین پرملک کے22 کروڑ عوام متفق ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آج نیوز کے پروگرام فیصلہ آپکا میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم کےتمام نکات آئین کےمطابق ہیں۔ آئین کےمخالف نکات نہیں پیش کیےگئے۔آئین کمزورہوتاہےتو وفاق کمزورہوتاہے۔عدلیہ کےزیرسایہ مذاکرات ہوسکتےہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہاوزیراعظم نیشنل سیکیورٹی سےمتعلق اجلاس میں بھی نہیں آتے۔نیشنل سیکیورٹی سےمتعلق اجلاس میں وزیراعظم کوآناچاہیئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وزیراعظم کی شخصیت تقسیم کرنےوالی ہے۔وزیراعظم قومی تفرقےکی علامت بن چکے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ آج کشمیر پر کوئی بھی پاکستان کا مددگارنہیں۔عوام کی رائے کااحترام کرلیاجائےتومسائل حل ہوجائیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خواجہ آصف نے کہاغریب عوام مہنگائی کی چکی میں پس چکےہیں۔عوامی سیلاب کو روکانہیں جاسکتا۔اپوزیشن جماعتوں نےحکومت سےزیادہ ووٹ لئےہوئےہیں۔پی ڈی ایم میں11جماعتیں اکٹھی ہیں۔11جماعتیں آئین پاکستان پر متفق ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ن لیگی رہنما نے کہانئےمینڈیٹ کےتحت الیکشن کرائےجائیں۔پی ٹی آئی کےلوگوں کی اکثریت حکومت سےتنگ ہے۔تحریک عدم اعتمادمیں پی ٹی آئی والےحکومت مخالف ووٹ دیں گے۔خاندان پر مقدمے بنانا کمزور حکومت کی نشانی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خواجہ آصف نے کہاعوام سےتعلق ختم ہوگیا،حکمران تنہائی کاشکارہیں۔حکومت کاکشمیرپرکوئی بیانیہ نہیں ہے۔ جس ملک میں تفرقہ ہوکشمیری اس سےکیاامید رکھیں۔اس بار موسم بہار بہار لےکر آئےگا۔ نواز شریف جس دن کہیں گےاستعفےدےدیں گے۔پارٹی جب فیصلہ کرےگی نواز شریف واپس آجائیں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>مسلم لیگ ن کےرہنما خواجہ آصف کہتے ہیں بات چیت کےتمام دروازے بند ہیں۔بات چیت کےلئےآئین کورجوع کرناچاہیئے۔آئین پرملک کے22 کروڑ عوام متفق ہیں۔</p>

<p>آج نیوز کے پروگرام فیصلہ آپکا میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم کےتمام نکات آئین کےمطابق ہیں۔ آئین کےمخالف نکات نہیں پیش کیےگئے۔آئین کمزورہوتاہےتو وفاق کمزورہوتاہے۔عدلیہ کےزیرسایہ مذاکرات ہوسکتےہیں۔</p>

<p>انہوں نے کہاوزیراعظم نیشنل سیکیورٹی سےمتعلق اجلاس میں بھی نہیں آتے۔نیشنل سیکیورٹی سےمتعلق اجلاس میں وزیراعظم کوآناچاہیئے۔</p>

<p>وزیراعظم کی شخصیت تقسیم کرنےوالی ہے۔وزیراعظم قومی تفرقےکی علامت بن چکے ہیں۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ آج کشمیر پر کوئی بھی پاکستان کا مددگارنہیں۔عوام کی رائے کااحترام کرلیاجائےتومسائل حل ہوجائیں۔</p>

<p>خواجہ آصف نے کہاغریب عوام مہنگائی کی چکی میں پس چکےہیں۔عوامی سیلاب کو روکانہیں جاسکتا۔اپوزیشن جماعتوں نےحکومت سےزیادہ ووٹ لئےہوئےہیں۔پی ڈی ایم میں11جماعتیں اکٹھی ہیں۔11جماعتیں آئین پاکستان پر متفق ہیں۔</p>

<p>ن لیگی رہنما نے کہانئےمینڈیٹ کےتحت الیکشن کرائےجائیں۔پی ٹی آئی کےلوگوں کی اکثریت حکومت سےتنگ ہے۔تحریک عدم اعتمادمیں پی ٹی آئی والےحکومت مخالف ووٹ دیں گے۔خاندان پر مقدمے بنانا کمزور حکومت کی نشانی ہے۔</p>

<p>خواجہ آصف نے کہاعوام سےتعلق ختم ہوگیا،حکمران تنہائی کاشکارہیں۔حکومت کاکشمیرپرکوئی بیانیہ نہیں ہے۔ جس ملک میں تفرقہ ہوکشمیری اس سےکیاامید رکھیں۔اس بار موسم بہار بہار لےکر آئےگا۔ نواز شریف جس دن کہیں گےاستعفےدےدیں گے۔پارٹی جب فیصلہ کرےگی نواز شریف واپس آجائیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30248038</guid>
      <pubDate>Wed, 18 Nov 2020 23:06:56 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مہدی قاضی)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2020/11/5fb562ba61bf6.png" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2020/11/5fb562ba61bf6.png"/>
        <media:title>
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
