<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 05 May 2026 14:22:20 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 05 May 2026 14:22:20 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران نے زیر زمین پلانٹ سے سینٹری فیوجز آپریٹ کرنا شروع کر دیے
</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30248049/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اقوام متحدہ کے ادارے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے سربراہ نے کہا ہے کہ ایران نے زیر زمین پلانٹ سے سینٹری فیوجز کو آپریٹ کرنا شروع کر دیا ہے، لیکن ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایران کی یورینیم افزودہ کرنے کی صلاحیت میں ابھی اضافہ نہیں ہوا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق  آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے بدھ کے روز میڈیا کو بتایا کہ 174 سینٹری فیوجز ایک دوسری سائٹ سے نطنز  نیوکلیئر سائٹ پہنچائے گئے اور حال ہی میں آپریٹ کرنا شروع کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-5/6  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://www.urdunews.com/sites/default/files/styles/660_scale/public/2020/11/19/932996-891446262.jpg?itok=ea9L52Cx"  alt="اقوام متحدہ کے ادارے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے سربراہ رافیل ماریانو گروسی" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;اقوام متحدہ کے ادارے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے سربراہ رافیل ماریانو گروسی&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;**			**&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اس طرح کے سینٹری فیوجز کو آپریٹ کرنا اس معاہدے کی خلاف ورزی ہے جو ایران نے دنیا کی طاقتوں کے ساتھ 2015 میں کیا تھا جسے جوائنٹ کمپری ہینسیو پلان آف ایکشن (جے سی پی او اے) کا نام دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ایران پہلے ہی یورینیم افزودہ کرنے کی حد سے آگے جا چکا ہے۔ ’یہ پہلے ہی جے سی پی او اے معاہدے کی مقرر کردہ حد سے آگے نکل چکا ہے لیکن اس نے بہت زیادہ یورینیم افزودہ نہیں کی ہے۔‘&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اے پی کے مطابق ممبر ممالک کو دی گئی ایک خفیہ دستاویز میں کہا گیا ہے کہ ’دو نومبر تک ایران کے پاس دو ہزار 442 کلو گرام افزودہ یورینیم کا ذخیرہ تھا جو 25 اگست کو رپورٹ کیے گئے دو ہزار پانچ کلوگرام سے زیادہ ہے۔‘&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;امریکہ، جرمنی، فرانس برطانیہ، چین اور روس کی طرف سے کیے گئے معاہدے کے مطابق ایران کو دو سو دو کلوگرام یورینیم ذخیرہ کرنے کی اجازت ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آئی اے ای اے کے مطابق ایران یورینیم کو 4.5 فیصد تک افزودہ کر رہا ہے لیکن معاہدے میں اسے 3.7 فیصد تک کرنے کی اجازت ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے 2018 میں ایران کے ساتھ نیوکلیئر معاہدے سے دستبرداری کے بعد ایران نے کھلے عام جے سی پی او اے معاہدے کی خلاف ورزی کرنا شروع کر دی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس معاہدے کے تحت طے ہوا تھا کہ اگر ایران اپنے نیوکلیئر پروگرام کو روکتا ہے تو اسے معاشی فائدہ دیا جائے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس معاہدے کا مقصد یہ تھا کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے سے روکا جائے اور ایران کا بھی یہی کہنا ہے کہ وہ ایسا نہیں کرے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جولائی میں نطنز نیوکلیئر سائٹ پر دھماکے کے بعد، جسے ایران سبوتاژ قرار دیتا ہے، تہران نے کہا کہ وہ اس علاقے میں پہاڑوں کے اندر ایک زیادہ محفوظ پلانٹ لگائے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رافیل گروسی نے گذشتہ ماہ اے پی کو تصدیق کی تھی کہ نیا پلانٹ زیر تعمیر ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اقوام متحدہ کے ادارے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے سربراہ نے کہا ہے کہ ایران نے زیر زمین پلانٹ سے سینٹری فیوجز کو آپریٹ کرنا شروع کر دیا ہے، لیکن ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایران کی یورینیم افزودہ کرنے کی صلاحیت میں ابھی اضافہ نہیں ہوا ہے۔</strong></p>

<p>خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق  آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے بدھ کے روز میڈیا کو بتایا کہ 174 سینٹری فیوجز ایک دوسری سائٹ سے نطنز  نیوکلیئر سائٹ پہنچائے گئے اور حال ہی میں آپریٹ کرنا شروع کیے گئے ہیں۔</p>

<figure class='media  sm:w-5/6  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://www.urdunews.com/sites/default/files/styles/660_scale/public/2020/11/19/932996-891446262.jpg?itok=ea9L52Cx"  alt="اقوام متحدہ کے ادارے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے سربراہ رافیل ماریانو گروسی" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">اقوام متحدہ کے ادارے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے سربراہ رافیل ماریانو گروسی</figcaption>
			</figure>
<p>**			**</p>

<p>انہوں نے کہا کہ اس طرح کے سینٹری فیوجز کو آپریٹ کرنا اس معاہدے کی خلاف ورزی ہے جو ایران نے دنیا کی طاقتوں کے ساتھ 2015 میں کیا تھا جسے جوائنٹ کمپری ہینسیو پلان آف ایکشن (جے سی پی او اے) کا نام دیا گیا تھا۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ ایران پہلے ہی یورینیم افزودہ کرنے کی حد سے آگے جا چکا ہے۔ ’یہ پہلے ہی جے سی پی او اے معاہدے کی مقرر کردہ حد سے آگے نکل چکا ہے لیکن اس نے بہت زیادہ یورینیم افزودہ نہیں کی ہے۔‘</p>

<p>اے پی کے مطابق ممبر ممالک کو دی گئی ایک خفیہ دستاویز میں کہا گیا ہے کہ ’دو نومبر تک ایران کے پاس دو ہزار 442 کلو گرام افزودہ یورینیم کا ذخیرہ تھا جو 25 اگست کو رپورٹ کیے گئے دو ہزار پانچ کلوگرام سے زیادہ ہے۔‘</p>

<p>امریکہ، جرمنی، فرانس برطانیہ، چین اور روس کی طرف سے کیے گئے معاہدے کے مطابق ایران کو دو سو دو کلوگرام یورینیم ذخیرہ کرنے کی اجازت ہے۔</p>

<p>آئی اے ای اے کے مطابق ایران یورینیم کو 4.5 فیصد تک افزودہ کر رہا ہے لیکن معاہدے میں اسے 3.7 فیصد تک کرنے کی اجازت ہے۔</p>

<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے 2018 میں ایران کے ساتھ نیوکلیئر معاہدے سے دستبرداری کے بعد ایران نے کھلے عام جے سی پی او اے معاہدے کی خلاف ورزی کرنا شروع کر دی ہے۔</p>

<p>اس معاہدے کے تحت طے ہوا تھا کہ اگر ایران اپنے نیوکلیئر پروگرام کو روکتا ہے تو اسے معاشی فائدہ دیا جائے گا۔</p>

<p>اس معاہدے کا مقصد یہ تھا کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے سے روکا جائے اور ایران کا بھی یہی کہنا ہے کہ وہ ایسا نہیں کرے گا۔</p>

<p>جولائی میں نطنز نیوکلیئر سائٹ پر دھماکے کے بعد، جسے ایران سبوتاژ قرار دیتا ہے، تہران نے کہا کہ وہ اس علاقے میں پہاڑوں کے اندر ایک زیادہ محفوظ پلانٹ لگائے گا۔</p>

<p>رافیل گروسی نے گذشتہ ماہ اے پی کو تصدیق کی تھی کہ نیا پلانٹ زیر تعمیر ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30248049</guid>
      <pubDate>Thu, 19 Nov 2020 10:40:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2020/11/5fb6051c4d1be.png" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2020/11/5fb6051c4d1be.png"/>
        <media:title>
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
