<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 04 May 2026 22:30:45 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 04 May 2026 22:30:45 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اگرمطمئن نہ ہوئےتو وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کوطلب کریں گے،چیف جسٹس
</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30248850/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسلام آباد:سپریم کورٹ نے خیبرپختونخوا حکومت کی ویسٹ مجمنٹخت سے متعلق رپورٹ مسترد کرتے ہوئے ایک ماہ میں پیشرفت رپورٹ طلب کرلی ، چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ اگرمطمئن نہ ہوئے تو وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کوطلب کریں گے ، اگروزیراعلیٰ اپنے لوگوں کو خود سہولت نہیں دے سکتے تو حکومت چھوڑدیں ۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چیف جسٹس گلزاراحمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 2رکنی بینچ نے خیبرپختونخوا کی صنعتوں اوراسپتالوں کا فضلہ دریاؤں میں شامل کرنے سے متعلق ازخود نوٹس کیس پرسماعت کی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چیف جسٹس کے استفسار پرایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے بتایا کہ پشاور میں ڈرینیج کے 2 سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس بن رہے ہیں ۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جسٹس گلزار نے کہا کہ 2018 سے کیس سپریم کورٹ میں ہے اب تک کوئی سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ نہیں بن سکا،جس پرسیکرٹری لوکل گورنمنٹ خیبرپختونخوا نے منصوبے کیلئے ایشیائی ترقیاتی بینک سے 475 ملین ڈالرز فراہم کئے جانے کا بتایا ۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ معلوم ہے 400 ملین ڈالرز کتنے ہوتے ہیں؟ یہ رقم پورے خیبرپختونخواکو ملیں تو صوبے کی قسمت بدل جائے ،آپ کے پاس ویسٹ مینجمنٹ سے متعلق کیا پلان ہے ؟منصوبہ کب مکمل ہوگا؟ جس پر سیکرٹری لوکل گورنمنٹ نے منصوبہ 2024 میں مکمل ہونے کا بتایا ۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ پاکستان کو بنے 72 سال ہو گئے، ابھی تک سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس نہیں بنے، آپ ملک میں نالے کھودنے کیلئے ایشیائی ترقیاتی بینک سے پیسے لیتے ہیں ،ملک میں نالے تک خود نہیں کھود سکتے ۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چیف جسٹس نے کہا کہ ڈالرزسے امریکااورازبکستان سے استعمال شدہ مال لا کرلگائیں گے،یہ قسمت ہے پاکستان کی ، نالے کھودنے میں کون سی ٹیکنالوجی لگتی ہے کب خود کفیل ہوں گے؟،ویسٹ مینجمنٹ منصوبہ کبھی مکمل نہیں ہو گا،آپ کہتے ہیں پیسے آئیں تو منصوبہ بنائیں گے،  وسائل سے بھرپور کے پی میں صاف پانی موجود نہیں،  اگروزیراعلی اپنے لوگوں کوخود سہولت نہیں دے سکتے توحکومت چھوڑدیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چیف جسٹس گلزار احمد نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخواکوبلا کرپوچھیں گے کہ عوام کوسہولت دینے کیلئے ایشیائی ترقیاتی بینک پیسہ کیوں دے رہا ہے؟ ۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سپریم کورٹ نے خیبرپختونخوا حکومت کی ویسٹ مجمنٹ؟  سے متعلق رپورٹ مسترد کرتے ہوئے ایک ماہ میں پیشرفت رپورٹ طلب کرلی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ایک ماہ میں ویسٹ مینجمنٹ کے متعلق پراگریس رپورٹ جمع کرائیں ،اگررپورٹ سے مطمئن نا ہوئے تووزیر اعلی خیبرپختونخواکوطلب کریں گے،اگروزیراعلیٰ اپنے لوگوں کو خود سہولت نہیں دے سکتے توحکومت چھوڑدیں ۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ بی آرٹی زیادہ اہم ہے یا عوام کو پینے کا صاف پانی مہیا کرنا؟بعدازاں عدالت نے سماعت ایک ماہ کیلئے ملتوی کردی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسلام آباد:سپریم کورٹ نے خیبرپختونخوا حکومت کی ویسٹ مجمنٹخت سے متعلق رپورٹ مسترد کرتے ہوئے ایک ماہ میں پیشرفت رپورٹ طلب کرلی ، چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ اگرمطمئن نہ ہوئے تو وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کوطلب کریں گے ، اگروزیراعلیٰ اپنے لوگوں کو خود سہولت نہیں دے سکتے تو حکومت چھوڑدیں ۔</strong></p>

<p>چیف جسٹس گلزاراحمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 2رکنی بینچ نے خیبرپختونخوا کی صنعتوں اوراسپتالوں کا فضلہ دریاؤں میں شامل کرنے سے متعلق ازخود نوٹس کیس پرسماعت کی۔</p>

<p>چیف جسٹس کے استفسار پرایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے بتایا کہ پشاور میں ڈرینیج کے 2 سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس بن رہے ہیں ۔</p>

<p>جسٹس گلزار نے کہا کہ 2018 سے کیس سپریم کورٹ میں ہے اب تک کوئی سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ نہیں بن سکا،جس پرسیکرٹری لوکل گورنمنٹ خیبرپختونخوا نے منصوبے کیلئے ایشیائی ترقیاتی بینک سے 475 ملین ڈالرز فراہم کئے جانے کا بتایا ۔</p>

<p>چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ معلوم ہے 400 ملین ڈالرز کتنے ہوتے ہیں؟ یہ رقم پورے خیبرپختونخواکو ملیں تو صوبے کی قسمت بدل جائے ،آپ کے پاس ویسٹ مینجمنٹ سے متعلق کیا پلان ہے ؟منصوبہ کب مکمل ہوگا؟ جس پر سیکرٹری لوکل گورنمنٹ نے منصوبہ 2024 میں مکمل ہونے کا بتایا ۔</p>

<p>چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ پاکستان کو بنے 72 سال ہو گئے، ابھی تک سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس نہیں بنے، آپ ملک میں نالے کھودنے کیلئے ایشیائی ترقیاتی بینک سے پیسے لیتے ہیں ،ملک میں نالے تک خود نہیں کھود سکتے ۔</p>

<p>چیف جسٹس نے کہا کہ ڈالرزسے امریکااورازبکستان سے استعمال شدہ مال لا کرلگائیں گے،یہ قسمت ہے پاکستان کی ، نالے کھودنے میں کون سی ٹیکنالوجی لگتی ہے کب خود کفیل ہوں گے؟،ویسٹ مینجمنٹ منصوبہ کبھی مکمل نہیں ہو گا،آپ کہتے ہیں پیسے آئیں تو منصوبہ بنائیں گے،  وسائل سے بھرپور کے پی میں صاف پانی موجود نہیں،  اگروزیراعلی اپنے لوگوں کوخود سہولت نہیں دے سکتے توحکومت چھوڑدیں۔</p>

<p>چیف جسٹس گلزار احمد نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخواکوبلا کرپوچھیں گے کہ عوام کوسہولت دینے کیلئے ایشیائی ترقیاتی بینک پیسہ کیوں دے رہا ہے؟ ۔</p>

<p>سپریم کورٹ نے خیبرپختونخوا حکومت کی ویسٹ مجمنٹ؟  سے متعلق رپورٹ مسترد کرتے ہوئے ایک ماہ میں پیشرفت رپورٹ طلب کرلی۔</p>

<p>چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ایک ماہ میں ویسٹ مینجمنٹ کے متعلق پراگریس رپورٹ جمع کرائیں ،اگررپورٹ سے مطمئن نا ہوئے تووزیر اعلی خیبرپختونخواکوطلب کریں گے،اگروزیراعلیٰ اپنے لوگوں کو خود سہولت نہیں دے سکتے توحکومت چھوڑدیں ۔</p>

<p>جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ بی آرٹی زیادہ اہم ہے یا عوام کو پینے کا صاف پانی مہیا کرنا؟بعدازاں عدالت نے سماعت ایک ماہ کیلئے ملتوی کردی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30248850</guid>
      <pubDate>Thu, 03 Dec 2020 14:51:29 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (Sajid Siddique)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2020/12/5fc8b515a20cc.png" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2020/12/5fc8b515a20cc.png"/>
        <media:title>
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
