<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 27 Apr 2026 10:51:27 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 27 Apr 2026 10:51:27 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>انڈیا کا سوشل میڈیا سے کورونا کی ’انڈین قسم‘ کے حوالے سے مواد ہٹانے کا حکم
</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30259365/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;انڈین حکومت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو کورونا وائرس کی ’انڈین قسم‘ کے حوالے سے مواد ہٹانے کا حکم دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پہلی بار وائرس کی بی ون 617 قسم گذشتہ سال انڈیا میں دریافت ہوئی تھی۔ اسے کورونا وائرس کی تباہ کن لہر کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے جس نے حالیہ ہفتوں میں جنوبی ایشیا کے ممالک کو بری طرح متاثر کیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ برطانیہ اور کم از کم 43 ممالک میں پھیل گیا ہے، جہاں ’وائرس کی انڈین قسم‘ وسیع پیمانے پر استعمال ہونے والی اصطلاح بن گئی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وزارت برائے الیکڑانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی جانب سے گذشتہ روز بھیجے گئے حکومتی حکم نامے سے کورونا کی نئی لہر سے ٹھیک طرح سے نہ نمٹنے کے الزامات پر حکومتی حساسیت ظاہر ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;حکم نامے میں وزارت نے سوشل میڈیا کمپنیوں سے کہا ہے کہ وہ ’انڈین قسم‘ سے متعلق تمام مواد ہٹائیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وزارت الیکڑانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی نے مزید کہا ہے کہ ’یہ بات ہمارے علم میں آئی ہے کہ ایک غلط بیان آن لائن گردش کر رہا ہے۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کورونا وائرس کی ’انڈین قسم‘ پورے ملک میں پھیل رہی ہے۔ یہ مکمل طور پر غلط ہے۔‘&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وزارت نے اس حکم کی اساس کے طور پر سوشل میڈیا پر وبا کے حوالے سے ’جعلی خبروں اور معلومات‘ کو روکنے کے اعلانات کا بھی حوالہ دیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس میں دلیل دی گئی ہے کہ عالمی ادارہ صحت نے بی ون 617 سے کسی ملک کو نہیں جوڑا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عالمی ادارہ صحت نے گذشتہ ہفتے وائرس کی نئی قسم کو ’عالمی تشویش‘ کا سبب قرار دیا تھا کیونکہ یہ پوری دنیا میں پھیل گئی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وائرس کی نئی قسم سامنے آنے کے بعد متعدد ممالک نے انڈیا سے آنے والے مسافروں پر پابندی لگا دی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انڈیا کی دائیں بازو کی حکومت کی وبا کی نئی لہر پر قابو پانے کی کوششوں کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ انڈیا کو آکیسجن، ویکسین، ہسپتال کے بستروں اور جان بچانے والی ادویات کی شدید قلت کا سامنا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ انڈیا میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں دو لاکھ 57 ہزار نئے کیسز سامنے آئے ہیں جبکہ چار ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس وقت انڈیا میں کورونا کے کیسز کی کل تعداد دو کروڑ 62 لاکھ ہے جبکہ ہلاکتوں کی تعداد دو لاکھ 95 ہزار سے زائد ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>انڈین حکومت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو کورونا وائرس کی ’انڈین قسم‘ کے حوالے سے مواد ہٹانے کا حکم دیا ہے۔</strong></p>

<p>فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پہلی بار وائرس کی بی ون 617 قسم گذشتہ سال انڈیا میں دریافت ہوئی تھی۔ اسے کورونا وائرس کی تباہ کن لہر کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے جس نے حالیہ ہفتوں میں جنوبی ایشیا کے ممالک کو بری طرح متاثر کیا ہے۔</p>

<p>یہ برطانیہ اور کم از کم 43 ممالک میں پھیل گیا ہے، جہاں ’وائرس کی انڈین قسم‘ وسیع پیمانے پر استعمال ہونے والی اصطلاح بن گئی ہے۔</p>

<p>وزارت برائے الیکڑانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی جانب سے گذشتہ روز بھیجے گئے حکومتی حکم نامے سے کورونا کی نئی لہر سے ٹھیک طرح سے نہ نمٹنے کے الزامات پر حکومتی حساسیت ظاہر ہوتی ہے۔</p>

<p>حکم نامے میں وزارت نے سوشل میڈیا کمپنیوں سے کہا ہے کہ وہ ’انڈین قسم‘ سے متعلق تمام مواد ہٹائیں۔</p>

<p>وزارت الیکڑانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی نے مزید کہا ہے کہ ’یہ بات ہمارے علم میں آئی ہے کہ ایک غلط بیان آن لائن گردش کر رہا ہے۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کورونا وائرس کی ’انڈین قسم‘ پورے ملک میں پھیل رہی ہے۔ یہ مکمل طور پر غلط ہے۔‘</p>

<p>وزارت نے اس حکم کی اساس کے طور پر سوشل میڈیا پر وبا کے حوالے سے ’جعلی خبروں اور معلومات‘ کو روکنے کے اعلانات کا بھی حوالہ دیا۔</p>

<p>اس میں دلیل دی گئی ہے کہ عالمی ادارہ صحت نے بی ون 617 سے کسی ملک کو نہیں جوڑا ہے۔</p>

<p>عالمی ادارہ صحت نے گذشتہ ہفتے وائرس کی نئی قسم کو ’عالمی تشویش‘ کا سبب قرار دیا تھا کیونکہ یہ پوری دنیا میں پھیل گئی ہے۔</p>

<p>وائرس کی نئی قسم سامنے آنے کے بعد متعدد ممالک نے انڈیا سے آنے والے مسافروں پر پابندی لگا دی ہے۔</p>

<p>انڈیا کی دائیں بازو کی حکومت کی وبا کی نئی لہر پر قابو پانے کی کوششوں کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ انڈیا کو آکیسجن، ویکسین، ہسپتال کے بستروں اور جان بچانے والی ادویات کی شدید قلت کا سامنا ہے۔</p>

<p>خیال رہے کہ انڈیا میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں دو لاکھ 57 ہزار نئے کیسز سامنے آئے ہیں جبکہ چار ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔</p>

<p>اس وقت انڈیا میں کورونا کے کیسز کی کل تعداد دو کروڑ 62 لاکھ ہے جبکہ ہلاکتوں کی تعداد دو لاکھ 95 ہزار سے زائد ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30259365</guid>
      <pubDate>Sun, 23 May 2021 13:29:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2021/05/60aa121d607d5.png" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2021/05/60aa121d607d5.png"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
