<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 25 Apr 2026 05:21:41 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 25 Apr 2026 05:21:41 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ای وی ایم پر صدارتی آرڈیننس کیخلاف درخواست پر جواب طلب
</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30260157/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد ہائیکورٹ نے الیکٹرانک ووٹنگ اوربیرون ملک مقیم پاکستانیوں کوحق رائے دہی دینے کے صدارتی آرڈیننس کیخلاف درخواست پروفاق ، الیکشن کمیشن اوروزارت قانون کونوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا جبکہ اٹارنی جنرل کوبھی عدالتی معاونت کے لیے نوٹس جاری کردیا ۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جسٹس عامر فاروق نے بیرسٹر محسن شاہ نواز رانجھا کی درخواست پر سماعت کی جس میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو حق رائے دہی دینے کے آرڈیننس کو چیلنج کیا گیا تھا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;درخواست گزار کے مطابق صدارتی آرڈیننس جاری کرکے عوامی نمائندوں کو قانون سازی کے حق سے محروم رکھا جاتا ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;صدر کا آرڈی نینس جاری کرنے کا اختیار ہنگامی صورت کے لیے ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;درخواست میں کہا گیا ہے کہ ہنگامی صورتحال کے بغیر صدارتی آرڈیننس جاری کرنا پارلیمنٹ کو بے توقیر کرنے کے مترادف ہے۔اہم نوعیت کی قانون سازی سے متعلق عوام یا عوامی نمائندوں کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;درخواست میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے آرڈیننس جاری کرنا معمول بنا لیا ہے، 24ستمبر 2018 سے اب تک حکومت 54 سے زائد صدارتی آرڈیننس جاری کرچکی ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عدالت نے صدارتی آرڈی نینسز سے متعلق تمام درخواستیں یکجا کر کے سماعت کے لیے مقرر کرنے کے لیے فائل چیف جسٹس کو بھجوا دی ۔ &lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد ہائیکورٹ نے الیکٹرانک ووٹنگ اوربیرون ملک مقیم پاکستانیوں کوحق رائے دہی دینے کے صدارتی آرڈیننس کیخلاف درخواست پروفاق ، الیکشن کمیشن اوروزارت قانون کونوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا جبکہ اٹارنی جنرل کوبھی عدالتی معاونت کے لیے نوٹس جاری کردیا ۔</p>

<p>جسٹس عامر فاروق نے بیرسٹر محسن شاہ نواز رانجھا کی درخواست پر سماعت کی جس میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو حق رائے دہی دینے کے آرڈیننس کو چیلنج کیا گیا تھا۔ </p>

<p>درخواست گزار کے مطابق صدارتی آرڈیننس جاری کرکے عوامی نمائندوں کو قانون سازی کے حق سے محروم رکھا جاتا ہے۔ </p>

<p>صدر کا آرڈی نینس جاری کرنے کا اختیار ہنگامی صورت کے لیے ہے۔ </p>

<p>درخواست میں کہا گیا ہے کہ ہنگامی صورتحال کے بغیر صدارتی آرڈیننس جاری کرنا پارلیمنٹ کو بے توقیر کرنے کے مترادف ہے۔اہم نوعیت کی قانون سازی سے متعلق عوام یا عوامی نمائندوں کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ </p>

<p>درخواست میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے آرڈیننس جاری کرنا معمول بنا لیا ہے، 24ستمبر 2018 سے اب تک حکومت 54 سے زائد صدارتی آرڈیننس جاری کرچکی ہے۔ </p>

<p>عدالت نے صدارتی آرڈی نینسز سے متعلق تمام درخواستیں یکجا کر کے سماعت کے لیے مقرر کرنے کے لیے فائل چیف جسٹس کو بھجوا دی ۔ </p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30260157</guid>
      <pubDate>Fri, 04 Jun 2021 18:50:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2021/06/60ba2f69257a1.png" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2021/06/60ba2f69257a1.png"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
