<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 29 Apr 2026 10:00:43 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 29 Apr 2026 10:00:43 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کراچی :556 خطرناک عمارتوں کی فہرست جاری
</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30261375/</link>
      <description>&lt;p&gt;سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے مون سون سے قبل کراچی میں رہائش کیلئے خطرناک عمارتوں کی فہرست جاری کردی، 556 مخدوش عمارتوں میں سے 429 صرف ضلع جنوبی میں واقع ہیں، لیاری 102 خطرناک عمارتوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے افسران اور تعمیراتی ماہرین پر مشتمل  ایس بی سی اے کی ڈینجرس کمیٹی نے  مون سون بارشوں سے قبل رہائش کیلئے خطرناک قرار دی گئی  عمارتوں کی فہرست جاری کردی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;گذشتہ برس کی 468 عمارتوں کی فہرست میں مزید 88 عمارتوں کا اضافہ ہوگیا۔  خطرناک قرار دی گئی عمارتوں میں سے  428 صرف صدر اور کلفٹن میں واقع ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;لیاری 102 خطرناک عمارتوں کے ساتھ  دوسرے نمبر پر اور ضلع وسطی 67 عمارتوں  کےساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق زیادہ تر عمارتیں سیوریج  کے پانی کی لیکج کے باعث خطرناک قرار دی  گئی ہیں، کمیٹی نے عمارتوں کو فوری   خالی کرانے کی سفارش بھی کی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے مون سون سے قبل کراچی میں رہائش کیلئے خطرناک عمارتوں کی فہرست جاری کردی، 556 مخدوش عمارتوں میں سے 429 صرف ضلع جنوبی میں واقع ہیں، لیاری 102 خطرناک عمارتوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔</p>

<p>سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے افسران اور تعمیراتی ماہرین پر مشتمل  ایس بی سی اے کی ڈینجرس کمیٹی نے  مون سون بارشوں سے قبل رہائش کیلئے خطرناک قرار دی گئی  عمارتوں کی فہرست جاری کردی۔</p>

<p>گذشتہ برس کی 468 عمارتوں کی فہرست میں مزید 88 عمارتوں کا اضافہ ہوگیا۔  خطرناک قرار دی گئی عمارتوں میں سے  428 صرف صدر اور کلفٹن میں واقع ہیں۔</p>

<p>لیاری 102 خطرناک عمارتوں کے ساتھ  دوسرے نمبر پر اور ضلع وسطی 67 عمارتوں  کےساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔</p>

<p>ذرائع کے مطابق زیادہ تر عمارتیں سیوریج  کے پانی کی لیکج کے باعث خطرناک قرار دی  گئی ہیں، کمیٹی نے عمارتوں کو فوری   خالی کرانے کی سفارش بھی کی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30261375</guid>
      <pubDate>Tue, 22 Jun 2021 19:05:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2021/06/60d1eda955e0a.png" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2021/06/60d1eda955e0a.png"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
