<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 29 Apr 2026 16:01:23 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 29 Apr 2026 16:01:23 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>برطانیہ: دفاعی ادارے کی خفیہ دستاویزات بس سٹاپ پر ملنے کا انکشاف
</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30261733/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;برطانیہ کے ایک بس اسٹاپ پر دفاعی ادارے کی خفیہ دستاویزات ملی ہیں۔ برطانوی حکومت اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ آخر یہ دستاویزات بس اسٹاپ تک کیسے پہنچیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق برطانوی حکومت کے مطابق ان دستاویزات میں جنگی جہاز کی کریمین ساحل میں نقل و حرکت کی تفصیلات درج تھیں جس پر روس نے انتباہی فائرنگ بھی کی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;برطانوی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ 'ایک ملازم نے پچھلے ہفتے بتایا تھا کہ دستاویزات کھو گئی ہیں جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کردیا گیا۔'&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر ایک شخص نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ’انہیں 50 صفحات پر مشتمل یہ خفیہ دستاویزات جنوبی انگلینڈ کے شہر کینٹ میں واقع بس اسٹاپ کے پیچھے سے ملیں ہیں۔‘&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بی بی سی کے مطابق ملنے والے دستاویزات میں کریمیا کے ساحل سے دور یوکرین کے سمندر سے گزرتے ہوئے برطانیہ کے ایچ ایم ایس ڈیفینڈر کے بارے میں ممکنہ روسی ردعمل پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://metro.co.uk/wp-content/uploads/2021/06/SEC_84913066.jpg?quality=90&amp;amp;strip=all"  alt="دی میٹرو" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;دی میٹرو&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;روس نے گذشتہ بدھ کو کہا تھا کہ اس نے بحیرہ اسود میں ایک جنگی جہاز پر انتباہی فائرنگ کی ہے۔ جس کے بعد انہوں نے کہا تھا کہ یہ اس کی سمندری حدود کی خلاف ورزی ہے۔‘&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم برطانیہ نے کہا ہے کہ وہ بین الااقومی قانون کے مطابق یوکرین کی سمندری حدود سے آرام سے گزر رہا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ماسکو کے مطابق ’یہ واقعہ کریمیا کے ساحل "کیپ فاؤلینٹ" پر پیش آیا تھا، جسے سنہ 2014 میں روس نے یوکرین سے علیحدہ کرنے کی کوشش کی تھی، تاہم اس اقدام کو عالمی برداری کی جانب سے تسلیم نہیں کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دستاویز سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ برطانوی عہداروں کو یہ معلوم تھا کہ اس راستے پر سفر روسیوں کے ممکنہ ردعمل کا سبب بن سکتا ہے، تاہم ماسکو متبادل راستہ اختیار کرنے کو ’برطانیہ کا خوف یا ڈر کے فرار ہونا سمجھ سکتا تھا۔‘&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;روس کے وزارت خارجہ نے جمعرات کو برطانوی سفیر کو طلب کر کے اس واقعے کے خلاف احتجاج بھی کیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>برطانیہ کے ایک بس اسٹاپ پر دفاعی ادارے کی خفیہ دستاویزات ملی ہیں۔ برطانوی حکومت اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ آخر یہ دستاویزات بس اسٹاپ تک کیسے پہنچیں۔</strong></p>

<p>فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق برطانوی حکومت کے مطابق ان دستاویزات میں جنگی جہاز کی کریمین ساحل میں نقل و حرکت کی تفصیلات درج تھیں جس پر روس نے انتباہی فائرنگ بھی کی تھی۔</p>

<p>برطانوی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ 'ایک ملازم نے پچھلے ہفتے بتایا تھا کہ دستاویزات کھو گئی ہیں جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کردیا گیا۔'</p>

<p>نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر ایک شخص نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ’انہیں 50 صفحات پر مشتمل یہ خفیہ دستاویزات جنوبی انگلینڈ کے شہر کینٹ میں واقع بس اسٹاپ کے پیچھے سے ملیں ہیں۔‘</p>

<p>بی بی سی کے مطابق ملنے والے دستاویزات میں کریمیا کے ساحل سے دور یوکرین کے سمندر سے گزرتے ہوئے برطانیہ کے ایچ ایم ایس ڈیفینڈر کے بارے میں ممکنہ روسی ردعمل پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔</p>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://metro.co.uk/wp-content/uploads/2021/06/SEC_84913066.jpg?quality=90&amp;strip=all"  alt="دی میٹرو" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">دی میٹرو</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>روس نے گذشتہ بدھ کو کہا تھا کہ اس نے بحیرہ اسود میں ایک جنگی جہاز پر انتباہی فائرنگ کی ہے۔ جس کے بعد انہوں نے کہا تھا کہ یہ اس کی سمندری حدود کی خلاف ورزی ہے۔‘</p>

<p>تاہم برطانیہ نے کہا ہے کہ وہ بین الااقومی قانون کے مطابق یوکرین کی سمندری حدود سے آرام سے گزر رہا تھا۔</p>

<p>ماسکو کے مطابق ’یہ واقعہ کریمیا کے ساحل "کیپ فاؤلینٹ" پر پیش آیا تھا، جسے سنہ 2014 میں روس نے یوکرین سے علیحدہ کرنے کی کوشش کی تھی، تاہم اس اقدام کو عالمی برداری کی جانب سے تسلیم نہیں کیا گیا تھا۔</p>

<p>دستاویز سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ برطانوی عہداروں کو یہ معلوم تھا کہ اس راستے پر سفر روسیوں کے ممکنہ ردعمل کا سبب بن سکتا ہے، تاہم ماسکو متبادل راستہ اختیار کرنے کو ’برطانیہ کا خوف یا ڈر کے فرار ہونا سمجھ سکتا تھا۔‘</p>

<p>روس کے وزارت خارجہ نے جمعرات کو برطانوی سفیر کو طلب کر کے اس واقعے کے خلاف احتجاج بھی کیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30261733</guid>
      <pubDate>Mon, 28 Jun 2021 11:40:46 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2021/06/60d96ec19da9b.png" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2021/06/60d96ec19da9b.png"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
