<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 00:58:22 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 00:58:22 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>گستاخانہ خاکے بنانے والے فنکار کی دورانِ نیند موت واقع
</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30263179/</link>
      <description>&lt;p&gt;گستاخانہ خاکے بنانے والا ڈینش فنکار کرٹ ویسٹر گارڈکی 86برس کی عمر میں موت واقع ہوگئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خاندنی ذرائع نے ڈینش اخباربرلنگسکے کو اتوار کو بتایا کہ طویل عرصے سے علیل ویسٹرگارڈ کی موت دورانِ نیند واقع ہوئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;روزنامہ جیلینڈز پوسٹن میں شائع ہونے والے 12 گستاخانہ خاکے ویسٹر گارڈ نے ہی بنائے تھےجن کی اشاعت کے بعد سے مسلمان ممالک میں شدید احتجاج کی لہر دوڑی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;شروع میں تو خاکوں کو توجہ نہیں ملی لیکن دو ہفتوں بعد روزنامے کےخلاف کوپنہیگن میں مظاہرہ ہوا اور بعدازاں ڈینمارک میں تعینات مسلم ممالک کے سفراء نےاحتجاج ریکارڈ کرایا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;فروری 2006 میں مسلم ممالک میں گستاخانہ خاکوں کے خلاف غم و غصہ ڈینمارک مخالف مظاہروں کی شکل اختیار کرگیا جن میں سے کچھ مظاہرے پرتشدد بھی ہوگئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان واقعات نے ڈینمارک اور باقی دنیا میں اسلاموفوبیا اور آزادی اظہارِ رائے کی حدود اور مذہب کی بحث چھیڑ دی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;برلنگسکے کے مطابق مذکورہ گستاخانہ خاکے ایک بار پہلے بھی چھاپے جاچکے تھے لیکن اس وقت اتنا تنازعہ نہیں کھڑا ہوا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>گستاخانہ خاکے بنانے والا ڈینش فنکار کرٹ ویسٹر گارڈکی 86برس کی عمر میں موت واقع ہوگئی۔</p>

<p>خاندنی ذرائع نے ڈینش اخباربرلنگسکے کو اتوار کو بتایا کہ طویل عرصے سے علیل ویسٹرگارڈ کی موت دورانِ نیند واقع ہوئی۔</p>

<p>روزنامہ جیلینڈز پوسٹن میں شائع ہونے والے 12 گستاخانہ خاکے ویسٹر گارڈ نے ہی بنائے تھےجن کی اشاعت کے بعد سے مسلمان ممالک میں شدید احتجاج کی لہر دوڑی۔</p>

<p>شروع میں تو خاکوں کو توجہ نہیں ملی لیکن دو ہفتوں بعد روزنامے کےخلاف کوپنہیگن میں مظاہرہ ہوا اور بعدازاں ڈینمارک میں تعینات مسلم ممالک کے سفراء نےاحتجاج ریکارڈ کرایا۔</p>

<p>فروری 2006 میں مسلم ممالک میں گستاخانہ خاکوں کے خلاف غم و غصہ ڈینمارک مخالف مظاہروں کی شکل اختیار کرگیا جن میں سے کچھ مظاہرے پرتشدد بھی ہوگئے۔</p>

<p>ان واقعات نے ڈینمارک اور باقی دنیا میں اسلاموفوبیا اور آزادی اظہارِ رائے کی حدود اور مذہب کی بحث چھیڑ دی۔</p>

<p>برلنگسکے کے مطابق مذکورہ گستاخانہ خاکے ایک بار پہلے بھی چھاپے جاچکے تھے لیکن اس وقت اتنا تنازعہ نہیں کھڑا ہوا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30263179</guid>
      <pubDate>Mon, 19 Jul 2021 20:50:50 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مہدی قاضی)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2021/07/60f59df3ad262.png" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2021/07/60f59df3ad262.png"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
