<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 03 May 2026 11:34:52 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 03 May 2026 11:34:52 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>افغانستان :طالبات کو تعلیم کی اجازت نہ  ہونے کی افواہ گرم
</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30267188/</link>
      <description>&lt;p&gt;سوشل میڈیا پر طالبان کی جانب سے صرف لڑکوں کو  تعلیم کی اجازت دینے کی افواہ گرم ہے۔ اور ایسا منظرنامہ پیش کیا جارہا ہے کہ طالبات کو تعلیم کی اجازت طالبان کے دورہ حکومت میں نہیں ہوگی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سوشل میڈیا پر افواہ چل رہی ہے کہ طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد وزارت تعلیم کی جانب سے اعلامیہ جاری کیا گیا ہے ۔ &lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/FawziaKoofi77/status/1438845178220097538"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ صرف پرائمری ، سیکینڈری اور ہائی اسکول کے لڑکے ہی پڑھنے آسکتے ہیں ۔لیکن وائرل ہونے والے اعلامیے میں یہ بیان نہیں کیا گیا کہ طالبات تعلیم حاصل کرنے آسکتی ہیں یا نہیں۔			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم اس نوعیت کا کوئی اعلامیہ تاحال افغان وزارت تعلیم کے ٹوئیٹر اکاونٹ پر موجود نہیں ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پہلے طالبان کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ لڑکیاں اپنی تعلیم جاری رکھ سکتی ہیں لیکن تعلیم کے دوران انکے لئے مخصوص لباس لازمی ہوگا اور انکی کلاسیں بھی علیحدہ ہوں گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ  طالبان کی جانب سے اس حوالے سے ابھی تک کوئی وضاحت جاری نہیں کی گئی ہے ۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسری جانب &lt;a href="https://www.rescue.org/press-release/almost-4-million-children-missing-out-school-afghanistan-teeters-brink-humanitarian"&gt;آئی آر سی نامی ادارے کی جانب سے عالمی رہنماوں سے&lt;/a&gt; تعلیم حاصل کرنے والی افغان طالبا ت کی مالی اور سفارتی امداد کی اپیل کی گئی ہے۔ طالبان کی جانب سے طالبات کو اجازت دی گئی ہے کہ وہ اپنی تعلیم جاری رکھ سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جس کے بعد اب آئی آر سی کی جانب سے یہ اپیل کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سوشل میڈیا پر طالبان کی جانب سے صرف لڑکوں کو  تعلیم کی اجازت دینے کی افواہ گرم ہے۔ اور ایسا منظرنامہ پیش کیا جارہا ہے کہ طالبات کو تعلیم کی اجازت طالبان کے دورہ حکومت میں نہیں ہوگی۔</p>

<p>سوشل میڈیا پر افواہ چل رہی ہے کہ طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد وزارت تعلیم کی جانب سے اعلامیہ جاری کیا گیا ہے ۔ </p>

<figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/FawziaKoofi77/status/1438845178220097538"></a>
            </blockquote></div>
				
			</figure>
<p>اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ صرف پرائمری ، سیکینڈری اور ہائی اسکول کے لڑکے ہی پڑھنے آسکتے ہیں ۔لیکن وائرل ہونے والے اعلامیے میں یہ بیان نہیں کیا گیا کہ طالبات تعلیم حاصل کرنے آسکتی ہیں یا نہیں۔			</p>

<p>تاہم اس نوعیت کا کوئی اعلامیہ تاحال افغان وزارت تعلیم کے ٹوئیٹر اکاونٹ پر موجود نہیں ہے۔</p>

<p>پہلے طالبان کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ لڑکیاں اپنی تعلیم جاری رکھ سکتی ہیں لیکن تعلیم کے دوران انکے لئے مخصوص لباس لازمی ہوگا اور انکی کلاسیں بھی علیحدہ ہوں گی۔</p>

<p>واضح رہے کہ  طالبان کی جانب سے اس حوالے سے ابھی تک کوئی وضاحت جاری نہیں کی گئی ہے ۔ </p>

<p>دوسری جانب <a href="https://www.rescue.org/press-release/almost-4-million-children-missing-out-school-afghanistan-teeters-brink-humanitarian">آئی آر سی نامی ادارے کی جانب سے عالمی رہنماوں سے</a> تعلیم حاصل کرنے والی افغان طالبا ت کی مالی اور سفارتی امداد کی اپیل کی گئی ہے۔ طالبان کی جانب سے طالبات کو اجازت دی گئی ہے کہ وہ اپنی تعلیم جاری رکھ سکتی ہیں۔</p>

<p>جس کے بعد اب آئی آر سی کی جانب سے یہ اپیل کی گئی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30267188</guid>
      <pubDate>Fri, 17 Sep 2021 23:02:25 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2021/09/6144f6855b92f.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2021/09/6144f6855b92f.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
