<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Life &amp; Style</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 30 Apr 2026 06:29:56 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 30 Apr 2026 06:29:56 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>عنبرین فاطمہ نے صحافی احمد نورانی پرخلع کا مقدمہ دائر کر دیا
</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30272571/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سوشل میڈیا پر صحافی احمد  نورانی اور ان کی اہلیہ کے ازدواجی رشتے  اور عنبرین فاطمہ پر حملے سے متعلق مختلف خبریں گردش کر رہی ہیں جن کو صحافی کی حالیہ وڈیو لیک رپورٹ کے ساتھ منسلک کیا جا رہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس حوالے سے احمد نورانی نے ایک ٹوئٹ  میں واضح کیا ہےکہ میڈیا کے کچھ لوگ اوران کے دوست عنبرین پر حملے کے  واقعے کوان کی تحقیقاتی خبر سے جوڑنے کی کوشش کرہے ہں ، جو درست نہیں ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/Ahmad_Noorani/status/1463953461641367558?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بی بی سی کی &lt;a href="https://www.bbc.com/urdu/pakistan-59419252"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt; کے مطابق احمد کی اہلیہ پر حملہ کرنےوالے شخص کے خلاف پنجاب پولسں نے مقدمہ درج کرلیا ہے ۔پولیس کا کہنا ہے کہ  متعلقہ ایس پی کی سربراہی مں  ٹیم  کیمروں کی مدد سے ملزم کی شناخت اور گرفتاری پر کام کر رہی ہے ۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;غیر ملکی خبر رساں ادارے  سے بات کرتے ہوئے عنبرین کا کہنا تھاکہ ان کی گاڑی پر حملہ تقریبا  رات ساڑھے آٹھ بجے لاہور مں  ان کے گھر کے قریب ہوا۔ نامعلوم حملہ آور انھیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دیتا ہوا وہاں سے چلا گا ۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عنبرین  گذشتہ سولہ  برس سے صحافت سے  وابستہ ہیں۔  انہوں نے بی بی سی کو مزید بتایا کہ اس سے پہلے انھیں کبھی اس قسم کے واقعے کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسری جانب  انڈپنڈنٹ اردو نے اسی معاملے پر 27 نومبر کو احمد نورانی سے &lt;a href="https://www.independenturdu.com/node/86306"&gt;رابطہ&lt;/a&gt; کیا تو انہوں نے  انکشاف کیا "عنبرین اب میری اہلیہ نہیں ہیں"۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;احمد نے غیر ملکی خبر رساں ادارے کو   بتایا کہ  عنبرین کی طرف  سے پہلے طلاق کا تحریری مطالبہ کیا گیا اور بعد مں  اس حوالے سے تقریباً ہر چند گھنٹے کے وقفے سے علیحدگی کےلئے مسلسل تحریری طور پر اصرار  کیا گیا۔ ان سب حالات میں" اس سال کے اوائل مں  ہمارے درمیان طلاق ہو گئی تھی"۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسی ضمن میں 30 نومبر کو عنبرین نے ٹوئٹ میں ایک دستاویز شئیر کرتے ہوئے لکھا  "کبھی نہ تین حرف بولے نہ کوئی پیپر بھیجا، نکاح میں ہونے کےباوجود کہا گیا  کہ مجھےطلاق دے دی گئی ہےاور باقاعدہ یہ چیز اسٹیبلش کی گئی ہے۔"&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ اس ذلت کے بعد اس رشتے میں رہنا میرے لئے ناممکن تھا اس لئے میں"خلع" کادعوی دائر کرنے پر مجبور ہوگئی ۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/AmbreenFatimaAA/status/1465712687896092681?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سوشل میڈیا پر صحافی احمد  نورانی اور ان کی اہلیہ کے ازدواجی رشتے  اور عنبرین فاطمہ پر حملے سے متعلق مختلف خبریں گردش کر رہی ہیں جن کو صحافی کی حالیہ وڈیو لیک رپورٹ کے ساتھ منسلک کیا جا رہا ہے۔</strong></p>

<p>اس حوالے سے احمد نورانی نے ایک ٹوئٹ  میں واضح کیا ہےکہ میڈیا کے کچھ لوگ اوران کے دوست عنبرین پر حملے کے  واقعے کوان کی تحقیقاتی خبر سے جوڑنے کی کوشش کرہے ہں ، جو درست نہیں ہے۔</p>

<figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/Ahmad_Noorani/status/1463953461641367558?s=20"></a>
            </blockquote></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>بی بی سی کی <a href="https://www.bbc.com/urdu/pakistan-59419252">رپورٹ</a> کے مطابق احمد کی اہلیہ پر حملہ کرنےوالے شخص کے خلاف پنجاب پولسں نے مقدمہ درج کرلیا ہے ۔پولیس کا کہنا ہے کہ  متعلقہ ایس پی کی سربراہی مں  ٹیم  کیمروں کی مدد سے ملزم کی شناخت اور گرفتاری پر کام کر رہی ہے ۔</p>

<p>غیر ملکی خبر رساں ادارے  سے بات کرتے ہوئے عنبرین کا کہنا تھاکہ ان کی گاڑی پر حملہ تقریبا  رات ساڑھے آٹھ بجے لاہور مں  ان کے گھر کے قریب ہوا۔ نامعلوم حملہ آور انھیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دیتا ہوا وہاں سے چلا گا ۔</p>

<p>عنبرین  گذشتہ سولہ  برس سے صحافت سے  وابستہ ہیں۔  انہوں نے بی بی سی کو مزید بتایا کہ اس سے پہلے انھیں کبھی اس قسم کے واقعے کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔</p>

<p>دوسری جانب  انڈپنڈنٹ اردو نے اسی معاملے پر 27 نومبر کو احمد نورانی سے <a href="https://www.independenturdu.com/node/86306">رابطہ</a> کیا تو انہوں نے  انکشاف کیا "عنبرین اب میری اہلیہ نہیں ہیں"۔</p>

<p>احمد نے غیر ملکی خبر رساں ادارے کو   بتایا کہ  عنبرین کی طرف  سے پہلے طلاق کا تحریری مطالبہ کیا گیا اور بعد مں  اس حوالے سے تقریباً ہر چند گھنٹے کے وقفے سے علیحدگی کےلئے مسلسل تحریری طور پر اصرار  کیا گیا۔ ان سب حالات میں" اس سال کے اوائل مں  ہمارے درمیان طلاق ہو گئی تھی"۔</p>

<p>اسی ضمن میں 30 نومبر کو عنبرین نے ٹوئٹ میں ایک دستاویز شئیر کرتے ہوئے لکھا  "کبھی نہ تین حرف بولے نہ کوئی پیپر بھیجا، نکاح میں ہونے کےباوجود کہا گیا  کہ مجھےطلاق دے دی گئی ہےاور باقاعدہ یہ چیز اسٹیبلش کی گئی ہے۔"</p>

<p>انہوں نے مزید کہا کہ اس ذلت کے بعد اس رشتے میں رہنا میرے لئے ناممکن تھا اس لئے میں"خلع" کادعوی دائر کرنے پر مجبور ہوگئی ۔</p>

<figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/AmbreenFatimaAA/status/1465712687896092681?s=20"></a>
            </blockquote></div>
				
			</figure>
<p>			</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30272571</guid>
      <pubDate>Wed, 01 Dec 2021 16:17:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2021/12/61a75735e96ef.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="1558" width="1040">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2021/12/61a75735e96ef.jpg"/>
        <media:title>احمد نے غیر ملکی خبر رساں ادارے کو   بتایا کہ  عنبرین کی طرف  سے پہلے طلاق کا تحریری مطالبہ کیا گیا۔
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
