<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 04:33:41 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 04:33:41 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>قومی اسمبلی کا اجلاس، منی بل کی بازگشت
</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30274835/</link>
      <description>&lt;p&gt;قومی اسمبلی اجلاس میں منی بل کی بازگشت سنائی دی گئی ہے۔ اجلاس میں وزیر خارجہ  شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ سب کو پتا ہے ملک کی مالی مشکلات کے پیچھے کون سے عوامل ہیں جبکہ اپوزیشن نے کہا کہ ہم منی بجٹ کی بھرپور مخالفت کریں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی صدارت میں منعقد ہوا، اجلاس میں نکتہ اعتراض پرسابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کا کہنا تھا کہ اسمبلی کے اندر اور باہر منی بل پر تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا مزید کہنا تھا کہ  مہنگائی، بیروزگاری نے عوام کا برا حال کردیا ہے، منی بل عوام کے دکھوں میں مزید اضافہ کرے گا، عوام کا پہلے ہی کوئی پرسان حال نہیں ہے۔  &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جس پر ڈپٹی اسپیکر قاسم خان سوری کا کہنا تھا کہ ابھی تک کوئی منی بجٹ پیش نہیں ہوا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اجلاس میں خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ16 دسمبر 1971 میں ایک سرنڈر ہوا تھا جس سے ملک دو لخت ہوا لیکن اس کے بعدد بھی قائم رہا، اب ہم منی بجٹ کے ذریعہ اپنی معاشی خودمختاری سرنڈر کر رہے ہیں، سٹیٹ بینک آئی ایم ایف کی لوکل برانچ بن چکا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ  گورنر سٹیٹ بینک وائسرائے بن چکے پاکستان کو مالیاتی اداروں کی کالونی بنایا جارہا ہے یہ سرنڈر 1971 سے زیادہ خطرناک ہوگا، ہم اس منی بل کی بھرپور مخالفت کریں گے،معاشی خودمختاری سرنڈر نہ کریں، تین مہینے بعد حکومت دوبارہ اسی مقام پر کھڑی ہوگی اس کے بعد پاکستان کی نیوکلیئر طاقت واپس لی جائے گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ  منی بجٹ اور سٹیٹ بینک کا بل منظور نہ کریں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ آج پاکستان جن مالی مشکلات کا شکار ہے اس کے پیچھے کون سے عوامل کارفرما ہیں؟ آج جو گردشی قرضہ ہے، جو مسائل ہیں اس پر سنجیدہ غور و فکر کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اجلاس میں کہا گیا کہ اپوزیشن ارکان کو پاکستان کی معاشی خودمختاری پر تشویش ہے گزشتہ تین سال میں میکرو اکنامک اعشاریے نہیں بگڑے پاکستان کی معاشی خودمختاری کی حفاظت اس ایوان کی ذمہ داری ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;شاہ محمود قریشی نے مزید کہا کہ پاکستان کی ایٹمی طاقت پر قومی اتفاق تھا اور رہے گا پاکستان کی ایٹمی طاقت پر کمپرومائز سے متعلق تمام وسوسے دل سے نکال دیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;شاہ محمود قریشی کی تقریر کے دوران اپوزیشن نے کورم کی نشاندہی کردی لیکن گنتی پرکورم پورا نکلا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بعدازاں شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ اس ایوان کو فعال دیکھنا ہے تو بار بار کورم کی نشان دہی مفاد میں نہیں ہے اپوزیشن فراخ دلی کا مظاہرہ کرے تو معاملات بہتر انداز میں آگے بڑھ سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وقفہ سوالات کے دوران علی محمد خان کی طرف سے ایوان کو بتایا گیا کہ پی ٹی ڈی سی اور سیاحت کے شعبے کو مکمل طور پر صوبوں کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، مرکزی سطح پر ٹورزم بورڈ کام کرے گا،وزیراعظم یا وفاقی کابینہ کے لیے کوئی نئی گاڑی نہیں خریدی گئی، زرتاج گل نے کہا کہ ساڑھے تین سال میں جو موسمیاتی تبدیلی میں کام ہوا اس کو دنیا مان رہی ہے،ہم نے اینٹوں کے بھٹوں کو ٹیکنالوجی پر منتقل کیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بعدازاں سپیکر نے ایوان کا اجلاس کل سپہر 4 بجے تک ملتوی کردیا۔ &lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>قومی اسمبلی اجلاس میں منی بل کی بازگشت سنائی دی گئی ہے۔ اجلاس میں وزیر خارجہ  شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ سب کو پتا ہے ملک کی مالی مشکلات کے پیچھے کون سے عوامل ہیں جبکہ اپوزیشن نے کہا کہ ہم منی بجٹ کی بھرپور مخالفت کریں گے۔</p>

<p>قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی صدارت میں منعقد ہوا، اجلاس میں نکتہ اعتراض پرسابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کا کہنا تھا کہ اسمبلی کے اندر اور باہر منی بل پر تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے۔</p>

<p>ان کا مزید کہنا تھا کہ  مہنگائی، بیروزگاری نے عوام کا برا حال کردیا ہے، منی بل عوام کے دکھوں میں مزید اضافہ کرے گا، عوام کا پہلے ہی کوئی پرسان حال نہیں ہے۔  </p>

<p>جس پر ڈپٹی اسپیکر قاسم خان سوری کا کہنا تھا کہ ابھی تک کوئی منی بجٹ پیش نہیں ہوا۔</p>

<p>اجلاس میں خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ16 دسمبر 1971 میں ایک سرنڈر ہوا تھا جس سے ملک دو لخت ہوا لیکن اس کے بعدد بھی قائم رہا، اب ہم منی بجٹ کے ذریعہ اپنی معاشی خودمختاری سرنڈر کر رہے ہیں، سٹیٹ بینک آئی ایم ایف کی لوکل برانچ بن چکا ہے۔</p>

<p>انہوں نے مزید کہا کہ  گورنر سٹیٹ بینک وائسرائے بن چکے پاکستان کو مالیاتی اداروں کی کالونی بنایا جارہا ہے یہ سرنڈر 1971 سے زیادہ خطرناک ہوگا، ہم اس منی بل کی بھرپور مخالفت کریں گے،معاشی خودمختاری سرنڈر نہ کریں، تین مہینے بعد حکومت دوبارہ اسی مقام پر کھڑی ہوگی اس کے بعد پاکستان کی نیوکلیئر طاقت واپس لی جائے گی۔</p>

<p>انہوں نے مزید کہا کہ  منی بجٹ اور سٹیٹ بینک کا بل منظور نہ کریں۔ </p>

<p>وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ آج پاکستان جن مالی مشکلات کا شکار ہے اس کے پیچھے کون سے عوامل کارفرما ہیں؟ آج جو گردشی قرضہ ہے، جو مسائل ہیں اس پر سنجیدہ غور و فکر کی ضرورت ہے۔</p>

<p>اجلاس میں کہا گیا کہ اپوزیشن ارکان کو پاکستان کی معاشی خودمختاری پر تشویش ہے گزشتہ تین سال میں میکرو اکنامک اعشاریے نہیں بگڑے پاکستان کی معاشی خودمختاری کی حفاظت اس ایوان کی ذمہ داری ہے۔</p>

<p>شاہ محمود قریشی نے مزید کہا کہ پاکستان کی ایٹمی طاقت پر قومی اتفاق تھا اور رہے گا پاکستان کی ایٹمی طاقت پر کمپرومائز سے متعلق تمام وسوسے دل سے نکال دیں۔ </p>

<p>شاہ محمود قریشی کی تقریر کے دوران اپوزیشن نے کورم کی نشاندہی کردی لیکن گنتی پرکورم پورا نکلا۔</p>

<p>بعدازاں شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ اس ایوان کو فعال دیکھنا ہے تو بار بار کورم کی نشان دہی مفاد میں نہیں ہے اپوزیشن فراخ دلی کا مظاہرہ کرے تو معاملات بہتر انداز میں آگے بڑھ سکتے ہیں۔</p>

<p>وقفہ سوالات کے دوران علی محمد خان کی طرف سے ایوان کو بتایا گیا کہ پی ٹی ڈی سی اور سیاحت کے شعبے کو مکمل طور پر صوبوں کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، مرکزی سطح پر ٹورزم بورڈ کام کرے گا،وزیراعظم یا وفاقی کابینہ کے لیے کوئی نئی گاڑی نہیں خریدی گئی، زرتاج گل نے کہا کہ ساڑھے تین سال میں جو موسمیاتی تبدیلی میں کام ہوا اس کو دنیا مان رہی ہے،ہم نے اینٹوں کے بھٹوں کو ٹیکنالوجی پر منتقل کیا ہے۔</p>

<p>بعدازاں سپیکر نے ایوان کا اجلاس کل سپہر 4 بجے تک ملتوی کردیا۔ </p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30274835</guid>
      <pubDate>Wed, 29 Dec 2021 19:19:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2021/12/61cc6e5a6df17.png" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2021/12/61cc6e5a6df17.png"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
