<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Life &amp; Style</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 05 May 2026 03:59:58 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 05 May 2026 03:59:58 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نصرت فتح علی خان کے انتقال کے 24 سال بعد مزار کی تعمیر مکمل
</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30277168/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;معروف قوال اور اور گائیکی کی دنیا میں اپنا الگ مقام بنانے والے نصرت فتح علی خان کے انتقال کے 24 سال بعد ان کے مزار کی تعمیر مکمل ہو گئی۔&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ مقبرہ  نصرت فتح علی خان کے بھتیجے اور عالمی شہرت یافتہ موسیقار راحت علی خان نے تعمیر کروایا تھا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جھنگ روڈ قبرستان میں واقع مشہور قوال کا مقبرہ نصرت فتح علی خان کے خاندان کے دیگر افراد بشمول ان کی اہلیہ اور والدین کے ساتھ ساتھ راحت کے والد فرخ فتح علی خان کی آخری آرام گاہ ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اگست 1997 میں جب نصرت کا انتقال ہوا تو ان کی وصیت کے مطابق انہیں اپنے والدین کی آخری آرام گاہ کے قریب سپرد خاک کیا گیا لیکن جب مزار کی تعمیر مکمل ہوئی تو راحت علی خان  نے ذاتی طور پر کی نگرانی کی۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دی انڈیپنڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے گلوکار نے کہا کہ انہوں نے یہ مقبرہ خود تعمیر کیا ہے اور اس کے لیے کسی نے کوئی مالی امداد نہیں کی جبکہ راحت نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ اللہ کے فضل سے ہم اسے پایہ تکمیل تک پہنچا چکے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/indyurdu/status/1486329987401719817?s=20&amp;amp;t=mUYKBBJFRGEbX0sr8AW4tg"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ وہ نصرت فتح علی خان  کے شاگرد طاہر رفیق گوہر کے مشکور ہیں جنہوں نے اس مزار کو ممکن بنانے کے لیے دن رات محنت کی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;معروف موسیقار کے مزار کی تعمیر میں حکومت کے کردار کے بارے میں بات کرتے ہوئے راحت نے انکشاف کیا کہ آصف علی زرداری کے دور میں اس معاملے کے حوالے سے کچھ رفتار تھی۔ تاہم زرداری کی حکومت کے بعد آنے والی کسی بھی حکومت نے مزار کی تکمیل پر کوئی توجہ نہیں دی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا الحمدللہ، ہمیں اس کی [مالی امداد] کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ اور نصرت کے فن کے فنکار کو کسی کی مدد کی ضرورت نہیں ہوتی۔ وہ روحانی شخصیت تھے اور ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عالمی شہرت یافتہ موسیقار راحت علی خان  نے کہا کہ گزشتہ سال میں نے یہی درخواست کی تھی کہ خان صاحب کے آبائی گھر جہاں وہ پیدا ہوئے تھے اسے میوزیم کا درجہ دیا جائے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;راحت نے مزید کہا کہ نصرت فتح علی خان اور ان کے خاندان کے دیگر بزرگوں کے آثار اس میوزیم میں رکھے جا سکتے ہیں تاکہ اندرون و بیرون ملک سے ان کے مداح اس جگہ کا دورہ کر سکیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>معروف قوال اور اور گائیکی کی دنیا میں اپنا الگ مقام بنانے والے نصرت فتح علی خان کے انتقال کے 24 سال بعد ان کے مزار کی تعمیر مکمل ہو گئی۔</strong> </p>

<p>یہ مقبرہ  نصرت فتح علی خان کے بھتیجے اور عالمی شہرت یافتہ موسیقار راحت علی خان نے تعمیر کروایا تھا۔ </p>

<p>جھنگ روڈ قبرستان میں واقع مشہور قوال کا مقبرہ نصرت فتح علی خان کے خاندان کے دیگر افراد بشمول ان کی اہلیہ اور والدین کے ساتھ ساتھ راحت کے والد فرخ فتح علی خان کی آخری آرام گاہ ہے۔</p>

<p>اگست 1997 میں جب نصرت کا انتقال ہوا تو ان کی وصیت کے مطابق انہیں اپنے والدین کی آخری آرام گاہ کے قریب سپرد خاک کیا گیا لیکن جب مزار کی تعمیر مکمل ہوئی تو راحت علی خان  نے ذاتی طور پر کی نگرانی کی۔ </p>

<p>دی انڈیپنڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے گلوکار نے کہا کہ انہوں نے یہ مقبرہ خود تعمیر کیا ہے اور اس کے لیے کسی نے کوئی مالی امداد نہیں کی جبکہ راحت نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ اللہ کے فضل سے ہم اسے پایہ تکمیل تک پہنچا چکے ہیں۔</p>

<figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/indyurdu/status/1486329987401719817?s=20&amp;t=mUYKBBJFRGEbX0sr8AW4tg"></a>
            </blockquote></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>انہوں نے کہا کہ وہ نصرت فتح علی خان  کے شاگرد طاہر رفیق گوہر کے مشکور ہیں جنہوں نے اس مزار کو ممکن بنانے کے لیے دن رات محنت کی۔</p>

<p>معروف موسیقار کے مزار کی تعمیر میں حکومت کے کردار کے بارے میں بات کرتے ہوئے راحت نے انکشاف کیا کہ آصف علی زرداری کے دور میں اس معاملے کے حوالے سے کچھ رفتار تھی۔ تاہم زرداری کی حکومت کے بعد آنے والی کسی بھی حکومت نے مزار کی تکمیل پر کوئی توجہ نہیں دی۔</p>

<p>انہوں نے مزید کہا الحمدللہ، ہمیں اس کی [مالی امداد] کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ اور نصرت کے فن کے فنکار کو کسی کی مدد کی ضرورت نہیں ہوتی۔ وہ روحانی شخصیت تھے اور ہیں۔</p>

<p>عالمی شہرت یافتہ موسیقار راحت علی خان  نے کہا کہ گزشتہ سال میں نے یہی درخواست کی تھی کہ خان صاحب کے آبائی گھر جہاں وہ پیدا ہوئے تھے اسے میوزیم کا درجہ دیا جائے۔ </p>

<p>راحت نے مزید کہا کہ نصرت فتح علی خان اور ان کے خاندان کے دیگر بزرگوں کے آثار اس میوزیم میں رکھے جا سکتے ہیں تاکہ اندرون و بیرون ملک سے ان کے مداح اس جگہ کا دورہ کر سکیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30277168</guid>
      <pubDate>Fri, 28 Jan 2022 15:56:55 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (Khateeb Ahmed)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2022/01/61f3c438c367b.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="720" width="1280">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2022/01/61f3c438c367b.jpg"/>
        <media:title>اگست 1997 میں جب نصرت کا انتقال ہوا تو ان کی وصیت کے مطابق انہیں اپنے والدین کی آخری آرام گاہ کے قریب سپرد خاک کیا گیا۔
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
