<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Technology</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 21:38:47 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 21:38:47 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فیس بُک کا پلیٹ فارم پر جعلی ری ویوز کیخلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30290386/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;معروف سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بُک نے پلیٹ فارم پر لکھے جانے والے جعلی ری ویوز  کے خلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ کرلیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر ملکی میڈیا کے مطابق کمپنی نے اس بڑے مسئلے سے نمٹنے کے لیے اپنی &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.facebook.com/policies_center/community_feedback/"&gt;کمیونیٹی فیڈ بیک پالیسی&lt;/a&gt; کو اپ ڈیٹ کر دیا ہے۔فیس بک کی نئی ہدایات بزنس پیجز کو ان کے گاہکوں کو مطمئن کرنے کے لیے پیش کی گئی سہولتوں کا ناجائز استعمال کرنے کے لیےلکھے جانے والےصارفین کے جعلی ریویوز سے بچائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بزنس پیجز سے نامناسب مواد پر مشتمل جائزوں اور ایسے ری ویوز کو بھی ہٹایہا جائے گا جن کا اس کاروبار سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس ضمن میں کمپنی کا کہنا ہے کہ ان ہدایات کی خلاف ورزی کرنے پر گاہک یا بزنس کا تبصرہ ہٹا دیا جائے گا، کاروبار کی پروڈکٹ ٹیگز و لِسٹنگ تک رسائی روک دی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیس بُک نے مزید کہا کہ حالیہ نئی ہدایات کی خلاف ورزی کرنے پر صارف کی کسی دوسری میٹا پروڈکٹس یا فیچرز تک رسائی معطل ہوگی یا اس پر پابندی عائد کردی جائے گی۔
۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>معروف سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بُک نے پلیٹ فارم پر لکھے جانے والے جعلی ری ویوز  کے خلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ کرلیا ہے۔</strong></p>
<p>غیر ملکی میڈیا کے مطابق کمپنی نے اس بڑے مسئلے سے نمٹنے کے لیے اپنی <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.facebook.com/policies_center/community_feedback/">کمیونیٹی فیڈ بیک پالیسی</a> کو اپ ڈیٹ کر دیا ہے۔فیس بک کی نئی ہدایات بزنس پیجز کو ان کے گاہکوں کو مطمئن کرنے کے لیے پیش کی گئی سہولتوں کا ناجائز استعمال کرنے کے لیےلکھے جانے والےصارفین کے جعلی ریویوز سے بچائیں گی۔</p>
<p>رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بزنس پیجز سے نامناسب مواد پر مشتمل جائزوں اور ایسے ری ویوز کو بھی ہٹایہا جائے گا جن کا اس کاروبار سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔</p>
<p>اس ضمن میں کمپنی کا کہنا ہے کہ ان ہدایات کی خلاف ورزی کرنے پر گاہک یا بزنس کا تبصرہ ہٹا دیا جائے گا، کاروبار کی پروڈکٹ ٹیگز و لِسٹنگ تک رسائی روک دی جائے گی۔</p>
<p>فیس بُک نے مزید کہا کہ حالیہ نئی ہدایات کی خلاف ورزی کرنے پر صارف کی کسی دوسری میٹا پروڈکٹس یا فیچرز تک رسائی معطل ہوگی یا اس پر پابندی عائد کردی جائے گی۔
۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30290386</guid>
      <pubDate>Fri, 24 Jun 2022 23:09:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2022/06/24230559783b787.jpg?r=230736" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2022/06/24230559783b787.jpg?r=230736"/>
        <media:title>اس پر پابندی عائد کردی جائے گی۔ فوٹو — اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
