<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 23:36:00 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 23:36:00 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جنوبی افریقا کے نائٹ کلب سے 17 افراد کی لاشیں برآمد</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30290504/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جوہانسبرگ: جنوبی افریقا کے شہر ایسٹ لندن کے ایک نائٹ کلب میں کم از کم 17 نوجوان مردہ پائے گئے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صوبائی پولیس کے سربراہ نے اے ایف پی کو بتایا کہ ‘‘ہمیں 17 افراد کے بارے میں ایک رپورٹ ملی ہے، جو مشرقی لندن میں واقع سینری پارک کے ایک مقامی ہوٹل میں ہلاک ہوئے ہیں’’۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ہم ابھی تک اس واقعے کے  آس پاس  کے حالات کی تحقیقات کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ مقتولین کی عمریں 18 سے 20 سال کے درمیان تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی غیر تصدیق شدہ تصاویر میں کلب کے فرش پر بکھری ہوئی لاشوں کو زخموں کے نشانات کے بغیر دکھایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقامی ٹیلی ویژن نے پولیس افسران کو شہر میں کلب کے باہر جمع لوگوں کے ہجوم کو منتشر کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ج&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>جوہانسبرگ: جنوبی افریقا کے شہر ایسٹ لندن کے ایک نائٹ کلب میں کم از کم 17 نوجوان مردہ پائے گئے۔</strong></p>
<p>صوبائی پولیس کے سربراہ نے اے ایف پی کو بتایا کہ ‘‘ہمیں 17 افراد کے بارے میں ایک رپورٹ ملی ہے، جو مشرقی لندن میں واقع سینری پارک کے ایک مقامی ہوٹل میں ہلاک ہوئے ہیں’’۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ ہم ابھی تک اس واقعے کے  آس پاس  کے حالات کی تحقیقات کر رہے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ مقتولین کی عمریں 18 سے 20 سال کے درمیان تھیں۔</p>
<p>سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی غیر تصدیق شدہ تصاویر میں کلب کے فرش پر بکھری ہوئی لاشوں کو زخموں کے نشانات کے بغیر دکھایا گیا ہے۔</p>
<p>مقامی ٹیلی ویژن نے پولیس افسران کو شہر میں کلب کے باہر جمع لوگوں کے ہجوم کو منتشر کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔</p>
<p>ج</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30290504</guid>
      <pubDate>Sun, 26 Jun 2022 15:21:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2022/06/26134751f63bfd2.png?r=135137" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2022/06/26134751f63bfd2.png?r=135137"/>
        <media:title>مقتولین کی عمریں 18 سے 20 سال کے درمیان ہیں۔ تصویر ـــــ بی بی سی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
