<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 24 Jun 2026 22:20:29 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 24 Jun 2026 22:20:29 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹک ٹاک ویڈیوز بنانے کا معاملہ، پولیس اہلکار نوکری سے برخاست</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30299266/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سٹی ٹریفک پولیس کے اہلکار کی جانب سے ٹک ٹاک ویڈیوز بنانے کے معاملے پر محکمانہ انکوائری رپورٹ میں قصور وارثابت ہونے پر نوکری سے برخاست کردیا گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لاہور کے علاقے مغل پورہ میں چند روز قبل سٹی ٹریفک پولیس کے کانسٹیبل عمران نے راہ چلتی خواتین کی ٹک ٹاک بنا کراپ لوڈ کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/OfficialDPRPP/status/1572510449052291072?s=20&amp;amp;t=RpPj6tygmbxI3EjyHqSXlQ"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ویڈیوز وائرل ہونے پر سٹی ٹریفک پولیس نے نوٹس لیتے ہوئے ایس پی ٹریفک کو معاملے کی انکوائرئ کے احکامات جاری کئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے مطابق کانسٹیبل عمران نے ڈیوٹی کے دوران لفٹر پر بیٹھ کر راہ چلتی خواتین کے ساتھ ٹک ٹاک ویڈیوز بنائی اور اپ لوڈ کردی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم انکوائری رپورٹ میں قصور وار ثابت ہونے پر کانسٹیبل عمران کو نوکری سے برخاست کردیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی ٹی او لاہور کا کہنا تھا کہ فورس کی بدنامی کا سبب بننے والوں کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل، پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہورمیں ٹریفک پولیس اہلکار کو راہ چلتی خواتین کی ویڈیوزبنانے کے الزام میں معطل کردیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مائیکروبلاگنگ سائٹ ٹوئٹرپر متعدد صارفین نے مذکورہ پولیس اہلکار کے ٹک ٹاک اکاؤنٹ پراپ لوڈ کی جانے والی ویڈیوز شیئرکرتے ہوئے نشاندہی کی تھی یہ اہلکار سڑک پرآنے جانے والی خواتین کی ویڈیوزشیئرکررہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مختصر ویڈیوزمیں اہلکار موبائل فون کے کیمرے کا رخ اپنی جانب بھی کررہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیشترصارفین نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے لکھا تھا کہ نہ جانے یہ اہلکارکہاں کا ہے لیکن متعلقہ اداروں کو اس کا فوری نوٹس لینا چاہئیے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سٹی ٹریفک پولیس کے اہلکار کی جانب سے ٹک ٹاک ویڈیوز بنانے کے معاملے پر محکمانہ انکوائری رپورٹ میں قصور وارثابت ہونے پر نوکری سے برخاست کردیا گیا۔</strong></p>
<p>لاہور کے علاقے مغل پورہ میں چند روز قبل سٹی ٹریفک پولیس کے کانسٹیبل عمران نے راہ چلتی خواتین کی ٹک ٹاک بنا کراپ لوڈ کیا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/OfficialDPRPP/status/1572510449052291072?s=20&amp;t=RpPj6tygmbxI3EjyHqSXlQ"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>ویڈیوز وائرل ہونے پر سٹی ٹریفک پولیس نے نوٹس لیتے ہوئے ایس پی ٹریفک کو معاملے کی انکوائرئ کے احکامات جاری کئے تھے۔</p>
<p>پولیس کے مطابق کانسٹیبل عمران نے ڈیوٹی کے دوران لفٹر پر بیٹھ کر راہ چلتی خواتین کے ساتھ ٹک ٹاک ویڈیوز بنائی اور اپ لوڈ کردی۔</p>
<p>تاہم انکوائری رپورٹ میں قصور وار ثابت ہونے پر کانسٹیبل عمران کو نوکری سے برخاست کردیا گیا ہے۔</p>
<p>سی ٹی او لاہور کا کہنا تھا کہ فورس کی بدنامی کا سبب بننے والوں کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔</p>
<p>اس سے قبل، پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہورمیں ٹریفک پولیس اہلکار کو راہ چلتی خواتین کی ویڈیوزبنانے کے الزام میں معطل کردیا گیا۔</p>
<p>مائیکروبلاگنگ سائٹ ٹوئٹرپر متعدد صارفین نے مذکورہ پولیس اہلکار کے ٹک ٹاک اکاؤنٹ پراپ لوڈ کی جانے والی ویڈیوز شیئرکرتے ہوئے نشاندہی کی تھی یہ اہلکار سڑک پرآنے جانے والی خواتین کی ویڈیوزشیئرکررہا ہے۔</p>
<p>مختصر ویڈیوزمیں اہلکار موبائل فون کے کیمرے کا رخ اپنی جانب بھی کررہا تھا۔</p>
<p>بیشترصارفین نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے لکھا تھا کہ نہ جانے یہ اہلکارکہاں کا ہے لیکن متعلقہ اداروں کو اس کا فوری نوٹس لینا چاہئیے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30299266</guid>
      <pubDate>Wed, 21 Sep 2022 15:34:13 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2022/09/2115193484c7c2b.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2022/09/2115193484c7c2b.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
