<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 02:21:56 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 02:21:56 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آسٹریلیا کے ساحل پر پھنسی 200 وہیل مچھلیاں ہلاک</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30299321/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آسٹریلیا سے متصل تسمانیہ نامی جزیرے پر پھنسی ہوئی تقریباً 200 وہیل مچھلیاں ہلاک ہوگئیں، دیگر مچھلیوں کو بچانے کی کوششیں جاری ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میڈیا کے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.france24.com/en/asia-pacific/20220922-nearly-200-whales-die-after-getting-stranded-on-australian-beach"&gt;مطابق &lt;/a&gt; بدھ کے روز تقریباً 230 وہیل مچھلیوں کی بڑی تعداد مغرب میں اوشین بیچ پر پھنس گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وائلڈ لائف سروس کے آپریشنز مینیجر برینڈن کلارک نے صحافیوں کو بتایا کہ ایک دن پہلے ساحل پر پائی جانے والی تقریباً 230 وہیل مچھلیوں میں سے صرف 35 ابھی تک زندہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://s.france24.com/media/display/a0e6bcd4-3a22-11ed-ab5c-005056bfa79e/w:1280/p:16x9/000_32JT7FZ.webp'  alt=' تصویر: اے ایف پی ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;تصویر: اے ایف پی&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فضا سے لی گئی تصویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ مچھلیوں کی بڑی تعداد ساحل کی ریت پرسیاہ شے کی طرح چمک رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برینڈن کلارک جو مچھلیوں کی ہلاکت سے متعلق معاملے کی نگرانی کررہے ہیں ، کا کہنا ہے کہ “ہم نے ساحل سے تقریباً 35 زندہ بچ جانے والی مچھلیاں نکال لی ہیں اور ہماری پوری توجہ انہیں ٓ بچانے پر ہے۔”&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا مزید کہنا تھا کہ بدقسمتی سے ہمارے پاس مچھلیوں کی اموات کی شرح زیادہ ہے جبکہ ماحولیاتی تبدیلیاں بھی یقینی طورپرسمندری حیات پراثرانداز ہو رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ساحل پروہیل مچھلیوں کو دیکھ کر مقامی افراد نے مچھلیوں کو کمبل سے ڈھانپ دیا تھا اوران پر پانی بھر بھرکر ڈال رہے تھے تاکہ وہ زندہ رہیں کیونکہ سمندر سے ریت پر آنے کے بعد اتنی بڑی مچھلیوں کو واپس دھکیلنا فوری طور پرممکن نہیں تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ 2 سال قبل بھی قریبی ساحل سمندر پرتقریباً 500 وہیل مچھلیاں پھنسی تھیں جن میں سے300 ہلاک ہوگئیں تھیں جبکہ دیگر کو پانی میں واپس چھوڑدیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آسٹریلیا سے متصل تسمانیہ نامی جزیرے پر پھنسی ہوئی تقریباً 200 وہیل مچھلیاں ہلاک ہوگئیں، دیگر مچھلیوں کو بچانے کی کوششیں جاری ہیں۔</strong></p>
<p>میڈیا کے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.france24.com/en/asia-pacific/20220922-nearly-200-whales-die-after-getting-stranded-on-australian-beach">مطابق </a> بدھ کے روز تقریباً 230 وہیل مچھلیوں کی بڑی تعداد مغرب میں اوشین بیچ پر پھنس گئی۔</p>
<p>وائلڈ لائف سروس کے آپریشنز مینیجر برینڈن کلارک نے صحافیوں کو بتایا کہ ایک دن پہلے ساحل پر پائی جانے والی تقریباً 230 وہیل مچھلیوں میں سے صرف 35 ابھی تک زندہ ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://s.france24.com/media/display/a0e6bcd4-3a22-11ed-ab5c-005056bfa79e/w:1280/p:16x9/000_32JT7FZ.webp'  alt=' تصویر: اے ایف پی ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>تصویر: اے ایف پی</figcaption>
    </figure></p>
<p>فضا سے لی گئی تصویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ مچھلیوں کی بڑی تعداد ساحل کی ریت پرسیاہ شے کی طرح چمک رہی ہیں۔</p>
<p>برینڈن کلارک جو مچھلیوں کی ہلاکت سے متعلق معاملے کی نگرانی کررہے ہیں ، کا کہنا ہے کہ “ہم نے ساحل سے تقریباً 35 زندہ بچ جانے والی مچھلیاں نکال لی ہیں اور ہماری پوری توجہ انہیں ٓ بچانے پر ہے۔”</p>
<p>ان کا مزید کہنا تھا کہ بدقسمتی سے ہمارے پاس مچھلیوں کی اموات کی شرح زیادہ ہے جبکہ ماحولیاتی تبدیلیاں بھی یقینی طورپرسمندری حیات پراثرانداز ہو رہی ہیں۔</p>
<p>ساحل پروہیل مچھلیوں کو دیکھ کر مقامی افراد نے مچھلیوں کو کمبل سے ڈھانپ دیا تھا اوران پر پانی بھر بھرکر ڈال رہے تھے تاکہ وہ زندہ رہیں کیونکہ سمندر سے ریت پر آنے کے بعد اتنی بڑی مچھلیوں کو واپس دھکیلنا فوری طور پرممکن نہیں تھا۔</p>
<p>واضح رہے کہ 2 سال قبل بھی قریبی ساحل سمندر پرتقریباً 500 وہیل مچھلیاں پھنسی تھیں جن میں سے300 ہلاک ہوگئیں تھیں جبکہ دیگر کو پانی میں واپس چھوڑدیا گیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30299321</guid>
      <pubDate>Thu, 22 Sep 2022 11:04:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2022/09/221101173328e6c.png?r=110238" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2022/09/221101173328e6c.png?r=110238"/>
        <media:title>تصویر: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
