<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Blog</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 12:31:30 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 12:31:30 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>4 نومبر کا ہدف اور عمران کا خفیہ پلان</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30304232/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سب کی نظرین جی ٹی روڈ پر ہیں، کپتان اور انکے چند روپوش ساتھی 4 نومبر کے بڑے پاور شو کی تیاری میں مصروف ہیں جس کے بارے چیئرمین عمران خان بار بار کہ چکے ہیں کہ وہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا سیاسی احتجاج ہوگا۔ وہ دعوٰی کررہے ہیں کہ اسلام آباد کے آخری شو میں 10 لاکھ  سے زائد افراد شریک ہوں گے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;28 اکتوبر کو لاہور کے لبرٹی چوک سے شروع ہونے والا لانگ مارچ بڑا ہی بھرپور اور پر رونق ضرور ہے مگر ویسا نہیں ہے جس کی تجزیہ کار یا نقاد توقع کررہے تھے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تعداد کے لحاظ سے یہ لانگ مارچ ناکام ہوگیا ہے بلکہ اس کی موجودہ رفتار اور تعداد عمران خان کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عمران نے یہ خفیہ حکمت عملی 25 مئی کے احتجاج کے نتائج کو مدنظر رکھ کر ترتیب دی ہے۔ کپتان نے لاہور پڑاو ڈالنے سے پہلے بنی گالہ میں اپنی پریس کانفرنس میں اشارہ دے دیا تھا کہ قریبی ساتھی سیف اللہ نیازی اور چند دیگر کو انہوں نے انڈر گراونڈ کردیا ہے تاکہ وہ ان کے خفیہ پلان پر کام کرتے رہیں اور گرفتاری سے بچ سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق عمران خان پنجاب میں اتحادی چوہدری پرویز الہی کی حکومت ہونے کے باوجود ان پر مکمل اعتبار نہیں کرسکتے، اس لئے انہوں نے وسطی پنجاب کے کارکنوں کو حقیقی آزادی مارچ کے لئے فعال رکھنے کی خاطر خود ہی یہاں پڑاو ڈالا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صوبہ خیبرپختونخواہ کی قیادت اور کارکنوں پر انہیں اعتماد ہے اس لئے وہ طے شدہ حکمت عملی کے تحت تین نومبر کو اسلام آباد کے قریب پہنچیں گے۔ عمران خان نے ملک بھرکے دیگر اضلاع کی مقامی قیادت کو چار نومبر سے پہلے توانیاں ضائع کرنے کی بجائے چار نومبر کو قیام و طعام کے مکمل انتظامات کے ساتھ آنے کا کہ رکھا ہے، یہی وجہ ہے کہ سندھ کے قافلے بھی چار نومبر کے شیڈول کو مدنظر رکھ کر روانہ ہورہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عمران خان کو معلوم ہے کہ وہ غیر معمولی تعداد کے بغیر اپنے مطالبات نہیں منوا سکتے، اس لئے انہوں نے حکومت اور تمام طاقتوں کی توجہ جی ٹی روڈ کی طرف مبذول کرا رکھی ہے اور وہ چار نومبر سے ایک دو روز قبل اسلام آباد پہنچے کی کال دیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چار  نومبر کی صبح اسلام آباد کے قریب صوبوں کے بارڈر پر قافلوں کا انتظار کیا جائے گا اور پھر ایک طاقت کےساتھ اسلام آباد میں داخل ہوا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر عوامی ہجوم غیر معمولی ہوا تو کپتان کو توقع ہے کہ ان کے مطالبات اسلام آباد داخل ہونے سے پہلے ہی تسلیم کرلئے جائیں گے ورنہ اسلام آباد میں پاؤر شو سب کے لئے امتحان ثابت ہوگا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سب کی نظرین جی ٹی روڈ پر ہیں، کپتان اور انکے چند روپوش ساتھی 4 نومبر کے بڑے پاور شو کی تیاری میں مصروف ہیں جس کے بارے چیئرمین عمران خان بار بار کہ چکے ہیں کہ وہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا سیاسی احتجاج ہوگا۔ وہ دعوٰی کررہے ہیں کہ اسلام آباد کے آخری شو میں 10 لاکھ  سے زائد افراد شریک ہوں گے۔</strong></p>
<p>28 اکتوبر کو لاہور کے لبرٹی چوک سے شروع ہونے والا لانگ مارچ بڑا ہی بھرپور اور پر رونق ضرور ہے مگر ویسا نہیں ہے جس کی تجزیہ کار یا نقاد توقع کررہے تھے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تعداد کے لحاظ سے یہ لانگ مارچ ناکام ہوگیا ہے بلکہ اس کی موجودہ رفتار اور تعداد عمران خان کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔</p>
<p>عمران نے یہ خفیہ حکمت عملی 25 مئی کے احتجاج کے نتائج کو مدنظر رکھ کر ترتیب دی ہے۔ کپتان نے لاہور پڑاو ڈالنے سے پہلے بنی گالہ میں اپنی پریس کانفرنس میں اشارہ دے دیا تھا کہ قریبی ساتھی سیف اللہ نیازی اور چند دیگر کو انہوں نے انڈر گراونڈ کردیا ہے تاکہ وہ ان کے خفیہ پلان پر کام کرتے رہیں اور گرفتاری سے بچ سکیں۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق عمران خان پنجاب میں اتحادی چوہدری پرویز الہی کی حکومت ہونے کے باوجود ان پر مکمل اعتبار نہیں کرسکتے، اس لئے انہوں نے وسطی پنجاب کے کارکنوں کو حقیقی آزادی مارچ کے لئے فعال رکھنے کی خاطر خود ہی یہاں پڑاو ڈالا ہے۔</p>
<p>صوبہ خیبرپختونخواہ کی قیادت اور کارکنوں پر انہیں اعتماد ہے اس لئے وہ طے شدہ حکمت عملی کے تحت تین نومبر کو اسلام آباد کے قریب پہنچیں گے۔ عمران خان نے ملک بھرکے دیگر اضلاع کی مقامی قیادت کو چار نومبر سے پہلے توانیاں ضائع کرنے کی بجائے چار نومبر کو قیام و طعام کے مکمل انتظامات کے ساتھ آنے کا کہ رکھا ہے، یہی وجہ ہے کہ سندھ کے قافلے بھی چار نومبر کے شیڈول کو مدنظر رکھ کر روانہ ہورہے ہیں۔</p>
<p>عمران خان کو معلوم ہے کہ وہ غیر معمولی تعداد کے بغیر اپنے مطالبات نہیں منوا سکتے، اس لئے انہوں نے حکومت اور تمام طاقتوں کی توجہ جی ٹی روڈ کی طرف مبذول کرا رکھی ہے اور وہ چار نومبر سے ایک دو روز قبل اسلام آباد پہنچے کی کال دیں گے۔</p>
<p>چار  نومبر کی صبح اسلام آباد کے قریب صوبوں کے بارڈر پر قافلوں کا انتظار کیا جائے گا اور پھر ایک طاقت کےساتھ اسلام آباد میں داخل ہوا جائے گا۔</p>
<p>اگر عوامی ہجوم غیر معمولی ہوا تو کپتان کو توقع ہے کہ ان کے مطالبات اسلام آباد داخل ہونے سے پہلے ہی تسلیم کرلئے جائیں گے ورنہ اسلام آباد میں پاؤر شو سب کے لئے امتحان ثابت ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30304232</guid>
      <pubDate>Mon, 31 Oct 2022 21:12:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انوار ہاشمی)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2022/10/312112050419721.jpg?r=211240" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2022/10/312112050419721.jpg?r=211240"/>
        <media:title>سلام آباد میں پاؤر شو سب کے لئے امتحان ثابت ہوگا۔ فوٹو — فائل
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
