<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Business &amp; Economy</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 02:04:03 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 02:04:03 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ڈالر بے قابو، انٹربینک اوپن مارکیٹ ریٹ میں فرق مفتاح دور جتنا ہوگیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30308706/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;منگل کو کاروباری دن کے اختتام پر انٹربینک میں ڈالر گزشتہ روز کے مقابلے میں پانچ پیسے کے اضافے کے ساتھ 224.69 روپے پر بند ہوا۔ جبکہ اوپن مارکیٹ میں آج ڈالر کی قیمت 234 رہی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اوپن مارکیٹ اور انٹربینک میں ڈالر کی قیمت میں نو روپے 31 پیسے کا بڑا فرق دیکھنے کو ملا، جو تقریباً سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کے دور کی قیمتوں میں فرق کے قریب پہنچ چکا ہے۔ مفتاح اسماعیل کے دور میں یہ فرق 10 روپے سے تجاوز کرگیا تھا اور وہ ڈالر کو قابو کرنے میں کام نظرآتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حالیہ فرق کی وجہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قلت بتائی جارہی ہے۔ ذخیرہ اندوزوں نے ڈالر ذخیرہ کرلیا ہے اور حکومت کی جانب سے بھی مارکیٹ میں ڈالر ریلیز نہیں کئے جارہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مفتاح کی ناکامی کے بعد اسحاق ڈار نے دبنگ انٹری لی، وزیر خزانہ اسحاق ڈار جو ڈالر کی قیمت کو قابو رکھنے کے دعویدار تھے، تاہم اب وہ بھی اس صورتِ حال میں ناکام نظر آتے ہیں۔ کیونکہ ایک جانب ڈالر کا سرکاری نرخ 224 سے کچھ اوپر تک پہنچ چکا ہے تو دوسری جانب جب درآمد کنندگان ڈالر کے لیے بینکوں سے رابطہ کرتے ہیں تو انہیں ڈالر فراہم نہیں کیے جاتے، جبکہ گرے مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت 240 روپے سے اوپر جا چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں اس وقت ڈالر کی قلت شدت اختیار کرچکی ہے، درآمدی کارگو کی کلیئرنس کے لیے ڈالر دستیاب ہی نہیں۔ جس کی وجہ سے بینکس ایل سیز (لیٹر آف کریڈٹ) نہیں کھول رہے اور ادویہ ساز اداروں نے بھی ملک میں بحران کی گھنٹی بجا دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30308671"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صرف فارما انڈسٹری ہی نہیں ملک میں درآمد کی جانے والی اشیائے ضروریہ جیسے پیاز، ٹماٹر اور لہسن وغیرہ کے کنٹینرز بھی کراچی بندرگاہ پر پھنسے ہوئے ہیں۔ پاکستان فروٹ اینڈ وجیٹیبل ایکسپورٹرز (پی ایف وی ای) کا کہنا ہے کہ بینکس ڈالر کی قلت کو وجہ بنا کر شپمنٹ دستاویز جاری نہیں کر رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک کا درآمدی مال جس میں تیل، خوردنی تیل، ادویات، برآمدی شعبے کا خام مال، مشینری و پلانٹس اور دوسرے شعبوں کے لیے منگوائے جانے والے درآمدی کارگو بینکوں کی جانب سے ایل سی کے لیے ادائیگی نہ کرنے کی وجہ سے بندرگاہ پر پھنسے ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30307866"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسی صورتِ حال میں اسٹیٹ بینک بھی بے بس نظر آرہا ہے، اور ردعمل میں ترجمان کا صرف اتنا کہنا ہے کہ جو بینک ایل سی نہیں کھول رہے ان کی نشاندہی کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک میں ڈالر کی آمد کے ذرائع سکڑتے جا رہے ہیں اور بیرونی قرضے کی ادائیگی کی وجہ سے زرمبادلہ کے ذخائر کم ہو کر چار سال کی نچلی سطح 6 ارب 71 کروڑ پر آچکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اوپن مارکیٹ اور انٹر بینک میں ڈالر کی قیمتوں میں فرق کو کم یا ختم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ملک میں ڈالر آئے، اور اس وقت ملک میں ڈالر کہیں سے نہیں آرہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک میں ڈالر لانے والے تین اہم ذریعے برآمدات، ترسیلات زر اور غیر ملکی سرمایہ کاری کی گذشتہ چند مہینوں میں گروتھ منفی ریکارڈ کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فی الحال سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کی &lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30308148/"&gt;مدد کا اعلان&lt;/a&gt; کیا گیا ہے، لیکن اس مدد سے آنے والے ڈالرز بھی گزشتہ ملکی قرضوں کی ادائیگی میں چلے جائیں گے، کیونکہ پاکستان کو رواں مالی سال جون کے اختتام تک 16 ارب ڈالرز قرض واپس کرنا ہے جس کے لیے پاکستان نے سعودی عرب سے مزید 4.2 ارب ڈالر کی درخواست کی تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>منگل کو کاروباری دن کے اختتام پر انٹربینک میں ڈالر گزشتہ روز کے مقابلے میں پانچ پیسے کے اضافے کے ساتھ 224.69 روپے پر بند ہوا۔ جبکہ اوپن مارکیٹ میں آج ڈالر کی قیمت 234 رہی۔</strong></p>
<p>اوپن مارکیٹ اور انٹربینک میں ڈالر کی قیمت میں نو روپے 31 پیسے کا بڑا فرق دیکھنے کو ملا، جو تقریباً سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کے دور کی قیمتوں میں فرق کے قریب پہنچ چکا ہے۔ مفتاح اسماعیل کے دور میں یہ فرق 10 روپے سے تجاوز کرگیا تھا اور وہ ڈالر کو قابو کرنے میں کام نظرآتے تھے۔</p>
<p>حالیہ فرق کی وجہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قلت بتائی جارہی ہے۔ ذخیرہ اندوزوں نے ڈالر ذخیرہ کرلیا ہے اور حکومت کی جانب سے بھی مارکیٹ میں ڈالر ریلیز نہیں کئے جارہے۔</p>
<p>مفتاح کی ناکامی کے بعد اسحاق ڈار نے دبنگ انٹری لی، وزیر خزانہ اسحاق ڈار جو ڈالر کی قیمت کو قابو رکھنے کے دعویدار تھے، تاہم اب وہ بھی اس صورتِ حال میں ناکام نظر آتے ہیں۔ کیونکہ ایک جانب ڈالر کا سرکاری نرخ 224 سے کچھ اوپر تک پہنچ چکا ہے تو دوسری جانب جب درآمد کنندگان ڈالر کے لیے بینکوں سے رابطہ کرتے ہیں تو انہیں ڈالر فراہم نہیں کیے جاتے، جبکہ گرے مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت 240 روپے سے اوپر جا چکی ہے۔</p>
<p>پاکستان میں اس وقت ڈالر کی قلت شدت اختیار کرچکی ہے، درآمدی کارگو کی کلیئرنس کے لیے ڈالر دستیاب ہی نہیں۔ جس کی وجہ سے بینکس ایل سیز (لیٹر آف کریڈٹ) نہیں کھول رہے اور ادویہ ساز اداروں نے بھی ملک میں بحران کی گھنٹی بجا دی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30308671"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>صرف فارما انڈسٹری ہی نہیں ملک میں درآمد کی جانے والی اشیائے ضروریہ جیسے پیاز، ٹماٹر اور لہسن وغیرہ کے کنٹینرز بھی کراچی بندرگاہ پر پھنسے ہوئے ہیں۔ پاکستان فروٹ اینڈ وجیٹیبل ایکسپورٹرز (پی ایف وی ای) کا کہنا ہے کہ بینکس ڈالر کی قلت کو وجہ بنا کر شپمنٹ دستاویز جاری نہیں کر رہے۔</p>
<p>ملک کا درآمدی مال جس میں تیل، خوردنی تیل، ادویات، برآمدی شعبے کا خام مال، مشینری و پلانٹس اور دوسرے شعبوں کے لیے منگوائے جانے والے درآمدی کارگو بینکوں کی جانب سے ایل سی کے لیے ادائیگی نہ کرنے کی وجہ سے بندرگاہ پر پھنسے ہوئے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30307866"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ایسی صورتِ حال میں اسٹیٹ بینک بھی بے بس نظر آرہا ہے، اور ردعمل میں ترجمان کا صرف اتنا کہنا ہے کہ جو بینک ایل سی نہیں کھول رہے ان کی نشاندہی کریں۔</p>
<p>ملک میں ڈالر کی آمد کے ذرائع سکڑتے جا رہے ہیں اور بیرونی قرضے کی ادائیگی کی وجہ سے زرمبادلہ کے ذخائر کم ہو کر چار سال کی نچلی سطح 6 ارب 71 کروڑ پر آچکے ہیں۔</p>
<p>اوپن مارکیٹ اور انٹر بینک میں ڈالر کی قیمتوں میں فرق کو کم یا ختم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ملک میں ڈالر آئے، اور اس وقت ملک میں ڈالر کہیں سے نہیں آرہے۔</p>
<p>ملک میں ڈالر لانے والے تین اہم ذریعے برآمدات، ترسیلات زر اور غیر ملکی سرمایہ کاری کی گذشتہ چند مہینوں میں گروتھ منفی ریکارڈ کی گئی ہے۔</p>
<p>فی الحال سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کی <a href="https://www.aaj.tv/news/30308148/">مدد کا اعلان</a> کیا گیا ہے، لیکن اس مدد سے آنے والے ڈالرز بھی گزشتہ ملکی قرضوں کی ادائیگی میں چلے جائیں گے، کیونکہ پاکستان کو رواں مالی سال جون کے اختتام تک 16 ارب ڈالرز قرض واپس کرنا ہے جس کے لیے پاکستان نے سعودی عرب سے مزید 4.2 ارب ڈالر کی درخواست کی تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Economy</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30308706</guid>
      <pubDate>Tue, 13 Dec 2022 16:39:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2022/12/13162521558a1a8.png?r=162710" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2022/12/13162521558a1a8.png?r=162710"/>
        <media:title>تصویر بزریعہ اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
