<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 12 May 2026 18:23:57 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 12 May 2026 18:23:57 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>خیبر پختونخوا: گھریلو تشدد سے متاثرہ خواتین کی مدد کرتی ”بولو ہیلپ لائن“</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30309348/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;گھریلو تشدد ایکٹ کے نفاذ کے بعد  بولو ہیلپ لائن سنٹر کی معاونت سے گھریلو تشدد کی شکار خاتون کے کیس میں ملوث شخص کو تین سال قید اور جرمانہ کی سزا ملی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیبر پختونخوا میں گزشتہ نو سالوں میں گھریلو تشدد سمیت 11 ایکٹس قابل عمل بنائے گئے۔ جن کا بنیادی مقصد وقار نسواں، خواتین کی عزت نفس کی تکریم، ان پر ہونے والے تشدد میں ملوث کرداروں کو قرار واقعی سزائیں دلوانا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم چیئرپرسن ویمن پارلیمانی کاکس ڈاکٹر سمیرا شمس کا کہنا ہے کہ گھریلوں تشدد قانون کو مزید کارآمد بنانے کے لئے رواں سال کے دوران صوبے کے چیف سیکرٹری کو تین بار خطوط ارسال کرچکے ہیں، کہ وقار نسواں ایکٹ میں مزید ترامیم اور اس کا دائر کار صوبے کے دیگر اضلاع تک پھیلنے کے طریقہ کار سے متعلق نکات کو صوبائی کابینہ اجلاس کے ایجنڈے میں شامل کیا جائے۔ تاہم ایک سال گزر جانے کے باوجود بھی ایسا نہ ہوسکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن دوسری جانب بولو ہیلپ لائن سنٹر سے انصاف ملنے والی ایک خاتوں نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ دس سال قبل ان کی شادی ہوئی جس کے بعد ان کے خاوند اور سسرالیوں کی جانب سے مسلسل اذیتوں اور مار پیٹ کا سامنا رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2022/12/18193952138af77.jpg'  alt=' ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بولو سنٹر کے حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ خاتون نے رات گیارہ بجے فون کرکے بتایا کہ ان کی زندگی کو خاوند اور سسرال والوں سے خطرہ ہے جس پر کارروائی کرتے ہوئے بولو مدد گار سنٹر نے ایس ایس پی آپریشن پشاور کی مدد سے متاثرہ خاتون کو بچالیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعدازاں خاتون کو علاج معالجے کے لئے ہسپتال منتقل کردیا گیا، متاثرہ خاتون دو بچوں کی ماں ہے۔ شوہر گھر کے دیگر افراد سمیت ان پر تشدد کرتا رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;متاثرہ خاتون پر ہونے والے تشدد کی رپورٹ درج ہونے کے بعد ملوث شخص کو گھریلو تشدد ایکٹ کے سیکشن 3 کے تحت تین سال قید اور جرمانے کی سزا ملی۔ سنٹر نے اس کیس کی پیروی کرتے ہوئے روازنہ اور پھر ہفتہ وار نگرانی کی۔ بعدازاں میاں بیوی نے باہمی رضا مندی ظاہر کرنے پر اب خاتون شوہر اور بچوں کے ساتھ پر لطف زندگی بسر کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بولو مدد گار سنٹر پراجیکٹ ڈائریکٹر سحر خان کا کہنا ہے کہ گزشتہ تین سالوں میں 1,021 کیسز میں متاثرہ خواتین کو قانونی تحفظ فراہم کیا گیا اور ان کی کاؤنسلنگ کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2022/12/18193952dd36807.jpg'  alt=' انسانی حقوق و پارلیمانی امور کے صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی، صوبائی محتط رخشندہ ناز خواتین پر تشدد کے بولو ی ہلیپ لائن سنٹر کے سولہ روزہ آگاہی مہم کے موقع پر شرکاء کے ساتھ گروپ فوٹو ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;انسانی حقوق و پارلیمانی امور کے صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی، صوبائی محتط رخشندہ ناز خواتین پر تشدد کے بولو ی ہلیپ لائن سنٹر کے سولہ روزہ آگاہی مہم کے موقع پر شرکاء کے ساتھ گروپ فوٹو&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ کئی خواتین کے کیسز جو کہ صوبائی محتسب یا دیگر اداروں سے متعلق تھے، قانونی معاونت کے بعد وہاں بھیج دئے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا مزید کہنا تھا کہ گھروں ، دفاتر اور دیگر روزگار کی جگہوں پر خواتین کو بااختیار بنانے کے بارے میں آگاہی کے سلسلے میں 650 سے زائد سیمنارز، ورکشاپس منعقد کی گئیں۔ جبکہ تقریباً دو ہزار خواتین کو مختلف سروسز کی فراہمی اس کے علاوہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2022/12/181939520509c72.jpg'  alt=' دارالامان مانسہرہ میں صنفی تشدد کے متاثرہ خواتین کے لئے منعقدہ مشاورتی سیشن جاری ہے ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;دارالامان مانسہرہ میں صنفی تشدد کے متاثرہ خواتین کے لئے منعقدہ مشاورتی سیشن جاری ہے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق کے دستیاب اعداد وشمار کے مطابق خیبر پختونخوا میں عصمت دری کے 390 ، غیرت کے نام پر قتل کے 119 جبکہ تیزاب گردی کے 3 کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درج ذیل چار قوانین سمیت مجموعی طور پر 11 قوانین خیبر پختونخوا اسمبلی سے منظور ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="elimination-of-custom-of-ghag-act-2013" href="#elimination-of-custom-of-ghag-act-2013" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;Elimination of Custom of Ghag Act 2013&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع میں بالخصوص اور صوبے کے دیگر حصوں میں بالعموم غگ رسم کی بیخ کنی کے لئے اس کا شکار ہونے والی خاتون اور ان کے اہل خانہ کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ اگر کوئی فرسودہ رسم کا مرتکب ٹہرا تو وہ غگ ایکٹ خیبر پختونخوا کی دفعہ چار اور پاکستان پینل کورٹ کی دفعہ 506 کے تحت سزا کا مستحق ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="غگ-رسم-کیا-ہے-" href="#غگ-رسم-کیا-ہے-" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;”غگ رسم“ کیا ہے ؟&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;اس رسم کے تحت اگر برادری کا کوئی شخص کسی خاتون سے شادی کا اعلان کرتا ہے تو برادری کا کوئی اور شخص اس خاتون کے لیے رشتہ نہیں بھجواتا اور اس خاتون کے لیے شادی کے رشتے آنا بند ہو جاتے ہیں۔ اس روایت کے تحت خاتون، اس کے والدین یا رشتہ داورں کی رضامندی کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="خیبرپختونخوا-کمیشن-آن-سٹیٹس-آف-وومن-ایکٹ-2016" href="#خیبرپختونخوا-کمیشن-آن-سٹیٹس-آف-وومن-ایکٹ-2016" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;خیبرپختونخوا کمیشن آن سٹیٹس آف وومن ایکٹ 2016&lt;/h1&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="enforcement-of-women-property-rights-act--2019" href="#enforcement-of-women-property-rights-act--2019" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;Enforcement of women property rights Act- 2019&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;ویمن پراپرٹی رائٹس ایکٹ کے تحت خواتین کو جائیداد کی ملکیت کا حق ہوگا اور یہ قانون خواتین کو اس حوالے سے ہراساں کرنے، دباؤ ڈالنے، فراڈ یا جبر اور اس طرح کے دیگر اقدامات کے ذریعے خلاف ورزی سے روکنے کو یقینی بناتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="protection-of-women-against-harassment-at-work-place-act-2010" href="#protection-of-women-against-harassment-at-work-place-act-2010" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;Protection of women against harassment at work place Act-2010&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;یہ قانون روزگار، کاروبار اور دیگر مقامات پر کام کرنے والی خواتین کو تحفظ کی فراہمی کے لئے  منظور ہوا ہے۔ اس ایکٹ کے تحت کام کرنے والی خواتین کو تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی آئین کے آرٹیکل 25 کے تحت تمام شہری قانون کے سامنے برابر ہوں گے اور قانون کے مساوی تحفظ کے حقدار ہوں گے۔ اسی طرح آرٹیکل 25 کی شق (3) کے تحت صرف جنس کی بنیاد پر کوئی امتیازی سلوک نہیں کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="work-place-یا-کام-کی-جگہ" href="#work-place-یا-کام-کی-جگہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;Work place  یا کام کی جگہ&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;اس ایکٹ کے متن میں لکھا گیا ہے کہ کام کی جگہ یا وہ جگہ جہاں ایک تنظیم یا یومیہ مزدوری پر کوئی خاتون کام کرتی ہوں اور اس عمارت، کارخانہ علاقہ میں کوئی بھی ایسی صورتِ حال شامل ہے جو دفتر کے اوقات کار میں یا دفتر سے باہر سرکاری سرگرمی ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیبرپختونخوا میں گزشتہ دس سالوں میں عورتوں کی جان و مال کے تحفظ کو فراہمی یقینی بنانے کے لئے یہ اقدامات کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>گھریلو تشدد ایکٹ کے نفاذ کے بعد  بولو ہیلپ لائن سنٹر کی معاونت سے گھریلو تشدد کی شکار خاتون کے کیس میں ملوث شخص کو تین سال قید اور جرمانہ کی سزا ملی۔</strong></p>
<p>خیبر پختونخوا میں گزشتہ نو سالوں میں گھریلو تشدد سمیت 11 ایکٹس قابل عمل بنائے گئے۔ جن کا بنیادی مقصد وقار نسواں، خواتین کی عزت نفس کی تکریم، ان پر ہونے والے تشدد میں ملوث کرداروں کو قرار واقعی سزائیں دلوانا ہے۔</p>
<p>تاہم چیئرپرسن ویمن پارلیمانی کاکس ڈاکٹر سمیرا شمس کا کہنا ہے کہ گھریلوں تشدد قانون کو مزید کارآمد بنانے کے لئے رواں سال کے دوران صوبے کے چیف سیکرٹری کو تین بار خطوط ارسال کرچکے ہیں، کہ وقار نسواں ایکٹ میں مزید ترامیم اور اس کا دائر کار صوبے کے دیگر اضلاع تک پھیلنے کے طریقہ کار سے متعلق نکات کو صوبائی کابینہ اجلاس کے ایجنڈے میں شامل کیا جائے۔ تاہم ایک سال گزر جانے کے باوجود بھی ایسا نہ ہوسکا۔</p>
<p>لیکن دوسری جانب بولو ہیلپ لائن سنٹر سے انصاف ملنے والی ایک خاتوں نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ دس سال قبل ان کی شادی ہوئی جس کے بعد ان کے خاوند اور سسرالیوں کی جانب سے مسلسل اذیتوں اور مار پیٹ کا سامنا رہا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2022/12/18193952138af77.jpg'  alt=' ' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<p>بولو سنٹر کے حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ خاتون نے رات گیارہ بجے فون کرکے بتایا کہ ان کی زندگی کو خاوند اور سسرال والوں سے خطرہ ہے جس پر کارروائی کرتے ہوئے بولو مدد گار سنٹر نے ایس ایس پی آپریشن پشاور کی مدد سے متاثرہ خاتون کو بچالیا۔</p>
<p>بعدازاں خاتون کو علاج معالجے کے لئے ہسپتال منتقل کردیا گیا، متاثرہ خاتون دو بچوں کی ماں ہے۔ شوہر گھر کے دیگر افراد سمیت ان پر تشدد کرتا رہا۔</p>
<p>متاثرہ خاتون پر ہونے والے تشدد کی رپورٹ درج ہونے کے بعد ملوث شخص کو گھریلو تشدد ایکٹ کے سیکشن 3 کے تحت تین سال قید اور جرمانے کی سزا ملی۔ سنٹر نے اس کیس کی پیروی کرتے ہوئے روازنہ اور پھر ہفتہ وار نگرانی کی۔ بعدازاں میاں بیوی نے باہمی رضا مندی ظاہر کرنے پر اب خاتون شوہر اور بچوں کے ساتھ پر لطف زندگی بسر کر رہی ہے۔</p>
<p>بولو مدد گار سنٹر پراجیکٹ ڈائریکٹر سحر خان کا کہنا ہے کہ گزشتہ تین سالوں میں 1,021 کیسز میں متاثرہ خواتین کو قانونی تحفظ فراہم کیا گیا اور ان کی کاؤنسلنگ کی گئی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2022/12/18193952dd36807.jpg'  alt=' انسانی حقوق و پارلیمانی امور کے صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی، صوبائی محتط رخشندہ ناز خواتین پر تشدد کے بولو ی ہلیپ لائن سنٹر کے سولہ روزہ آگاہی مہم کے موقع پر شرکاء کے ساتھ گروپ فوٹو ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>انسانی حقوق و پارلیمانی امور کے صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی، صوبائی محتط رخشندہ ناز خواتین پر تشدد کے بولو ی ہلیپ لائن سنٹر کے سولہ روزہ آگاہی مہم کے موقع پر شرکاء کے ساتھ گروپ فوٹو</figcaption>
    </figure></p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ کئی خواتین کے کیسز جو کہ صوبائی محتسب یا دیگر اداروں سے متعلق تھے، قانونی معاونت کے بعد وہاں بھیج دئے گئے۔</p>
<p>ان کا مزید کہنا تھا کہ گھروں ، دفاتر اور دیگر روزگار کی جگہوں پر خواتین کو بااختیار بنانے کے بارے میں آگاہی کے سلسلے میں 650 سے زائد سیمنارز، ورکشاپس منعقد کی گئیں۔ جبکہ تقریباً دو ہزار خواتین کو مختلف سروسز کی فراہمی اس کے علاوہ ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2022/12/181939520509c72.jpg'  alt=' دارالامان مانسہرہ میں صنفی تشدد کے متاثرہ خواتین کے لئے منعقدہ مشاورتی سیشن جاری ہے ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>دارالامان مانسہرہ میں صنفی تشدد کے متاثرہ خواتین کے لئے منعقدہ مشاورتی سیشن جاری ہے</figcaption>
    </figure></p>
<p>پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق کے دستیاب اعداد وشمار کے مطابق خیبر پختونخوا میں عصمت دری کے 390 ، غیرت کے نام پر قتل کے 119 جبکہ تیزاب گردی کے 3 کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں۔</p>
<p>درج ذیل چار قوانین سمیت مجموعی طور پر 11 قوانین خیبر پختونخوا اسمبلی سے منظور ہوئے۔</p>
<h2><a id="elimination-of-custom-of-ghag-act-2013" href="#elimination-of-custom-of-ghag-act-2013" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>Elimination of Custom of Ghag Act 2013</h2>
<p>خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع میں بالخصوص اور صوبے کے دیگر حصوں میں بالعموم غگ رسم کی بیخ کنی کے لئے اس کا شکار ہونے والی خاتون اور ان کے اہل خانہ کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ اگر کوئی فرسودہ رسم کا مرتکب ٹہرا تو وہ غگ ایکٹ خیبر پختونخوا کی دفعہ چار اور پاکستان پینل کورٹ کی دفعہ 506 کے تحت سزا کا مستحق ہوگا۔</p>
<h2><a id="غگ-رسم-کیا-ہے-" href="#غگ-رسم-کیا-ہے-" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>”غگ رسم“ کیا ہے ؟</h2>
<p>اس رسم کے تحت اگر برادری کا کوئی شخص کسی خاتون سے شادی کا اعلان کرتا ہے تو برادری کا کوئی اور شخص اس خاتون کے لیے رشتہ نہیں بھجواتا اور اس خاتون کے لیے شادی کے رشتے آنا بند ہو جاتے ہیں۔ اس روایت کے تحت خاتون، اس کے والدین یا رشتہ داورں کی رضامندی کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی تھی۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<h1><a id="خیبرپختونخوا-کمیشن-آن-سٹیٹس-آف-وومن-ایکٹ-2016" href="#خیبرپختونخوا-کمیشن-آن-سٹیٹس-آف-وومن-ایکٹ-2016" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>خیبرپختونخوا کمیشن آن سٹیٹس آف وومن ایکٹ 2016</h1>
</blockquote>
<h2><a id="enforcement-of-women-property-rights-act--2019" href="#enforcement-of-women-property-rights-act--2019" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>Enforcement of women property rights Act- 2019</h2>
<p>ویمن پراپرٹی رائٹس ایکٹ کے تحت خواتین کو جائیداد کی ملکیت کا حق ہوگا اور یہ قانون خواتین کو اس حوالے سے ہراساں کرنے، دباؤ ڈالنے، فراڈ یا جبر اور اس طرح کے دیگر اقدامات کے ذریعے خلاف ورزی سے روکنے کو یقینی بناتا ہے۔</p>
<h2><a id="protection-of-women-against-harassment-at-work-place-act-2010" href="#protection-of-women-against-harassment-at-work-place-act-2010" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>Protection of women against harassment at work place Act-2010</h2>
<p>یہ قانون روزگار، کاروبار اور دیگر مقامات پر کام کرنے والی خواتین کو تحفظ کی فراہمی کے لئے  منظور ہوا ہے۔ اس ایکٹ کے تحت کام کرنے والی خواتین کو تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔</p>
<p>پاکستانی آئین کے آرٹیکل 25 کے تحت تمام شہری قانون کے سامنے برابر ہوں گے اور قانون کے مساوی تحفظ کے حقدار ہوں گے۔ اسی طرح آرٹیکل 25 کی شق (3) کے تحت صرف جنس کی بنیاد پر کوئی امتیازی سلوک نہیں کیا جائے گا۔</p>
<h2><a id="work-place-یا-کام-کی-جگہ" href="#work-place-یا-کام-کی-جگہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>Work place  یا کام کی جگہ</h2>
<p>اس ایکٹ کے متن میں لکھا گیا ہے کہ کام کی جگہ یا وہ جگہ جہاں ایک تنظیم یا یومیہ مزدوری پر کوئی خاتون کام کرتی ہوں اور اس عمارت، کارخانہ علاقہ میں کوئی بھی ایسی صورتِ حال شامل ہے جو دفتر کے اوقات کار میں یا دفتر سے باہر سرکاری سرگرمی ہو۔</p>
<p>خیبرپختونخوا میں گزشتہ دس سالوں میں عورتوں کی جان و مال کے تحفظ کو فراہمی یقینی بنانے کے لئے یہ اقدامات کیے گئے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30309348</guid>
      <pubDate>Sun, 18 Dec 2022 19:50:25 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عبدالبصیر قلندر)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2022/12/18194939391d05d.png?r=195025" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2022/12/18194939391d05d.png?r=195025"/>
        <media:title>تصویر: فیس بک/ بولو ہیلپ لائن
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
