<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 13 May 2026 19:45:44 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 13 May 2026 19:45:44 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ میں 10 سے 12 دن لگ سکتے ہیں‘</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30309897/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان کا کہنا ہے کہ جنوری کے پہلے ہفتے میں عدم اعتماد کی تحریک آجائے گی، میرا خیال ہے کہ گورنر کے حکم پر وزیراعلیٰ کو اعتماد کا ووٹ لینا چاہیے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آج نیوز کے پروگرام ’فیصلہ آپ کا‘ میں گفتگو کرتے ہوئے اسپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ لیڈر آف دی ہاؤس اور اپوزیشن اتفاق رائے سے نگران وزیراعلیٰ مقرر کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ہماری پارٹی نے قومی اسمبلی سے 5 سے 6 مہینے پہلے استعفا دیا تھا، ہماری پارٹی کا مؤقف ہے کہ ہمیں انتخابات پر جانا چاہئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ گورنر صاحب نے پہلےعدم اعتماد بھیجا اور بعد میں اعتماد کا ووٹ لینے کا کہا، ہمیں اخلاقی طور پر اعتماد کا ووٹ لینا چاہئے جو کہ وزیراعلیٰ پنجاب لیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/i/status/1605958270316793856"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ میں 10 سے 12 دن لگ سکتے ہیں۔ تحریک عدم اعتماد کیلئے رولز موجود ہیں، عدم اعتماد کا نوٹس ہمیں موصول ہوگیا ہے اب اس کی تصدیق کرنی ہے، اور اس میں دو چار دن لگ جائیں گے جس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ نگراں حکومت کیلئے وزیراعلیٰ اور اپوزیشن لیڈر بیٹھیں گے، اسپیکر حکومت اور اپوزیشن کی کمیٹی تشکیل دیں گے، اگر پھر بھی اتفاق نہ ہوا تو فیصلہ الیکشن کمیشن کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ایک یا دو دن میں دستخطوں کی تصدیق ہوجائے گی، 3 سے 7 روز کے دوران عدم اعتماد پر ووٹنگ ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سبطین خان کا کہنا تھا کہ صوبائی اسمبلی کے رولز آف پروسیجر 1997 میں تحریک عدم اعتماد کیلئے ضابطے بتائے گئے ہیں، جس کے مطابق پہلے نوٹس آتا ہے جو ہمیں مل چکا ہے۔ اس نوٹس کو ہم نے ممبران کے شناختی کارڈ کے نمبروں کے ساتھ ویریفائی کرنا ہے کہ دستخط انہی کے ہیں یا کسی اور کے ہیں۔ یہ مرحلہ ایک آدھ دن میں مکمل ہوجائے گا۔ کل کو یہ نہ ہو کہ ہم ووٹنگ کرا دیں اور چند لوگ کہیں کہ ہم تو تھے ہی نہیں، پھر ایک مسئلہ کھڑا ہوجائے۔ دو چار دن کی تاخیر سے فرق نہیں پڑتا لیکن ہم نے ایک مضبوط کام کرنا ہے تاکہ ہر کسی کیلئے واپسی کے دروازے بند ہوجائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/i/status/1605956766197506050"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم کے معاون خصوصی عطاءاللہ تارڑ نے کہا کہ گورنر پنجاب قانون اور آئین کے پابند ہیں، گورنر کی صوابدید ہے کہ وہ وزیراعلیٰ کو اعتماد کا ووٹ لینے کا کہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ ڈی نوٹیفکیشن چند گھنٹوں میں نہیں تو چند دنوں میں ہوجائے گا، عدم اعتماد کا 14 دنوں کا پروسیس ہے، اعتماد کا ووٹ پہلے آتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ پرویز الٰہی اب پھنس چکے ہیں، وہ اپنی اکثریت کھوچکے ہیں اور اعتماد کا ووٹ حاصل نہیں کرسکیں گے، جس کے بعد وزیراعلیٰ کا الیکشن کال ہوگا، جس میں جو زیادہ ووٹ لے گا وہی جیت جائے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان کا کہنا ہے کہ جنوری کے پہلے ہفتے میں عدم اعتماد کی تحریک آجائے گی، میرا خیال ہے کہ گورنر کے حکم پر وزیراعلیٰ کو اعتماد کا ووٹ لینا چاہیے۔</strong></p>
<p>آج نیوز کے پروگرام ’فیصلہ آپ کا‘ میں گفتگو کرتے ہوئے اسپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ لیڈر آف دی ہاؤس اور اپوزیشن اتفاق رائے سے نگران وزیراعلیٰ مقرر کریں گے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ہماری پارٹی نے قومی اسمبلی سے 5 سے 6 مہینے پہلے استعفا دیا تھا، ہماری پارٹی کا مؤقف ہے کہ ہمیں انتخابات پر جانا چاہئے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ گورنر صاحب نے پہلےعدم اعتماد بھیجا اور بعد میں اعتماد کا ووٹ لینے کا کہا، ہمیں اخلاقی طور پر اعتماد کا ووٹ لینا چاہئے جو کہ وزیراعلیٰ پنجاب لیں گے۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/i/status/1605958270316793856"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>اسپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ میں 10 سے 12 دن لگ سکتے ہیں۔ تحریک عدم اعتماد کیلئے رولز موجود ہیں، عدم اعتماد کا نوٹس ہمیں موصول ہوگیا ہے اب اس کی تصدیق کرنی ہے، اور اس میں دو چار دن لگ جائیں گے جس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ نگراں حکومت کیلئے وزیراعلیٰ اور اپوزیشن لیڈر بیٹھیں گے، اسپیکر حکومت اور اپوزیشن کی کمیٹی تشکیل دیں گے، اگر پھر بھی اتفاق نہ ہوا تو فیصلہ الیکشن کمیشن کرے گا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ایک یا دو دن میں دستخطوں کی تصدیق ہوجائے گی، 3 سے 7 روز کے دوران عدم اعتماد پر ووٹنگ ہوگی۔</p>
<p>سبطین خان کا کہنا تھا کہ صوبائی اسمبلی کے رولز آف پروسیجر 1997 میں تحریک عدم اعتماد کیلئے ضابطے بتائے گئے ہیں، جس کے مطابق پہلے نوٹس آتا ہے جو ہمیں مل چکا ہے۔ اس نوٹس کو ہم نے ممبران کے شناختی کارڈ کے نمبروں کے ساتھ ویریفائی کرنا ہے کہ دستخط انہی کے ہیں یا کسی اور کے ہیں۔ یہ مرحلہ ایک آدھ دن میں مکمل ہوجائے گا۔ کل کو یہ نہ ہو کہ ہم ووٹنگ کرا دیں اور چند لوگ کہیں کہ ہم تو تھے ہی نہیں، پھر ایک مسئلہ کھڑا ہوجائے۔ دو چار دن کی تاخیر سے فرق نہیں پڑتا لیکن ہم نے ایک مضبوط کام کرنا ہے تاکہ ہر کسی کیلئے واپسی کے دروازے بند ہوجائیں۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/i/status/1605956766197506050"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>وزیراعظم کے معاون خصوصی عطاءاللہ تارڑ نے کہا کہ گورنر پنجاب قانون اور آئین کے پابند ہیں، گورنر کی صوابدید ہے کہ وہ وزیراعلیٰ کو اعتماد کا ووٹ لینے کا کہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ ڈی نوٹیفکیشن چند گھنٹوں میں نہیں تو چند دنوں میں ہوجائے گا، عدم اعتماد کا 14 دنوں کا پروسیس ہے، اعتماد کا ووٹ پہلے آتا ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ پرویز الٰہی اب پھنس چکے ہیں، وہ اپنی اکثریت کھوچکے ہیں اور اعتماد کا ووٹ حاصل نہیں کرسکیں گے، جس کے بعد وزیراعلیٰ کا الیکشن کال ہوگا، جس میں جو زیادہ ووٹ لے گا وہی جیت جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30309897</guid>
      <pubDate>Thu, 22 Dec 2022 21:38:59 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (فیصلہ آپ کا)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2022/12/222151035e85331.jpg?r=215111" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2022/12/222151035e85331.jpg?r=215111"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.ytimg.com/vi/16qykIzEqMo/maxresdefault.jpg?r=213859" type="image/jpeg" medium="video" height="480" width="640">
        <media:thumbnail url="https://i.ytimg.com/vi/16qykIzEqMo/mqdefault.jpg?r=213859"/>
        <media:player url="https://www.youtube.com/watch?v=16qykIzEqMo"/>
        <media:title>Imran Khan jald elections karwana kyun chahtay hain?| Faisla Aap Ka with Asma Shirazi
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
