<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 21:04:30 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 21:04:30 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بلوچستان حکومت کو ایک ماہ میں کرشنگ پلانٹس کیلئے جگہ فراہم کرنے کی ہدایت</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30312245/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سپریم کورٹ آف پاکستان نے بلوچستان حکومت کو ایک ماہ میں کرشنگ پلانٹس کے لئے جگہ فراہم کرنے کی ہدایت کردی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3رکنی بینچ نے  کوئٹہ اسٹون کرشنگ پلانٹس کی منتقلی سے متعلق کیس کی سماعت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت عظمیٰ نے بلوچستان حکومت کو ایک ماہ میں کرشنگ پلانٹس کے لئے جگہ فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ  ایک ماہ میں  کرشنگ کے لئے جگہ مختص نہیں ہوئی تو چیف سیکرٹری پیش ہوکر وجوہات سے آگاہ کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس عائشہ نے کہا کہ گزشتہ سماعت پرعدالت نے وائلڈ لائف پارکس نوٹیفائی کرنے کا کہا تھا، صوبائی حکومت پارکس کی جگہ نوٹیفائی نہیں کرپا ہورہی اور کرشرز کو دوسری جگہ دے نہیں رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل بلوچستان نے کہا کہ  ڈائریکٹر مائینز نے کرشرز کے نمائندوں کو بلا کر جگہ دکھائی ،کوئٹہ کے نزدیک اور مناسب جگہ دی لیکن کرشرز وہاں جانا نہیں چاہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ معاملہ حل نہیں ہو رہا کیوں نہ چیف سیکرٹری بلوچستان کو بلا کر پوچھیں، لاء آفیسر فیصلہ نہیں کرسکتے تو چیف سیکرٹری ذمہ دار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ کرشرزنے کاروبار کرنا ہے انہیں صوبائی حکومت جگہ بتائے تاکہ وہ کاروبار کرسکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل بلوچستان نے استدعا کی کہ عدالت ایک ماہ کے بجائے 2 ماہ کا وقت دے، جس پر چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے کہا کہ زیادہ وقت نہیں دے سکتے اس طرح تو صوبائی حکومت کا امیج خراب ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سپریم کورٹ آف پاکستان نے بلوچستان حکومت کو ایک ماہ میں کرشنگ پلانٹس کے لئے جگہ فراہم کرنے کی ہدایت کردی۔</strong></p>
<p>چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3رکنی بینچ نے  کوئٹہ اسٹون کرشنگ پلانٹس کی منتقلی سے متعلق کیس کی سماعت کی۔</p>
<p>عدالت عظمیٰ نے بلوچستان حکومت کو ایک ماہ میں کرشنگ پلانٹس کے لئے جگہ فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ  ایک ماہ میں  کرشنگ کے لئے جگہ مختص نہیں ہوئی تو چیف سیکرٹری پیش ہوکر وجوہات سے آگاہ کریں۔</p>
<p>جسٹس عائشہ نے کہا کہ گزشتہ سماعت پرعدالت نے وائلڈ لائف پارکس نوٹیفائی کرنے کا کہا تھا، صوبائی حکومت پارکس کی جگہ نوٹیفائی نہیں کرپا ہورہی اور کرشرز کو دوسری جگہ دے نہیں رہے ہیں۔</p>
<p>ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل بلوچستان نے کہا کہ  ڈائریکٹر مائینز نے کرشرز کے نمائندوں کو بلا کر جگہ دکھائی ،کوئٹہ کے نزدیک اور مناسب جگہ دی لیکن کرشرز وہاں جانا نہیں چاہتے ہیں۔</p>
<p>جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ معاملہ حل نہیں ہو رہا کیوں نہ چیف سیکرٹری بلوچستان کو بلا کر پوچھیں، لاء آفیسر فیصلہ نہیں کرسکتے تو چیف سیکرٹری ذمہ دار ہیں۔</p>
<p>جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ کرشرزنے کاروبار کرنا ہے انہیں صوبائی حکومت جگہ بتائے تاکہ وہ کاروبار کرسکیں۔</p>
<p>ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل بلوچستان نے استدعا کی کہ عدالت ایک ماہ کے بجائے 2 ماہ کا وقت دے، جس پر چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے کہا کہ زیادہ وقت نہیں دے سکتے اس طرح تو صوبائی حکومت کا امیج خراب ہوتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30312245</guid>
      <pubDate>Thu, 12 Jan 2023 12:01:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2023/01/12120133c478607.png?r=120153" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2023/01/12120133c478607.png?r=120153"/>
        <media:title>فوٹو۔۔۔۔۔۔۔۔ فائل
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
