<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 18:02:22 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 18:02:22 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایرانی نائب وزیردفاع علی رضا کو پھانسی دے دی گئی، ایرانی میڈیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30312500/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران نے سابق نائب وزیر دفاع علی رضا اکبری کو برطانیہ کے لیے جاسوسی کے الزام میں پھانسی دے دی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیرملکی خبررساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق ایران نے اپنے نائب وزیردفاع کو جاسوسی کے الزام میں موت کی سزا سنائی تھی، جس کے بعد انہیں پھانسی دے دی ہے، جو برطانوی نژاد ایرانی شہری تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علی رضا اکبری نے 1980 کی دہائی میں ایران عراق جنگ کے بعد سے وہ علی شمخانی کے قریبی ساتھی رہے تھے، جو اُس وقت ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے نائب وزیر دفاع کے طور پر خدمات انجام دیں، جب علی شمخانی 1997 سے 2005 تک وزیر تھے، جو اصلاح پسند صدر محمد خاتمی کی انتظامیہ کا حصہ تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کی جانب سے نشر کی گئی ایک ویڈیو میں کیپشن کے مطابق علی رضا اکبری سن 2008 میں قلیل وقت کے لئے حراست میں رہنے کے بعد ضمانت پر رہا ہوتے ہی برطانیہ چلے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایران نے سابق نائب وزیر دفاع علی رضا اکبری کو برطانیہ کے لیے جاسوسی کے الزام میں پھانسی دے دی ہے۔</strong></p>
<p>غیرملکی خبررساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق ایران نے اپنے نائب وزیردفاع کو جاسوسی کے الزام میں موت کی سزا سنائی تھی، جس کے بعد انہیں پھانسی دے دی ہے، جو برطانوی نژاد ایرانی شہری تھے۔</p>
<p>علی رضا اکبری نے 1980 کی دہائی میں ایران عراق جنگ کے بعد سے وہ علی شمخانی کے قریبی ساتھی رہے تھے، جو اُس وقت ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری تھے۔</p>
<p>انہوں نے نائب وزیر دفاع کے طور پر خدمات انجام دیں، جب علی شمخانی 1997 سے 2005 تک وزیر تھے، جو اصلاح پسند صدر محمد خاتمی کی انتظامیہ کا حصہ تھے۔</p>
<p>ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کی جانب سے نشر کی گئی ایک ویڈیو میں کیپشن کے مطابق علی رضا اکبری سن 2008 میں قلیل وقت کے لئے حراست میں رہنے کے بعد ضمانت پر رہا ہوتے ہی برطانیہ چلے گئے تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30312500</guid>
      <pubDate>Sat, 14 Jan 2023 14:24:49 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2023/01/141416475dafc8a.png?r=142151" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2023/01/141416475dafc8a.png?r=142151"/>
        <media:title>سابق نائب وزیر دفاع علی رضا اکبری - تصویر/ روئٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
