<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 12 May 2026 20:08:42 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 12 May 2026 20:08:42 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کراچی جرائم میں اضافہ، ویمن پروٹیکشن ویلفیئر ٹرسٹ نے عدالت سے رجوع کرلیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30314182/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ویمن پروٹیکشن ویلفیئر ٹرسٹ نے کراچی میں بڑھتے ہوئے اسٹریٹ کرائم کے خلاف عدالت سے رجوع کرلیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سندھ ہائیکورٹ میں دائر کی گئی درخواست کے مطابق خواتین کے پرس ،موبائل چھیننے کی وارداتوں میں اضافہ ہوگیا ہے جبکہ اسٹریٹ کرائم کی صورتحال قابو سے باہر ہوچکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وکیل درخواست گزار کا کہنا ہے کہ پولیس سی پی ایل سی سے بروقت رابطہ نہیں کرتی ہے اور مزاحمت پر روزانہ کی بنیاد پر قتل کیے جارہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درخواست کے مطابق اداروں کے درمیان رابطہ نہ ہونے کا فائدہ ملزمان کو ہوتا ہے اور موبائل چھیننے کے مقدمات سی ٹی ڈی اور ایس آئی یو کو دیئے جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درخواست میں چیف سیکرٹری، ہوم سیکرٹری سندھ، پولیس حکام ،ایف آئی اے سمیت دیگر ادارے فریق بنایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے ساتھ ہی درخواست میں سی پی ایل سی اور ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیوں کو بھی درخواست میں فریق بنایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس نعمت اللہ پھپھلوٹو نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ درخواست گزار اس صورت حال سے کیسے متاثر ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے درخواست قابل سماعت ہونے سے متعلق وضاحت طلب کرتے ہوئے سماعت ایک ہفتے کیلیے ملتوی کردی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ویمن پروٹیکشن ویلفیئر ٹرسٹ نے کراچی میں بڑھتے ہوئے اسٹریٹ کرائم کے خلاف عدالت سے رجوع کرلیا ہے۔</strong></p>
<p>سندھ ہائیکورٹ میں دائر کی گئی درخواست کے مطابق خواتین کے پرس ،موبائل چھیننے کی وارداتوں میں اضافہ ہوگیا ہے جبکہ اسٹریٹ کرائم کی صورتحال قابو سے باہر ہوچکی ہے۔</p>
<p>وکیل درخواست گزار کا کہنا ہے کہ پولیس سی پی ایل سی سے بروقت رابطہ نہیں کرتی ہے اور مزاحمت پر روزانہ کی بنیاد پر قتل کیے جارہے ہیں۔</p>
<p>درخواست کے مطابق اداروں کے درمیان رابطہ نہ ہونے کا فائدہ ملزمان کو ہوتا ہے اور موبائل چھیننے کے مقدمات سی ٹی ڈی اور ایس آئی یو کو دیئے جائیں۔</p>
<p>درخواست میں چیف سیکرٹری، ہوم سیکرٹری سندھ، پولیس حکام ،ایف آئی اے سمیت دیگر ادارے فریق بنایا گیا ہے۔</p>
<p>اس کے ساتھ ہی درخواست میں سی پی ایل سی اور ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیوں کو بھی درخواست میں فریق بنایا گیا ہے۔</p>
<p>جسٹس نعمت اللہ پھپھلوٹو نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ درخواست گزار اس صورت حال سے کیسے متاثر ہے؟</p>
<p>عدالت نے درخواست قابل سماعت ہونے سے متعلق وضاحت طلب کرتے ہوئے سماعت ایک ہفتے کیلیے ملتوی کردی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30314182</guid>
      <pubDate>Fri, 27 Jan 2023 10:16:48 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (شمیل احمد)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2023/01/271012378bf9249.png?r=101310" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2023/01/271012378bf9249.png?r=101310"/>
        <media:title>تصویر: پی پی آئی/ فائل
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
