<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 24 Jun 2026 14:14:46 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 24 Jun 2026 14:14:46 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکا نے 8 روزمیں چوتھی نامعلوم شے مار گرائی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30316191/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکا کے جنگی جہازوں نے ملکی حدود میں اڑنے والی ایک اور ناقابل شناخت چیزمارگرائی۔ایسے ناقابل شناخت آبجیکٹس کو گرائے جانے کی یہ گزشتہ 8 روز کے دوران چوتھی کارروائی تھی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میڈیا رپورٹس کے مطابق جنگی جہازوں نے ہورون جھیل کے اوپراڑنے والی چیزکو نشانہ بنایا جس کے احکامات امریکی صدرجوبائیڈن کی جانب سے جاری کیے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی محکمہ دفاع کے مطابق ماضی میں مشتبہ اڑنے والی اشیاء کے سامنے آنے کا ایسا تسلسل کبھی دیکھنے کو نہیں ملا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30315976"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی فوج کی نارتھ کمانڈ کےاعلٰی عہدیدارجنرل گلین وینہرک نے میڈیا نمائندوں کو بتایا کہ ایسی ناقابل شناخت چیزوں کونشانہ بنائے جانے کی بڑی وجہ  چینی جاسوس غبارہ بھی ہے جوگزشتہ ماہ کے آخر میں ہماری فضائی حدود میں نظرآیا تھا۔ یہ ایک قسم کا انتباہ ہے’۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین کی جانب سے کہا جاچکا ہے کہ یہ ان کا موسم کی پیش گوئی کرنے والا غبارہ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس واقعے کے بعد گزشتہ ہفتے بھی امریکی جنگی جہازوں نے کینیڈا اورالاسکا کے اوپراڑنے والی نامعلوم چیزوں کو نشانہ بنایا تھا۔ پینٹاگون حکام کی جانب سے جاری کیے جانے والے بیان میں کہا گیا تھا کہ نشانہ بنائے جانے والے ابجیکٹس قومی سلامتی کیلئے بڑا خطرہ نہیں تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واقعے کے بعد امریکی حکام نے یہ بھی واضح کیا کہ ریڈار کے ذریعے اڑنے والی اشیا کی مسلسل نگرانی کی جاتی ہے اوراحتیاطاً فضائی حدودو کو بند کرنا کوئی غیرمعمولی بات نہیں۔ ہم فضائی حدود مزید محفوظ بناتے ہوئے تحقیقات کررہے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکا کے جنگی جہازوں نے ملکی حدود میں اڑنے والی ایک اور ناقابل شناخت چیزمارگرائی۔ایسے ناقابل شناخت آبجیکٹس کو گرائے جانے کی یہ گزشتہ 8 روز کے دوران چوتھی کارروائی تھی۔</strong></p>
<p>میڈیا رپورٹس کے مطابق جنگی جہازوں نے ہورون جھیل کے اوپراڑنے والی چیزکو نشانہ بنایا جس کے احکامات امریکی صدرجوبائیڈن کی جانب سے جاری کیے گئے تھے۔</p>
<p>امریکی محکمہ دفاع کے مطابق ماضی میں مشتبہ اڑنے والی اشیاء کے سامنے آنے کا ایسا تسلسل کبھی دیکھنے کو نہیں ملا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30315976"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>امریکی فوج کی نارتھ کمانڈ کےاعلٰی عہدیدارجنرل گلین وینہرک نے میڈیا نمائندوں کو بتایا کہ ایسی ناقابل شناخت چیزوں کونشانہ بنائے جانے کی بڑی وجہ  چینی جاسوس غبارہ بھی ہے جوگزشتہ ماہ کے آخر میں ہماری فضائی حدود میں نظرآیا تھا۔ یہ ایک قسم کا انتباہ ہے’۔</p>
<p>چین کی جانب سے کہا جاچکا ہے کہ یہ ان کا موسم کی پیش گوئی کرنے والا غبارہ تھا۔</p>
<p>اس واقعے کے بعد گزشتہ ہفتے بھی امریکی جنگی جہازوں نے کینیڈا اورالاسکا کے اوپراڑنے والی نامعلوم چیزوں کو نشانہ بنایا تھا۔ پینٹاگون حکام کی جانب سے جاری کیے جانے والے بیان میں کہا گیا تھا کہ نشانہ بنائے جانے والے ابجیکٹس قومی سلامتی کیلئے بڑا خطرہ نہیں تھے۔</p>
<p>واقعے کے بعد امریکی حکام نے یہ بھی واضح کیا کہ ریڈار کے ذریعے اڑنے والی اشیا کی مسلسل نگرانی کی جاتی ہے اوراحتیاطاً فضائی حدودو کو بند کرنا کوئی غیرمعمولی بات نہیں۔ ہم فضائی حدود مزید محفوظ بناتے ہوئے تحقیقات کررہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30316191</guid>
      <pubDate>Mon, 13 Feb 2023 12:38:33 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2023/02/1312372304dfada.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2023/02/1312372304dfada.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
