<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Life &amp; Style</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 13 May 2026 02:57:56 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 13 May 2026 02:57:56 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پشاور:200 سال قدیم سری پائے کی دکان جسے 5ویں نسل چلا رہی ہے</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30319659/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پشاورکےعلاقے تحصیل میں پیپل کے درخت کے نیچے قائم 200 سال پرانی سری پائے کی دکان میں اب پانچویں نسل اپنے آباؤ اجداد کا تاریخی کاروبار چلا رہی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دکان کے مالک عمردارز نے آج ڈیجیٹل کو بتایا کہ ان کی قدیم دُکان کے یہ مشہور سری پائے کھانے صوبے کے مختلف اضلاع سمیت راولپنڈی، اسلام آباد، کراچی سے بھی لوگ آتے ہیں، جبکہ بیرون ملک بھی لوگ فریزکروا کرلے جاتے ہیں جبکہ گرمی کے موسم میں سوات اور مری سے بھی آرڈرز موصول ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید بھی شہر کے مشہور پائے کھانے اس دکان پہنچ چکے ہیں، جہاں وہ سری پائے  کھاکر خوب لطف اندوز ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/AttaullahQuotes/status/1215864526853361664?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی نے جہاں عام آدمی کی کمرتوڑی وہاں کاروبار کرنے والے حضرات کو بھی پریشان کردیا ہے۔ عمردراز کے مطابق سازگار حالات میں 2 سے 3 من سری پائے یومیہ فروخت ہوتے تھے لیکن اب مہنگائی کے باعث کاروبار شدید متاثرہوا ، جو گھٹ کر ایک من یومیہ تک آگیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مٹی کے مٹکے میں 18 گھنٹوں کی ہلکی آنچ پر تیار کیے جانے والے سری پائے میں مصالحہ جات بھی دیسی استعمال کئے جاتے ہیں اور گاہک کو خوراک بھی مٹی کے پیالوں میں ہی پیش کی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سری پائے کی قیمت کی بات جائے، تو بڑا پیالہ 500 کا ہے لیکن کھانے والوں کا خیال کرتے ہوئے انہیں 200 اور 300 فی پیالہ بھی فروخت کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پشاورکےعلاقے تحصیل میں پیپل کے درخت کے نیچے قائم 200 سال پرانی سری پائے کی دکان میں اب پانچویں نسل اپنے آباؤ اجداد کا تاریخی کاروبار چلا رہی ہے۔</strong></p>
<p>دکان کے مالک عمردارز نے آج ڈیجیٹل کو بتایا کہ ان کی قدیم دُکان کے یہ مشہور سری پائے کھانے صوبے کے مختلف اضلاع سمیت راولپنڈی، اسلام آباد، کراچی سے بھی لوگ آتے ہیں، جبکہ بیرون ملک بھی لوگ فریزکروا کرلے جاتے ہیں جبکہ گرمی کے موسم میں سوات اور مری سے بھی آرڈرز موصول ہوتے ہیں۔</p>
<p>عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید بھی شہر کے مشہور پائے کھانے اس دکان پہنچ چکے ہیں، جہاں وہ سری پائے  کھاکر خوب لطف اندوز ہوئے۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/AttaullahQuotes/status/1215864526853361664?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی نے جہاں عام آدمی کی کمرتوڑی وہاں کاروبار کرنے والے حضرات کو بھی پریشان کردیا ہے۔ عمردراز کے مطابق سازگار حالات میں 2 سے 3 من سری پائے یومیہ فروخت ہوتے تھے لیکن اب مہنگائی کے باعث کاروبار شدید متاثرہوا ، جو گھٹ کر ایک من یومیہ تک آگیا ہے۔</p>
<p>مٹی کے مٹکے میں 18 گھنٹوں کی ہلکی آنچ پر تیار کیے جانے والے سری پائے میں مصالحہ جات بھی دیسی استعمال کئے جاتے ہیں اور گاہک کو خوراک بھی مٹی کے پیالوں میں ہی پیش کی جاتی ہے۔</p>
<p>سری پائے کی قیمت کی بات جائے، تو بڑا پیالہ 500 کا ہے لیکن کھانے والوں کا خیال کرتے ہوئے انہیں 200 اور 300 فی پیالہ بھی فروخت کیا جاتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30319659</guid>
      <pubDate>Fri, 10 Mar 2023 11:44:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (کاشان اعوان)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2023/03/10113718cb5a416.png?r=122856" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2023/03/10113718cb5a416.png?r=122856"/>
        <media:title>مٹی کے مٹکے میں تیار کیے جانے والے سری پائے میں مصالحہ جات بھی دیسی استعمال کئے جاتے ہیں - تصویر/ نمائندہ آج نیوز
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2023/03/10113614f1d44cd.png?r=122856" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2023/03/10113614f1d44cd.png?r=122856"/>
        <media:title>پائے بیرون ملک بھی لوگ فریزکروا کرلے جاتے ہیں، دکان کے مالک کا بیان - تصویر/ نمائندہ آج نیوز
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2023/03/10122813caf6211.png?r=122856" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2023/03/10122813caf6211.png?r=122856"/>
        <media:title>مہنگائی سے کاروبار شدید متاثرہوا دکاندار - تصویر/ نمائندہ آج نیوز
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2023/03/101136074a02886.png?r=122856" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2023/03/101136074a02886.png?r=122856"/>
        <media:title>سری پائے کی دکان اس پیپل کے درخت کے نیچے قائم 200 سال سے قئم ہے۔ تصویر/ نمائندہ آج نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
