<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 18:00:30 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 18:00:30 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مہسا امینی کی ہلاکت: ایرانی عدلیہ نے گرفتار 22 ہزار مظاہرین کو معاف کردیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30320143/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایرانی عدلیہ نے حکومت مخالف مظاہروں میں حصہ لینے کے جُرم میں گرفتار کیے جانیوالے گرفتار 22 ہزار افراد کو معاف کردیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ برس ستمبر میں نوجوان لڑکی مہسا امینی کی اخلاقی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد ملک بھرمیں احتجاج کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا، جو کئی ماہ تک جاری رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/4  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30319641"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی اعجئی نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اب تک 82 ہزار افراد کو معاف کیا گیا ہے، جبکہ ان میں سے 22 ہزار ایسے افراد شامل ہیں جنہوں نے حکومت مخالف مظاہروں میں حصہ لیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں غلام حسین محسنی نے یہ واضح نہیں کیا کہ حکومت مخالف مظاہروں میں شریک افراد کو معافی کب سے دی گئی ہے اور ان پر فردِ جُرم کب عائد کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری میڈیا نے گزشتہ ماہ کے شروعات میں خبر دی تھی کہ سپریم لیڈرآیت اللہ علی خامنہ نے حکومت مخالف مظاہروں کو روکنے کے لئے کریک ڈاؤن کے دوران گرفتار کیے گئے ہزاروں افراد کو معاف کردیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت مخالف مظاہروں میں ہزاروں افراد نے شرکت کی تھی، مظاہرے دیکھتے ہی دیکھتے ملک بھر میں پھیل گئے تھے، جو 1979 کے انقلاب کے بعد سے ایرانی حکومت کے لئے کسی بڑے چیلنج سے کم نہیں تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایرانی عدلیہ نے حکومت مخالف مظاہروں میں حصہ لینے کے جُرم میں گرفتار کیے جانیوالے گرفتار 22 ہزار افراد کو معاف کردیا ہے۔</strong></p>
<p>گزشتہ برس ستمبر میں نوجوان لڑکی مہسا امینی کی اخلاقی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد ملک بھرمیں احتجاج کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا، جو کئی ماہ تک جاری رہا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/4  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30319641"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ایرانی عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی اعجئی نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اب تک 82 ہزار افراد کو معاف کیا گیا ہے، جبکہ ان میں سے 22 ہزار ایسے افراد شامل ہیں جنہوں نے حکومت مخالف مظاہروں میں حصہ لیا تھا۔</p>
<p>بیان میں غلام حسین محسنی نے یہ واضح نہیں کیا کہ حکومت مخالف مظاہروں میں شریک افراد کو معافی کب سے دی گئی ہے اور ان پر فردِ جُرم کب عائد کی گئی تھی۔</p>
<p>سرکاری میڈیا نے گزشتہ ماہ کے شروعات میں خبر دی تھی کہ سپریم لیڈرآیت اللہ علی خامنہ نے حکومت مخالف مظاہروں کو روکنے کے لئے کریک ڈاؤن کے دوران گرفتار کیے گئے ہزاروں افراد کو معاف کردیا ہے۔</p>
<p>حکومت مخالف مظاہروں میں ہزاروں افراد نے شرکت کی تھی، مظاہرے دیکھتے ہی دیکھتے ملک بھر میں پھیل گئے تھے، جو 1979 کے انقلاب کے بعد سے ایرانی حکومت کے لئے کسی بڑے چیلنج سے کم نہیں تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30320143</guid>
      <pubDate>Tue, 14 Mar 2023 10:09:59 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2023/03/141007290e32901.png?r=100752" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2023/03/141007290e32901.png?r=100752"/>
        <media:title>تصویر/ روئٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
