<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 03:16:57 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 03:16:57 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کراچی پولیس نے رعایتی اشیاء کے اسٹالز کو سیکیورٹی فراہم کردی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30321744/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سندھ حکومت نے کراچی میں رمضان کے دوران انتہائی رعایتی قیمتوں پر فروخت ہونے والے پھلوں اور سبزیوں کے دو اسٹالز کو پولیس سیکیورٹی فراہم کردی ہے۔ ان دونوں اسٹالز پر جمعہ کو پرتشدد ہجوم نے حملہ کیا تھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعے کو کراچی کے جیل چورنگی اور حسن اسکوائر پر ہجوم نے ان دو ٹیموں کی جانب سے لگائے گئے رعایتی پھلوں کے اسٹالز پر دھاوا بول دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حملے کے دوران سارے پھل سڑک پر بکھر گئے اور خیمے اکھڑ گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/i/status/1639288643637452800"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دو الگ الگ ٹیموں کے منتظمین نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ اپنے مشن کو جاری رکھیں گے تاکہ مقدس مہینے میں لوگوں کو رعایتی قیمتوں پر پھل، سبزیاں اور دیگر اشیاء فراہم کی جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منتظمین کے مطابق ان رضاکاروں کو لاٹھیوں سے مسلح ہجوم نے تشدد کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="ڈسکاؤنٹ-پیش-کرنے-والے-نوجوان" href="#ڈسکاؤنٹ-پیش-کرنے-والے-نوجوان" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;ڈسکاؤنٹ پیش کرنے والے نوجوان&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;مذکورہ اسٹالز دو الگ الگ ٹیموں نے لگائے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اسٹال کی قیادت یونیورسٹی کا ایک طالب علم حماد کر رہے  ہے۔ وہ اپنی این جی او ”حماد فاؤنڈیشن“ کے تحت کام کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرا اسٹال مصطفیٰ حنیف نے لگایا ہے جو ”مصطفیٰ حنیف ٹرسٹ“ چلا رہے ہیں اور بین الاقوامی سطح پر لوگوں کی خدمت کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مصطفیٰ حنیف نے ہفتے کے روز اپنے فیس بک پروفائل پر تصدیق کی تھی کہ اسٹالز پر پولیس تعینات کر دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--facebook  media__item--relative'&gt;&lt;div class="fb-video" data-href="https://www.facebook.com/watch/?v=1300620410533778" data-width="auto"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب وہ کیمرے سے بات کر رہے تھے تو حسن اسکوائر کے اسٹال پر دو پولیس کانسٹیبل ان کے پیچھے نظر آئے۔ پولیس کی ایک گشتی وین بھی قریب ہی تعینات کر دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مصطفیٰ حنیف نے کہا کہ لوگ ہفتہ کی سہ پہر ”نظم و ضبط کے ساتھ“ قطار میں انتظار کر رہے تھے، اور تقسیم سے پہلے رضاکاروں نے پھلوں کو چھوٹے پیکجز میں پیک کردیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعے کو ہجوم کے حملے سے پہلے حماد نے آج نیوز کو بتایا کہ ان کی این جی او 10 روپے فی کلو میں پھل، سبزی، روٹی 5 روپے اور چکن 100 روپے فی کلو کے حساب سے پیش کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ہم کم قیمتیں وصول کر رہے ہیں کیونکہ ”ہم کسی کی عزت نفس کو ٹھیس نہیں پہنچانا چاہتے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حملے کے بعد حماد کا کہنا تھا کہ اسے لگتا ہے اس حملے کے پیچھے منافع خور مافیا کا ہاتھ ہے۔ ”وہ رعایتی پھلوں کی فروخت برداشت نہیں کر سکتے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حماد نے کہا کہ حملے کے وقت پولیس نے کوئی مدد نہیں کی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سندھ حکومت نے کراچی میں رمضان کے دوران انتہائی رعایتی قیمتوں پر فروخت ہونے والے پھلوں اور سبزیوں کے دو اسٹالز کو پولیس سیکیورٹی فراہم کردی ہے۔ ان دونوں اسٹالز پر جمعہ کو پرتشدد ہجوم نے حملہ کیا تھا۔</strong></p>
<p>جمعے کو کراچی کے جیل چورنگی اور حسن اسکوائر پر ہجوم نے ان دو ٹیموں کی جانب سے لگائے گئے رعایتی پھلوں کے اسٹالز پر دھاوا بول دیا تھا۔</p>
<p>حملے کے دوران سارے پھل سڑک پر بکھر گئے اور خیمے اکھڑ گئے۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/i/status/1639288643637452800"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>دو الگ الگ ٹیموں کے منتظمین نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ اپنے مشن کو جاری رکھیں گے تاکہ مقدس مہینے میں لوگوں کو رعایتی قیمتوں پر پھل، سبزیاں اور دیگر اشیاء فراہم کی جائیں۔</p>
<p>منتظمین کے مطابق ان رضاکاروں کو لاٹھیوں سے مسلح ہجوم نے تشدد کیا۔</p>
<h2><a id="ڈسکاؤنٹ-پیش-کرنے-والے-نوجوان" href="#ڈسکاؤنٹ-پیش-کرنے-والے-نوجوان" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>ڈسکاؤنٹ پیش کرنے والے نوجوان</h2>
<p>مذکورہ اسٹالز دو الگ الگ ٹیموں نے لگائے ہیں۔</p>
<p>ایک اسٹال کی قیادت یونیورسٹی کا ایک طالب علم حماد کر رہے  ہے۔ وہ اپنی این جی او ”حماد فاؤنڈیشن“ کے تحت کام کر رہے ہیں۔</p>
<p>دوسرا اسٹال مصطفیٰ حنیف نے لگایا ہے جو ”مصطفیٰ حنیف ٹرسٹ“ چلا رہے ہیں اور بین الاقوامی سطح پر لوگوں کی خدمت کر رہے ہیں۔</p>
<p>مصطفیٰ حنیف نے ہفتے کے روز اپنے فیس بک پروفائل پر تصدیق کی تھی کہ اسٹالز پر پولیس تعینات کر دی گئی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--facebook  media__item--relative'><div class="fb-video" data-href="https://www.facebook.com/watch/?v=1300620410533778" data-width="auto"></div></div>
        
    </figure></p>
<p>جب وہ کیمرے سے بات کر رہے تھے تو حسن اسکوائر کے اسٹال پر دو پولیس کانسٹیبل ان کے پیچھے نظر آئے۔ پولیس کی ایک گشتی وین بھی قریب ہی تعینات کر دی گئی ہے۔</p>
<p>مصطفیٰ حنیف نے کہا کہ لوگ ہفتہ کی سہ پہر ”نظم و ضبط کے ساتھ“ قطار میں انتظار کر رہے تھے، اور تقسیم سے پہلے رضاکاروں نے پھلوں کو چھوٹے پیکجز میں پیک کردیا تھا۔</p>
<p>جمعے کو ہجوم کے حملے سے پہلے حماد نے آج نیوز کو بتایا کہ ان کی این جی او 10 روپے فی کلو میں پھل، سبزی، روٹی 5 روپے اور چکن 100 روپے فی کلو کے حساب سے پیش کر رہی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ہم کم قیمتیں وصول کر رہے ہیں کیونکہ ”ہم کسی کی عزت نفس کو ٹھیس نہیں پہنچانا چاہتے۔“</p>
<p>حملے کے بعد حماد کا کہنا تھا کہ اسے لگتا ہے اس حملے کے پیچھے منافع خور مافیا کا ہاتھ ہے۔ ”وہ رعایتی پھلوں کی فروخت برداشت نہیں کر سکتے۔“</p>
<p>حماد نے کہا کہ حملے کے وقت پولیس نے کوئی مدد نہیں کی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30321744</guid>
      <pubDate>Sat, 25 Mar 2023 18:24:52 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (کامران شیخ)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2023/03/25182429d599df4.jpg?r=182452" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2023/03/25182429d599df4.jpg?r=182452"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
