<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 15:05:27 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 15:05:27 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کراچی میں تیزاب گردی کے بڑھتے واقعات، خطرناک مائع کی فروخت کھلے عام جاری</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30322204/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;شہر قائد کراچی میں تیزاب گردی رکنے میں نہیں آرہی، رواں سال اب تک تیزاب گردی کے تین واقعات رپورٹ ہوچکے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہر میں انتہائی خطرناک تیزاب جس کے لیے لائسنس کی ضرورت ہوتی ہے وہ بھی بغیر لائسنس باآسانی دستیاب ہوجاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیزاب ایک انتہائی مہلک ہتھیار ہے جو پل بھرمیں زندگی چھین لیتا ہے یا پھر عمر بھر کا روگ لگادیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیزاب گردی کا آسان ہدف خواتین ہوتی ہیں، جو کبھی شادی سے انکار پر تو کبھی محبت، نام نہاد غیرت پر تیزاب سے جلا دی جاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے باوجود شہر قائد میں کھلے عام تیزاب کی فروخت جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قانون دان و انسانی حقوق کی تنظیم ”مددگار“ کے سربراہ ضیاء اعوان کا کہنا ہے کہ تیزاب گردی کے واقعات کو روکنے کے لیے منظم حکمت عملی بنانے کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دکانداروں کا کہنا ہے کہ گندھک کا تیزاب بہت زیادہ خطرناک ہوتا ہے، اس کو رکھنے کے لئے لائسنس درکار ہوتا ہے۔ لیکن بغیر لائسنس کے بھی اس کی فروخت جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں سال تیزاب گردی کے تین کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سال 2016 اور 2017 میں تیزاب پھینکنے کے 71 واقعات پیش آئے، جبکہ 2018 اور 2019 میں ان واقعات کی کل تعداد 26 رہی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>شہر قائد کراچی میں تیزاب گردی رکنے میں نہیں آرہی، رواں سال اب تک تیزاب گردی کے تین واقعات رپورٹ ہوچکے ہیں۔</strong></p>
<p>شہر میں انتہائی خطرناک تیزاب جس کے لیے لائسنس کی ضرورت ہوتی ہے وہ بھی بغیر لائسنس باآسانی دستیاب ہوجاتا ہے۔</p>
<p>تیزاب ایک انتہائی مہلک ہتھیار ہے جو پل بھرمیں زندگی چھین لیتا ہے یا پھر عمر بھر کا روگ لگادیتا ہے۔</p>
<p>تیزاب گردی کا آسان ہدف خواتین ہوتی ہیں، جو کبھی شادی سے انکار پر تو کبھی محبت، نام نہاد غیرت پر تیزاب سے جلا دی جاتی ہیں۔</p>
<p>اس کے باوجود شہر قائد میں کھلے عام تیزاب کی فروخت جاری ہے۔</p>
<p>قانون دان و انسانی حقوق کی تنظیم ”مددگار“ کے سربراہ ضیاء اعوان کا کہنا ہے کہ تیزاب گردی کے واقعات کو روکنے کے لیے منظم حکمت عملی بنانے کی ضرورت ہے۔</p>
<p>دکانداروں کا کہنا ہے کہ گندھک کا تیزاب بہت زیادہ خطرناک ہوتا ہے، اس کو رکھنے کے لئے لائسنس درکار ہوتا ہے۔ لیکن بغیر لائسنس کے بھی اس کی فروخت جاری ہے۔</p>
<p>رواں سال تیزاب گردی کے تین کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔</p>
<p>سال 2016 اور 2017 میں تیزاب پھینکنے کے 71 واقعات پیش آئے، جبکہ 2018 اور 2019 میں ان واقعات کی کل تعداد 26 رہی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30322204</guid>
      <pubDate>Wed, 29 Mar 2023 20:32:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (محمد رضا)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2023/03/292030495186390.jpg?r=203217" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2023/03/292030495186390.jpg?r=203217"/>
        <media:title>فائل فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
