<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 22:09:05 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 22:09:05 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سپریم کورٹ کے 8 ججز کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30323993/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;چیف جسٹس عمر عطا بندیال سمیت سپریم کورٹ کے 8 ججز کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کر دیا گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میاں داؤد ایڈووکیٹ نے 8 ججز کے خلاف ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل میں دائر کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دائر ریفرنس میں آئین کے آرٹیکل 209 اور ججز کوڈ آف کنڈکٹ کی دفعات 3 تا 6 اور 9 کی خلاف ورزی کو بنیاد بنایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سپریم جوڈیشل کونسل میں دائر ریفرنس میں چیف جسٹس بندیال کے علاوہ 8 ججز جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر ، جسٹس مظاہر نقوی، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ اے ملک ، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس شاہد وحید کو بطور فریق شامل کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریفرنس میں کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس بندیال نے پارلیمنٹ کے منظورکردہ بل کو سماعت کے لئے مقرر کرکے اختیارات سے تجاوز کیا ہے، چیف جسٹس نے اپنی سربراہی میں غیرآئینی طور پر 8 رکنی بینچ تشکیل دیا، چیف جسٹس درخواستوں کی سماعت کے لئے بینچ کی خود سربراہی کرکے مس کنڈکٹ کے مرتکب ہوئے جبکہ باقی 7 ججز بھی پارلیمنٹ کے بل پر سماعت اور اسے معطل کر کے آئین ، قانون اور کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریفرنس کے متن میں مزید نشاندہی کی گئی ہے کہ ڈاکٹر مبشر حسن کیس میں 17 رکنی فل کورٹ اور اعتزاز احسن کیس میں 12 رکنی بینچ بل کے خلاف حکم امتناعی جاری نہ کرنے کا اصول طے کرچکا ہے لیکن اس کے باوجود کم تعداد کے حامل 8 ججز نے پارلیمنٹ کے بل کے خلاف حکم امتناعی جاری کرکے قانون کی  خلاف ورزی کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریفرنس میں سپریم جوڈیشل کونسل سے استدعا کی گئی ہے کہ چیف جسٹس سمیت 8ججز کو انکوائری کے بعد برطرف کرنے کا حکم دے اور ریفرنس کے حتمی فیصلے تک انہیں فوری کام سے روکا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;8 ججز کے خلاف ریفرنس کی کاپی جسٹس قاضی فائز عیسی، جسٹس سردار طارق مسعود اور جسٹس منصور علی شاہ کو بھجوائی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ اور چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کو بھی بھجوائی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>چیف جسٹس عمر عطا بندیال سمیت سپریم کورٹ کے 8 ججز کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کر دیا گیا۔</strong></p>
<p>میاں داؤد ایڈووکیٹ نے 8 ججز کے خلاف ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل میں دائر کیا۔</p>
<p>دائر ریفرنس میں آئین کے آرٹیکل 209 اور ججز کوڈ آف کنڈکٹ کی دفعات 3 تا 6 اور 9 کی خلاف ورزی کو بنیاد بنایا گیا ہے۔</p>
<p>سپریم جوڈیشل کونسل میں دائر ریفرنس میں چیف جسٹس بندیال کے علاوہ 8 ججز جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر ، جسٹس مظاہر نقوی، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ اے ملک ، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس شاہد وحید کو بطور فریق شامل کیا گیا ہے۔</p>
<p>ریفرنس میں کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس بندیال نے پارلیمنٹ کے منظورکردہ بل کو سماعت کے لئے مقرر کرکے اختیارات سے تجاوز کیا ہے، چیف جسٹس نے اپنی سربراہی میں غیرآئینی طور پر 8 رکنی بینچ تشکیل دیا، چیف جسٹس درخواستوں کی سماعت کے لئے بینچ کی خود سربراہی کرکے مس کنڈکٹ کے مرتکب ہوئے جبکہ باقی 7 ججز بھی پارلیمنٹ کے بل پر سماعت اور اسے معطل کر کے آئین ، قانون اور کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے۔</p>
<p>ریفرنس کے متن میں مزید نشاندہی کی گئی ہے کہ ڈاکٹر مبشر حسن کیس میں 17 رکنی فل کورٹ اور اعتزاز احسن کیس میں 12 رکنی بینچ بل کے خلاف حکم امتناعی جاری نہ کرنے کا اصول طے کرچکا ہے لیکن اس کے باوجود کم تعداد کے حامل 8 ججز نے پارلیمنٹ کے بل کے خلاف حکم امتناعی جاری کرکے قانون کی  خلاف ورزی کی۔</p>
<p>ریفرنس میں سپریم جوڈیشل کونسل سے استدعا کی گئی ہے کہ چیف جسٹس سمیت 8ججز کو انکوائری کے بعد برطرف کرنے کا حکم دے اور ریفرنس کے حتمی فیصلے تک انہیں فوری کام سے روکا جائے۔</p>
<p>8 ججز کے خلاف ریفرنس کی کاپی جسٹس قاضی فائز عیسی، جسٹس سردار طارق مسعود اور جسٹس منصور علی شاہ کو بھجوائی گئی ہے۔</p>
<p>کاپی چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ اور چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کو بھی بھجوائی گئی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30323993</guid>
      <pubDate>Fri, 14 Apr 2023 11:36:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (افضل جاوید)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2023/04/141109248eca057.png?r=111051" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2023/04/141109248eca057.png?r=111051"/>
        <media:title>سپریم کورٹ آف پاکستان
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
