<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Technology</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 17:42:02 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 17:42:02 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت: خُفیہ ایجنسیوں کی سفارش پر 14میسیجنگ ایپس بند</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30325972/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارت میں دہشت گردی کے خطرے کے پیشِ نظر خفیہ ایجنسیوں کی سفارش پر 14میسیجنگ ایپس بند کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ دہشت گرد ان ایپس کو اپنے رابطوں کے لیے استعمال کر رہے تھے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی اخبار ہندوستان ٹائمز کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ مبینہ طور پر دہشت گرد گروپ بند کی جانے والی ایپس کو مقبوضہ کشمیر میں دہشت گرد سہولت کاری کے لئے استعمال کرتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30325867"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان ایپس میں کرپوائزر، اینیگما، سیف سویس، وکرمے، میڈیا فائر، برائر، بی چیٹ، نینڈباکس، کینیئن، آئی ایم او، ایلیمنٹ، سیکنڈ لائن، زینگی اور تھریما ایپس شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق مذکورہ ایکشن سیکیورٹی اور خفیہ ایجنسیوں کی سفارش پرلیا گیا ہے ، متعلقہ وزارت کو ان ایپس کی فہرست بھجوا دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام نے کہا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ 2000 کے سیکشن 69 اے کے تحت ایپس پر پابندی عائد کی گئی  ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انڈین نیوز ایجنسی اے این آئی نے بتایا کہ ایک مراسلے میں خفیہ اداروں کے حکام نے حکومتی عہدیداروں کو بتایا کہ یہ ایپس وادی کشمیر میں دہشت گردی کے حوالے سے پروپیگنڈے کے لیے کی جارہی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کو بتایا گیا کہ خفیہ اداروں کو ان ذرائع کی تلاش رہتی ہے جن سے دہشت گرد آپس میں رابطے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ اسی سے متعلق معلوم ہوا کہ ایک موبائل ایپلی کیشن استعمال کی جارہی ہے جس کے نمائندے بھارت میں نہیں ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارت میں دہشت گردی کے خطرے کے پیشِ نظر خفیہ ایجنسیوں کی سفارش پر 14میسیجنگ ایپس بند کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ دہشت گرد ان ایپس کو اپنے رابطوں کے لیے استعمال کر رہے تھے۔</strong></p>
<p>بھارتی اخبار ہندوستان ٹائمز کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ مبینہ طور پر دہشت گرد گروپ بند کی جانے والی ایپس کو مقبوضہ کشمیر میں دہشت گرد سہولت کاری کے لئے استعمال کرتے تھے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30325867"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ان ایپس میں کرپوائزر، اینیگما، سیف سویس، وکرمے، میڈیا فائر، برائر، بی چیٹ، نینڈباکس، کینیئن، آئی ایم او، ایلیمنٹ، سیکنڈ لائن، زینگی اور تھریما ایپس شامل ہیں۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق مذکورہ ایکشن سیکیورٹی اور خفیہ ایجنسیوں کی سفارش پرلیا گیا ہے ، متعلقہ وزارت کو ان ایپس کی فہرست بھجوا دی گئی ہے۔</p>
<p>حکام نے کہا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ 2000 کے سیکشن 69 اے کے تحت ایپس پر پابندی عائد کی گئی  ہے۔</p>
<p>انڈین نیوز ایجنسی اے این آئی نے بتایا کہ ایک مراسلے میں خفیہ اداروں کے حکام نے حکومتی عہدیداروں کو بتایا کہ یہ ایپس وادی کشمیر میں دہشت گردی کے حوالے سے پروپیگنڈے کے لیے کی جارہی تھیں۔</p>
<p>حکام کو بتایا گیا کہ خفیہ اداروں کو ان ذرائع کی تلاش رہتی ہے جن سے دہشت گرد آپس میں رابطے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ اسی سے متعلق معلوم ہوا کہ ایک موبائل ایپلی کیشن استعمال کی جارہی ہے جس کے نمائندے بھارت میں نہیں ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30325972</guid>
      <pubDate>Mon, 01 May 2023 16:05:11 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2023/05/0116004686b0cb7.webp?r=160121" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2023/05/0116004686b0cb7.webp?r=160121"/>
        <media:title>تصویر: روئٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
