<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 10:08:28 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 10:08:28 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جسٹس مظاہر کے مالی معاملات پی اے سی میں لانا خلاف ضابطہ ہے، رضا ربانی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30326818/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما اور سینیٹر رضا ربانی نے جسٹس مظاہر نقوی کے مالی معاملات پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) میں زیربحت لانے کو خلاف ضابطہ قرار دیدیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینیٹر رضا ربانی نے ایک بیان میں کہا کہ پارلیمنٹ کو وہ نہیں کرنا چاہئے جس کی قانون یا آئین اجازت نہیں دیتا۔ جسٹس مظاہر کا معاملہ پی اے سی میں لانا خلاف ضابطہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیپلز پارٹی کے سابق چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے کہا کہ پارلیمان کو قانون سازی اور مالیاتی امور پر کنٹرول  کا حق ہے لیکن کسی جج کی دولت کی انکوائری پی اے سی کے اختیار سے باہر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30326396"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ 4 مئی 2023 کو قومی اسمبلی نے سپریم کورٹ کے جج جسٹس مظاہر نقوی کے آمدن سے زائد اثاثوں کا معاملہ تحقیقات کے لیے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو بھجوایا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قومی اسمبلی کے اجلاس میں وفاقی وزیر ایاز صادق نے نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے حوالے سے بارز نے ریفرنس  دائر کیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سابق اسپیکر نے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے ریفرنس کا معاملہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں بھیجنے کی تجویز دی تھی۔ جس پر قومی اسمبلی اجلاس کی صدارت کرنے والے ڈپٹی اسپیکر  زاہد اکرم درانی نے معاملہ پی اے سی کے سپرد کرتے ہوئے 15 روز میں آڈٹ رپورٹ جمع کرنے کی ہدایت کی تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما اور سینیٹر رضا ربانی نے جسٹس مظاہر نقوی کے مالی معاملات پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) میں زیربحت لانے کو خلاف ضابطہ قرار دیدیا۔</strong></p>
<p>سینیٹر رضا ربانی نے ایک بیان میں کہا کہ پارلیمنٹ کو وہ نہیں کرنا چاہئے جس کی قانون یا آئین اجازت نہیں دیتا۔ جسٹس مظاہر کا معاملہ پی اے سی میں لانا خلاف ضابطہ ہے۔</p>
<p>پیپلز پارٹی کے سابق چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے کہا کہ پارلیمان کو قانون سازی اور مالیاتی امور پر کنٹرول  کا حق ہے لیکن کسی جج کی دولت کی انکوائری پی اے سی کے اختیار سے باہر ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30326396"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>واضح رہے کہ 4 مئی 2023 کو قومی اسمبلی نے سپریم کورٹ کے جج جسٹس مظاہر نقوی کے آمدن سے زائد اثاثوں کا معاملہ تحقیقات کے لیے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو بھجوایا تھا۔</p>
<p>قومی اسمبلی کے اجلاس میں وفاقی وزیر ایاز صادق نے نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے حوالے سے بارز نے ریفرنس  دائر کیے ہیں۔</p>
<p>سابق اسپیکر نے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے ریفرنس کا معاملہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں بھیجنے کی تجویز دی تھی۔ جس پر قومی اسمبلی اجلاس کی صدارت کرنے والے ڈپٹی اسپیکر  زاہد اکرم درانی نے معاملہ پی اے سی کے سپرد کرتے ہوئے 15 روز میں آڈٹ رپورٹ جمع کرنے کی ہدایت کی تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30326818</guid>
      <pubDate>Mon, 08 May 2023 17:30:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (نوید اکبر)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2023/05/081709017d1efc0.webp?r=171207" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2023/05/081709017d1efc0.webp?r=171207"/>
        <media:title>فوٹو ــ فائل
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
