<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Life &amp; Style</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 08 Jun 2026 13:49:18 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 08 Jun 2026 13:49:18 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>روڈ کارپٹنگ کا اصل مطلب : بھارتی ٹھیکیدار نے سڑک پرقالین بچھا ڈالا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30330482/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;’روڈ کارپٹنگ‘  کی اصطلاح سے  مراد سڑکو ں کی پیوند کاری ہے جہاں ان کے مرمت طلب حصوں کو ڈامر سے ٹھیک کیا جاتا ہے لیکن سلام ہے اس بھارتی ٹھیکیدار کے کیا ہی کہنے جس نے لفظی معنوں پر غور کرتے ہوئے رڈ پرکارپٹ ہی بچھا دیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی  ٹھیکیدار نے ’لاگت‘ میں شدید کمی لاتے ہوئے اپنی جیب بھرنے کا سوچا اور منصوبہ مکمل دکھانے کیلئے چارکول گرے (سڑک سے مماثلت رکھتا قالین) ہی بچھا دیا تا کہ اس منصوبے کو مکمل دکھا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس انوکھے روڈ کے ویڈیو کلپس سوشل میڈیا پر وائرل ہیں جس میں اطراف کے دیہاتی حیران وپریشان اپنے ہاتھوں سے یہ نوتعمیر شدہ ’کارپٹ روڈ‘ دکھا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/WallStreetSilv/status/1664701528643362816?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;38 سیکنڈ کے اس کلپ میں سڑک پر قالین جیسا مواد رکھا دکھائی دیتا ہے جسے ایک مقامی ٹھیکیدار نے تعمیر کیا تھا۔ اس سڑک کو ہاتھوں میں اٹھا کر دکھانے والے دیہاتیوں کا کہنا ہے کہ یہ جعلی کام کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فری پریس جرنل کے مطابق اس سڑک کی تعمیر وزیر اعظم گرام سڑک یوجنا (پی ایم رورل روڈ اسکیم) کے تحت کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ٹھیکیدار کا دعویٰ ہے کہ اس نے سڑک کی تعمیر کے لیے جرمن ٹکنالوجی کا استعمال کیا۔ تاہم یہ دعوے ویڈیو میں نظرآنے والے کٹے پھٹے روڈ سے کھوکھلے ثابت ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقامی افراد نے ایسی ہنرمندی دکھانے پر مہاراشٹر حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کام کی منظوری دینے والے انجینئر کے خلاف کارروائی چاہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>’روڈ کارپٹنگ‘  کی اصطلاح سے  مراد سڑکو ں کی پیوند کاری ہے جہاں ان کے مرمت طلب حصوں کو ڈامر سے ٹھیک کیا جاتا ہے لیکن سلام ہے اس بھارتی ٹھیکیدار کے کیا ہی کہنے جس نے لفظی معنوں پر غور کرتے ہوئے رڈ پرکارپٹ ہی بچھا دیا۔</strong></p>
<p>بھارتی  ٹھیکیدار نے ’لاگت‘ میں شدید کمی لاتے ہوئے اپنی جیب بھرنے کا سوچا اور منصوبہ مکمل دکھانے کیلئے چارکول گرے (سڑک سے مماثلت رکھتا قالین) ہی بچھا دیا تا کہ اس منصوبے کو مکمل دکھا سکے۔</p>
<p>اس انوکھے روڈ کے ویڈیو کلپس سوشل میڈیا پر وائرل ہیں جس میں اطراف کے دیہاتی حیران وپریشان اپنے ہاتھوں سے یہ نوتعمیر شدہ ’کارپٹ روڈ‘ دکھا رہے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/WallStreetSilv/status/1664701528643362816?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>38 سیکنڈ کے اس کلپ میں سڑک پر قالین جیسا مواد رکھا دکھائی دیتا ہے جسے ایک مقامی ٹھیکیدار نے تعمیر کیا تھا۔ اس سڑک کو ہاتھوں میں اٹھا کر دکھانے والے دیہاتیوں کا کہنا ہے کہ یہ جعلی کام کیا گیا ہے۔</p>
<p>فری پریس جرنل کے مطابق اس سڑک کی تعمیر وزیر اعظم گرام سڑک یوجنا (پی ایم رورل روڈ اسکیم) کے تحت کی گئی تھی۔</p>
<p>دوسری جانب ٹھیکیدار کا دعویٰ ہے کہ اس نے سڑک کی تعمیر کے لیے جرمن ٹکنالوجی کا استعمال کیا۔ تاہم یہ دعوے ویڈیو میں نظرآنے والے کٹے پھٹے روڈ سے کھوکھلے ثابت ہوئے۔</p>
<p>مقامی افراد نے ایسی ہنرمندی دکھانے پر مہاراشٹر حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کام کی منظوری دینے والے انجینئر کے خلاف کارروائی چاہتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30330482</guid>
      <pubDate>Sat, 03 Jun 2023 13:07:13 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2023/06/0312523240a8eb2.webp" type="image/webp" medium="image" height="450" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2023/06/0312523240a8eb2.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
