<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 12 May 2026 04:58:32 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 12 May 2026 04:58:32 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بجٹ 2023-24: اسحاق ڈار سود کے خاتمے کاوعدہ پورا کرنے میں ناکام رہے</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30331385/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سراج الحق نے جمعہ کو وفاقی بجٹ 2023-24 کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا، اور کہا کہ قرضوں کی ادائیگی نے قومی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا ہے، گزشتہ سال کے اعداد و شمار کے مقابلے قرضوں کی ادائیگیوں میں 85 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی بجٹ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مالی سال 2023-24 کے 14.46 ٹریلین کے کُل بجٹ کا 55 فیصد سے زائد سود کی ادائیگیوں پر استعمال کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار ربا (سود) کے خاتمے کا اپنا وعدہ پورا نہ کرسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے ساتھ فاٹا کے ضم شدہ اضلاع کو نظر انداز کرنے پر بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس حوالے سے انہوں نے مزید کہا کہ علاقوں کی ضرورت کے مطابق معمولی رقم کا اعلان کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ حکومت کے پاس 9200 ارب روپے ٹیکس وصول کرنے کا کوئی طریقہ کار نہیں ہے، کیونکہ ہدف زمینی صورتحال کے برعکس تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے گزشتہ سال تقریباً 5000 روپے جمع کیے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ قوم کو خدشہ ہے حکومت آئی ایم ایف کے مطالبات پورے کرنے کے لیے مستقبل قریب میں ایک منی بجٹ پیش کرے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سراج الحق نے جمعہ کو وفاقی بجٹ 2023-24 کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا، اور کہا کہ قرضوں کی ادائیگی نے قومی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا ہے، گزشتہ سال کے اعداد و شمار کے مقابلے قرضوں کی ادائیگیوں میں 85 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔</strong></p>
<p>وفاقی بجٹ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مالی سال 2023-24 کے 14.46 ٹریلین کے کُل بجٹ کا 55 فیصد سے زائد سود کی ادائیگیوں پر استعمال کیا جائے گا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار ربا (سود) کے خاتمے کا اپنا وعدہ پورا نہ کرسکے۔</p>
<p>انہوں نے خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے ساتھ فاٹا کے ضم شدہ اضلاع کو نظر انداز کرنے پر بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔</p>
<p>اس حوالے سے انہوں نے مزید کہا کہ علاقوں کی ضرورت کے مطابق معمولی رقم کا اعلان کیا گیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ حکومت کے پاس 9200 ارب روپے ٹیکس وصول کرنے کا کوئی طریقہ کار نہیں ہے، کیونکہ ہدف زمینی صورتحال کے برعکس تھا۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے گزشتہ سال تقریباً 5000 روپے جمع کیے تھے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ قوم کو خدشہ ہے حکومت آئی ایم ایف کے مطالبات پورے کرنے کے لیے مستقبل قریب میں ایک منی بجٹ پیش کرے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30331385</guid>
      <pubDate>Sat, 10 Jun 2023 09:34:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (Business Recorder)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2023/06/100912479e23dd3.webp?r=091456" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2023/06/100912479e23dd3.webp?r=091456"/>
        <media:title>9 جون 2023: وزیر خزانہ اسحاق ڈار جمعہ کو قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کر رہے ہیں۔ (تصویر بزریعہ اے پی پی)
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
