<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Business &amp; Economy</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 21:59:52 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 21:59:52 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دباؤ کم ہوگیا، پاکستان روپے کی قدر میں مزید کمی نہیں کرے گا، فچ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30331408/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسی ”فِچ“ کا کہنا ہے کہ روپے پر دباؤ کم ہونے کی وجہ سے پاکستانی کرنسی کی دوبارہ قدر میں کمی کا امکان نہیں ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فِچ کے ہانگ کانگ میں مقیم ڈائریکٹر کرسجنیس کرسٹینز نے جمعہ کو امریکی خبر رساں ادارے ”بلومبرگ“ کی ایک ای میل میں کیے گئے سوالات کے جواب میں کہا کہ ’ہمیں فی الحال پاکستانی روپے کی قدر میں مزید کمی کی توقع نہیں ہے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کرسٹینز نے کہا کہ اگرچہ پچھلے کچھ ماہ میں روپیہ بہت مستحکم حالت میں ہے، لیکن اسٹیٹ بینک کے  ذخائر پر دباؤ برقرار ہے جو روپے  کے استحکام کیلئے کم سے  کم مداخلت تجویز کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ وہ بیل آؤٹ پروگرام کو دوبارہ شروع کرنے سے پہلے پاکستانی کرنسی مارکیٹ اور دیگر مسائل کو حل کرنے کے لیے حکام کے ساتھ کام کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/business/status/1667098727494942721?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوری میں حکام کی جانب سے کرنسی کی قدر میں کمی کے بعد اس سال روپیہ 20 فیصد سے زیادہ گرا ہے، جس نے اسے عالمی سطح پر بدترین کارکردگی دکھانے والی کرنسیوں میں شامل کردیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ 12 مہینوں میں 50 فیصد سے زیادہ نیچے آنے کے بعد بعد فروری کے آخر سے ملک میں ڈالر کا ذخیرہ تقریباً 4 بلین ڈالر پر مستحکم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ سپلائی کی قلت سے دوچار معیشت کو سہارا دینے اور ڈیفالٹ کو روکنے کے لیے فنڈز اہم ہوں گے، جبکہ اربوں ڈالرز کے قرض کی ادائیگی بھی قریب آرہی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسی ”فِچ“ کا کہنا ہے کہ روپے پر دباؤ کم ہونے کی وجہ سے پاکستانی کرنسی کی دوبارہ قدر میں کمی کا امکان نہیں ہے۔</strong></p>
<p>فِچ کے ہانگ کانگ میں مقیم ڈائریکٹر کرسجنیس کرسٹینز نے جمعہ کو امریکی خبر رساں ادارے ”بلومبرگ“ کی ایک ای میل میں کیے گئے سوالات کے جواب میں کہا کہ ’ہمیں فی الحال پاکستانی روپے کی قدر میں مزید کمی کی توقع نہیں ہے۔‘</p>
<p>کرسٹینز نے کہا کہ اگرچہ پچھلے کچھ ماہ میں روپیہ بہت مستحکم حالت میں ہے، لیکن اسٹیٹ بینک کے  ذخائر پر دباؤ برقرار ہے جو روپے  کے استحکام کیلئے کم سے  کم مداخلت تجویز کرتا ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ وہ بیل آؤٹ پروگرام کو دوبارہ شروع کرنے سے پہلے پاکستانی کرنسی مارکیٹ اور دیگر مسائل کو حل کرنے کے لیے حکام کے ساتھ کام کر رہا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/business/status/1667098727494942721?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>جنوری میں حکام کی جانب سے کرنسی کی قدر میں کمی کے بعد اس سال روپیہ 20 فیصد سے زیادہ گرا ہے، جس نے اسے عالمی سطح پر بدترین کارکردگی دکھانے والی کرنسیوں میں شامل کردیا ہے۔</p>
<p>گزشتہ 12 مہینوں میں 50 فیصد سے زیادہ نیچے آنے کے بعد بعد فروری کے آخر سے ملک میں ڈالر کا ذخیرہ تقریباً 4 بلین ڈالر پر مستحکم ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ سپلائی کی قلت سے دوچار معیشت کو سہارا دینے اور ڈیفالٹ کو روکنے کے لیے فنڈز اہم ہوں گے، جبکہ اربوں ڈالرز کے قرض کی ادائیگی بھی قریب آرہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Economy</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30331408</guid>
      <pubDate>Sat, 10 Jun 2023 11:45:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2023/06/10114143874890f.webp?r=114303" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2023/06/10114143874890f.webp?r=114303"/>
        <media:title>تصویر بزریعہ اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
