<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 23:19:00 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 23:19:00 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>شاہد خاقان عباسی نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30332466/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق آذربائیجان سے بین الحکومتی بنیادوں پر ایل این جی خریدنے پر اختلافات کے باعث شاہد خاقان عباسی نے ای سی سی کی رکنیت سے استعفیٰ دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق شاہد خاقان عباسی کی سرکاری کمپنی پی ایل ایل کے ذریعے آذربائیجان سے ایل این جی خریدنے کی مخالفت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع نے بتایا کہ شاہد خاقان کا مؤقف تھا کہ آذربائیجان سے ایل این جی کارگو پاکستان کی نجی کمپنی کے ذریعے خریدے جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم ڈویژن نے شاہد خاقان عباسی کی ہدایت کے مطابق سمری تیار کرنے سے انکار کیا تھا جبکہ 5 جون کو ای سی سی میں اجلاس میں سمری پیش ہونے پر شاہد خاقان برہم ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیال رہے کہ گزشتہ دنوں وزیراعظم شہباز شریف نے آذربائیجان کا دورہ کیا تھا اور ایل این جی کی فراہمی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم شہباز شریف اور آذر بائیجان کے صدر الہام علیوف کے درمیان ہونے والی ملاقات میں اس بات پر اتفاق ہوا تھاکہ آذربائیجان پاکستان کی توانائی کی ضروریات پوری کرنےمیں تعاون کرےگا، آذربائجان پاکستان کی تیل و گیس کے شعبے میں مدد کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاہدے کے مطابق آذر بائیجان ہر ماہ پاکستان کو رعایتی قیمت پر ایل این جی فراہم کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شاہد خاقان نے کارگو سرکاری کمنی پی ایل ایل کے بجائے نجی پاکستانی کمپنی کے ذریعے خریدنے کا مطالبہ کیا تھا،،&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا۔</strong></p>
<p>ذرائع کے مطابق آذربائیجان سے بین الحکومتی بنیادوں پر ایل این جی خریدنے پر اختلافات کے باعث شاہد خاقان عباسی نے ای سی سی کی رکنیت سے استعفیٰ دیا۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق شاہد خاقان عباسی کی سرکاری کمپنی پی ایل ایل کے ذریعے آذربائیجان سے ایل این جی خریدنے کی مخالفت کی۔</p>
<p>ذرائع نے بتایا کہ شاہد خاقان کا مؤقف تھا کہ آذربائیجان سے ایل این جی کارگو پاکستان کی نجی کمپنی کے ذریعے خریدے جائیں۔</p>
<p>ذرائع کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم ڈویژن نے شاہد خاقان عباسی کی ہدایت کے مطابق سمری تیار کرنے سے انکار کیا تھا جبکہ 5 جون کو ای سی سی میں اجلاس میں سمری پیش ہونے پر شاہد خاقان برہم ہوئے۔</p>
<p>خیال رہے کہ گزشتہ دنوں وزیراعظم شہباز شریف نے آذربائیجان کا دورہ کیا تھا اور ایل این جی کی فراہمی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق ہوا تھا۔</p>
<p>وزیراعظم شہباز شریف اور آذر بائیجان کے صدر الہام علیوف کے درمیان ہونے والی ملاقات میں اس بات پر اتفاق ہوا تھاکہ آذربائیجان پاکستان کی توانائی کی ضروریات پوری کرنےمیں تعاون کرےگا، آذربائجان پاکستان کی تیل و گیس کے شعبے میں مدد کرے گا۔</p>
<p>معاہدے کے مطابق آذر بائیجان ہر ماہ پاکستان کو رعایتی قیمت پر ایل این جی فراہم کرے گا۔</p>
<p>شاہد خاقان نے کارگو سرکاری کمنی پی ایل ایل کے بجائے نجی پاکستانی کمپنی کے ذریعے خریدنے کا مطالبہ کیا تھا،،</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30332466</guid>
      <pubDate>Sat, 17 Jun 2023 23:54:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (یاسر نذر)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2023/06/17235407dcd9f36.webp?r=235437" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2023/06/17235407dcd9f36.webp?r=235437"/>
        <media:title>سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
