<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 06:15:05 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 06:15:05 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مودی کو دورہ امریکہ پر شرمندگی کا سامنا، امریکی قانون سازوں کا صدر کو خط</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30332913/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کے دورہ امریکا پر امریکی قانون ساز بھی پھٹ پڑے، 75 معروف کانگریس اراکین نے صدر جوبائیڈن کو خط لکھ دیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اٹھارہ امریکی سینیٹر اور 57 ارکان ایوان نمائندگان نے خط میں مودی کے جرائم بے نقاب کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خط میں بھارت میں بڑھتی مذہبی عدم برداشت، سول سوسائٹی اور صحافیوں کو نشانہ بنانے جیسے سنگین مسائل کی نشاندہی کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خط میں امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی 2022 کی کنٹری رپورٹ برائے انسانی حقوق کا ذکر بھی شامل کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ساتھ ہی لکھا گیا کہ آزادی اظہار سے متعلق بھارت کی عالمی درجہ بندی میں کمی ہوئی ہے، بھارت کے ساتھ دوستی مشترکہ اقدار پر ہونی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی قانون سازوں نے مطالبہ کیا کہ امریکی صدر بائیڈن مودی سے ملاقات میں یہ تمام  معاملات زیر غور لائے جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب امریکی رکن کانگریس راشدہ طلیب نے اپنی ایک ٹوئٹ میں لکھا کہ مودی کی  غیر جمہوری اقدامات، مسلمانوں اور مذہبی اقلیتوں کو نشانہ بنانے، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور صحافیوں کے خلاف کارروائیوں کی ایک لمبی تاریخ کے باوجود انہیں ہمارے ملک کے دارالخلافہ کا پلیٹ فارم پیش کرنا انتہائی شرمناک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/RepRashida/status/1671179922197340160?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اعلان کیا کہ وہ مودی کے خطاب کیلئے بلائے گئے ایوان کے مشترکہ اجلاس کا بائیکاٹ کریں گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کے دورہ امریکا پر امریکی قانون ساز بھی پھٹ پڑے، 75 معروف کانگریس اراکین نے صدر جوبائیڈن کو خط لکھ دیا۔</strong></p>
<p>اٹھارہ امریکی سینیٹر اور 57 ارکان ایوان نمائندگان نے خط میں مودی کے جرائم بے نقاب کیے۔</p>
<p>خط میں بھارت میں بڑھتی مذہبی عدم برداشت، سول سوسائٹی اور صحافیوں کو نشانہ بنانے جیسے سنگین مسائل کی نشاندہی کی گئی۔</p>
<p>خط میں امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی 2022 کی کنٹری رپورٹ برائے انسانی حقوق کا ذکر بھی شامل کیا گیا۔</p>
<p>ساتھ ہی لکھا گیا کہ آزادی اظہار سے متعلق بھارت کی عالمی درجہ بندی میں کمی ہوئی ہے، بھارت کے ساتھ دوستی مشترکہ اقدار پر ہونی چاہیے۔</p>
<p>امریکی قانون سازوں نے مطالبہ کیا کہ امریکی صدر بائیڈن مودی سے ملاقات میں یہ تمام  معاملات زیر غور لائے جائیں۔</p>
<p>دوسری جانب امریکی رکن کانگریس راشدہ طلیب نے اپنی ایک ٹوئٹ میں لکھا کہ مودی کی  غیر جمہوری اقدامات، مسلمانوں اور مذہبی اقلیتوں کو نشانہ بنانے، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور صحافیوں کے خلاف کارروائیوں کی ایک لمبی تاریخ کے باوجود انہیں ہمارے ملک کے دارالخلافہ کا پلیٹ فارم پیش کرنا انتہائی شرمناک ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/RepRashida/status/1671179922197340160?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>انہوں نے اعلان کیا کہ وہ مودی کے خطاب کیلئے بلائے گئے ایوان کے مشترکہ اجلاس کا بائیکاٹ کریں گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30332913</guid>
      <pubDate>Wed, 21 Jun 2023 08:48:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2023/06/21084707f4b9125.webp?r=084830" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2023/06/21084707f4b9125.webp?r=084830"/>
        <media:title>علامتی تصویر بزریعہ روئٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
