<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Sports</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 20 Apr 2026 17:23:10 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 20 Apr 2026 17:23:10 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>خواتین کے فٹ بال ورلڈکپ میں ہم جنس پرستوں والے آرم بینڈ باندھنے پر پابندی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30334300/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فٹبال کی بین الاقوامی تنظیم فیفا نے خواتین ورلڈ کپ کے لیے ’ون لو‘ رینبو آرم بینڈز پر پابندی عائد کردی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیفا نے اگلے ماہ ویمنز ورلڈ کپ میں ہم جنس پرستی کی علامت والا قوس قزح کی رنگت والا بینڈ مکمل طور پر ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے متبادل کے طور پر دوسرا بینڈز پہنا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خواتین کے عالمی کپ میں کپتانوں کو صنفی مساوات اور امن کے پیغامات پر مشتمل آرم بینڈ پہننے کی اجازت ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ گزشتہ سال قطر میں ہونے والے فیفا ورلڈ کپ میں مختلف ٹیموں کے سات کپتانوں نے ہم جنس پرستی کی علامت والا قوس قزح کی نگت والا بینڈ پہننے سے انکار کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30306354"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کِک آف سے چند گھنٹے قبل انگلینڈ نے انکشاف کیا تھا کہ فٹ بال ایسوسی ایشن اور کئی دیگر یورپی ممالک کی جانب سے ہم جنس پرستوں کے حقوق کی حمایت میں اپنی مہم ختم کرنے کے بعد کپتان ہیری کین قوس قزح کی تھیم والا ’ون لو‘ آرم بینڈ نہیں پہنیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیفا کی صدر گیانی انفنٹینو نے ایک بیان میں کہا کہ ممبر ایسوسی ایشنز اور کھلاڑیوں سمیت اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ بات چیت کے بعد، ہم نے فیفا ویمنز ورلڈ کپ کے تمام 64 میچوں کے دوران شمولیت سے لے کر صنفی مساوات، امن سے بھوک کے خاتمے، تعلیم سے لے کر گھریلو تشدد سے نمٹنے تک متعدد سماجی وجوہات کو اجاگر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فٹبال کی بین الاقوامی تنظیم فیفا نے خواتین ورلڈ کپ کے لیے ’ون لو‘ رینبو آرم بینڈز پر پابندی عائد کردی ہے۔</strong></p>
<p>فیفا نے اگلے ماہ ویمنز ورلڈ کپ میں ہم جنس پرستی کی علامت والا قوس قزح کی رنگت والا بینڈ مکمل طور پر ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے متبادل کے طور پر دوسرا بینڈز پہنا جائے گا۔</p>
<p>خواتین کے عالمی کپ میں کپتانوں کو صنفی مساوات اور امن کے پیغامات پر مشتمل آرم بینڈ پہننے کی اجازت ہوگی۔</p>
<p>یاد رہے کہ گزشتہ سال قطر میں ہونے والے فیفا ورلڈ کپ میں مختلف ٹیموں کے سات کپتانوں نے ہم جنس پرستی کی علامت والا قوس قزح کی نگت والا بینڈ پہننے سے انکار کیا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30306354"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>کِک آف سے چند گھنٹے قبل انگلینڈ نے انکشاف کیا تھا کہ فٹ بال ایسوسی ایشن اور کئی دیگر یورپی ممالک کی جانب سے ہم جنس پرستوں کے حقوق کی حمایت میں اپنی مہم ختم کرنے کے بعد کپتان ہیری کین قوس قزح کی تھیم والا ’ون لو‘ آرم بینڈ نہیں پہنیں گے۔</p>
<p>فیفا کی صدر گیانی انفنٹینو نے ایک بیان میں کہا کہ ممبر ایسوسی ایشنز اور کھلاڑیوں سمیت اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ بات چیت کے بعد، ہم نے فیفا ویمنز ورلڈ کپ کے تمام 64 میچوں کے دوران شمولیت سے لے کر صنفی مساوات، امن سے بھوک کے خاتمے، تعلیم سے لے کر گھریلو تشدد سے نمٹنے تک متعدد سماجی وجوہات کو اجاگر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30334300</guid>
      <pubDate>Sat, 01 Jul 2023 11:58:43 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2023/07/0111333994d125d.webp?r=113428" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2023/07/0111333994d125d.webp?r=113428"/>
        <media:title>فوٹو ــ روئٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
