<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Business &amp; Economy</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 16:29:58 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 16:29:58 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فنانس بل 2023 پر عملدر آمد شروع ، سیمنٹ، مشروبات، گاڑیوں سمیت کئی شعبوں پر سپر ٹیکس نافذ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30334361/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی حکومت نےعالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے ساتھ معاہدہ ہونے کے بعد فنانس بل 2023 پر بھی عملدرآمد شروع کر دیا اور پیٹرولیم لیوی 50 سے بڑھا کر 55 روپے کرنے کے بعد آمدن پر اضافی سپر ٹیکس نافذ کردیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی شرائط کے مطابق رواں مالی سال 24-2023 کے بجٹ میں اٹھائے گئے اقدامات لاگو کردیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فنانس بل 2023 کے نافذ ہوتے ہی پیٹرولیم لیوی 50 سے بڑھا کر 55 روپے کرنے کے بعد آمدن پراضافی سپرٹیکس نافذ کردیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کی جانب سے سپرٹیکس کے لیے انکم سلیب 30 کروڑ سے بڑھا کر 50 کروڑ کردی گئی، اب سالانہ 50 کروڑ روپے سے زائد آمدن پر 10 فیصد سپر ٹیکس لگے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فنانس بل کے تحت بینکنگ کمپنیوں کی 30 کروڑ سے زائد آمدن پر بھی 10 فیصد سپر ٹیکس عائد کیا گیا ہے اور بڑے شعبوں میں 30 کروڑ سے زیادہ کمانے پر بھی 10 فیصد ٹیکس دینا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے فنانس ایکٹ 24-2023 ویب سائٹ پر بھی آپ لوڈ کردیا، جس کے تحت  بڑے شعبوں میں پیٹرولیم، گیس، ادویہ سازی، شوگر، ٹیکسٹائل ، فرٹیلائزر، لوہا، اسٹیل، ایل این جی ٹرمینل، آئل مارکیٹنگ، آئل ریفائنر، ائر لائنز، آٹو موبائلز، بیوریجز، سیمنٹ، کیمیکلز، سگریٹ، تمباکو سیکٹر بھی شامل ہیں، ان کو بھی بھی 10 فیصد سپر ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سالانہ 40 کروڑ سے 50 کروڑ کمانے والی کمپنیوں سے 8 فیصد سپر ٹیکس لیا جائے گا، 35 کروڑ سے 40 کروڑ آمدن پر سپرٹیکس کی شرح 4 سے بڑھ کر6 فیصد ہوگئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس طرح سالانہ 30 کروڑ سے 35 کروڑ روپے آمدن پر 4 فیصد، 25 کروڑ سے 30 کروڑ آمدن پر 3 فیصد ،20 کروڑ سے 25 کروڑ روپے آمدن پر 2 فیصد،15 کروڑ سے 20 کروڑ روپے آمدن پر 1 فیصداورسالانہ 15 کروڑ روپے تک آمدن پر سپر ٹیکس کی شرح صفر سطح پر برقرار رکھی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی حکومت نےعالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے ساتھ معاہدہ ہونے کے بعد فنانس بل 2023 پر بھی عملدرآمد شروع کر دیا اور پیٹرولیم لیوی 50 سے بڑھا کر 55 روپے کرنے کے بعد آمدن پر اضافی سپر ٹیکس نافذ کردیا۔</strong></p>
<p>وفاقی حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی شرائط کے مطابق رواں مالی سال 24-2023 کے بجٹ میں اٹھائے گئے اقدامات لاگو کردیے۔</p>
<p>فنانس بل 2023 کے نافذ ہوتے ہی پیٹرولیم لیوی 50 سے بڑھا کر 55 روپے کرنے کے بعد آمدن پراضافی سپرٹیکس نافذ کردیا ہے۔</p>
<p>حکومت کی جانب سے سپرٹیکس کے لیے انکم سلیب 30 کروڑ سے بڑھا کر 50 کروڑ کردی گئی، اب سالانہ 50 کروڑ روپے سے زائد آمدن پر 10 فیصد سپر ٹیکس لگے گا۔</p>
<p>فنانس بل کے تحت بینکنگ کمپنیوں کی 30 کروڑ سے زائد آمدن پر بھی 10 فیصد سپر ٹیکس عائد کیا گیا ہے اور بڑے شعبوں میں 30 کروڑ سے زیادہ کمانے پر بھی 10 فیصد ٹیکس دینا ہوگا۔</p>
<p>فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے فنانس ایکٹ 24-2023 ویب سائٹ پر بھی آپ لوڈ کردیا، جس کے تحت  بڑے شعبوں میں پیٹرولیم، گیس، ادویہ سازی، شوگر، ٹیکسٹائل ، فرٹیلائزر، لوہا، اسٹیل، ایل این جی ٹرمینل، آئل مارکیٹنگ، آئل ریفائنر، ائر لائنز، آٹو موبائلز، بیوریجز، سیمنٹ، کیمیکلز، سگریٹ، تمباکو سیکٹر بھی شامل ہیں، ان کو بھی بھی 10 فیصد سپر ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔</p>
<p>سالانہ 40 کروڑ سے 50 کروڑ کمانے والی کمپنیوں سے 8 فیصد سپر ٹیکس لیا جائے گا، 35 کروڑ سے 40 کروڑ آمدن پر سپرٹیکس کی شرح 4 سے بڑھ کر6 فیصد ہوگئی ہے۔</p>
<p>اس طرح سالانہ 30 کروڑ سے 35 کروڑ روپے آمدن پر 4 فیصد، 25 کروڑ سے 30 کروڑ آمدن پر 3 فیصد ،20 کروڑ سے 25 کروڑ روپے آمدن پر 2 فیصد،15 کروڑ سے 20 کروڑ روپے آمدن پر 1 فیصداورسالانہ 15 کروڑ روپے تک آمدن پر سپر ٹیکس کی شرح صفر سطح پر برقرار رکھی گئی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Economy</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30334361</guid>
      <pubDate>Sun, 02 Jul 2023 08:20:59 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (یاسر نذر)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2023/07/012211477c0cb7c.webp?r=221152" type="image/webp" medium="image" height="486" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2023/07/012211477c0cb7c.webp?r=221152"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
