<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Technology</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 25 Jun 2026 02:28:18 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 25 Jun 2026 02:28:18 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>صارفین کو بڑا جھٹکا، ایلون مسک نے ٹوئٹ ڈیک بھی بند کردیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30334647/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ٹوئٹرانتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ آن لائن ڈیش بورڈ TweetDeck استعمال کرنے کے لیے صارفین کو تصدیق کے مرحلے سےگزرنا ہوگا، جس کے کچھ دیر بعد دنیا بھر کے صارفین کو ٹوئٹ ڈیک کے استعمال میں دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ٹوئٹر انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ  ٹویٹ ڈیک کے استعمال سے متعلق یہ تبدیلی آئندہ 30 روز کے اندر نافذالعمل کردی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس حوالے سے کی جانے والی ایک تفصیلی ٹویٹ میں  ٹوئٹر انتظامیہ نے بتایا کہ ٹویٹ ڈیک ورژن کو مزید جدید بناتے ہوئے اس میں کچھ نئے فیچرز شامل کیے جارہے ہیں، تاہم فی الحال یہ بات واضح نہیں ہو سکی کہ آیا ٹوئٹرصارفین سے ٹویٹ ڈیک کا پرانا یا نیا ورژن استعمال کرنے پر رقم وصول کی جائے  گی یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹویٹ ڈیک کے استعمال پر رقم لی گئی تو اس سے ٹوئٹر کی آمدنی میں اضافہ ہو گا، پلیٹ فارم کے  مالک ایلون مسک پہلے ہی اشتہارات کی آمدنی برقرار رکھنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ ٹویٹ ڈیک ایک اہم فیچر ہے جو اب تک مفت تھا، اس فیچر کو زیادہ ترکاروباری اورخبروں سے متعلق ادارے استعمال کررہے تھے۔ ٹویٹ ڈیک کے ذریعے اپنے مواد کی رسائی کوباآسانی مانیٹر کیاجاسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹویٹ ڈیک کے استعمال کیلئے تصدیق کے مرحلے سے گزرنے کا یہ اقدام ایلون مسک کے اس بیان کے چند روز بعد سامنے آیا ہے جس میں ان کا کہناتھا کہ،  ’مصدقہ اورغیرمصدقہ دونوں طرح کے اکاؤنٹس کیلئے پوسٹس کی تعداد کم کی جائے گی۔ ایلون نے واضح کیا تھا کہ اس عمل کا مقصد ڈیٹا سکریپنگ اورسسٹم میں گڑبڑکو روکنا ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس نئے اعلان پر ٹوئٹرصارفین کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق اس اقدام سے ٹوئٹر کی نئی سی ای او لنڈا یاکارینو کی ساکھ کونقصان پہنچے گا جنہوں نے گزشتہ ماہ ہی یہ عہدہ سنبھالا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل ایلون مسک یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ اکاؤنٹ کی تصدیق کیلئے ہرصارف کو انفرادی طور پر آٹھ ڈالر دینا پڑیں گے جبکہ کسی ادارے کے تحت چلنے والے اکاؤنٹ کے لیے ادارے کو ہر ماہ ایک ہزار ڈالر ادا کرنا پڑیں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ٹوئٹرانتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ آن لائن ڈیش بورڈ TweetDeck استعمال کرنے کے لیے صارفین کو تصدیق کے مرحلے سےگزرنا ہوگا، جس کے کچھ دیر بعد دنیا بھر کے صارفین کو ٹوئٹ ڈیک کے استعمال میں دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔</strong></p>
<p>برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ٹوئٹر انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ  ٹویٹ ڈیک کے استعمال سے متعلق یہ تبدیلی آئندہ 30 روز کے اندر نافذالعمل کردی جائے گی۔</p>
<p>اس حوالے سے کی جانے والی ایک تفصیلی ٹویٹ میں  ٹوئٹر انتظامیہ نے بتایا کہ ٹویٹ ڈیک ورژن کو مزید جدید بناتے ہوئے اس میں کچھ نئے فیچرز شامل کیے جارہے ہیں، تاہم فی الحال یہ بات واضح نہیں ہو سکی کہ آیا ٹوئٹرصارفین سے ٹویٹ ڈیک کا پرانا یا نیا ورژن استعمال کرنے پر رقم وصول کی جائے  گی یا نہیں۔</p>
<p>ٹویٹ ڈیک کے استعمال پر رقم لی گئی تو اس سے ٹوئٹر کی آمدنی میں اضافہ ہو گا، پلیٹ فارم کے  مالک ایلون مسک پہلے ہی اشتہارات کی آمدنی برقرار رکھنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔</p>
<p>واضح رہے کہ ٹویٹ ڈیک ایک اہم فیچر ہے جو اب تک مفت تھا، اس فیچر کو زیادہ ترکاروباری اورخبروں سے متعلق ادارے استعمال کررہے تھے۔ ٹویٹ ڈیک کے ذریعے اپنے مواد کی رسائی کوباآسانی مانیٹر کیاجاسکتا ہے۔</p>
<p>ٹویٹ ڈیک کے استعمال کیلئے تصدیق کے مرحلے سے گزرنے کا یہ اقدام ایلون مسک کے اس بیان کے چند روز بعد سامنے آیا ہے جس میں ان کا کہناتھا کہ،  ’مصدقہ اورغیرمصدقہ دونوں طرح کے اکاؤنٹس کیلئے پوسٹس کی تعداد کم کی جائے گی۔ ایلون نے واضح کیا تھا کہ اس عمل کا مقصد ڈیٹا سکریپنگ اورسسٹم میں گڑبڑکو روکنا ہے‘۔</p>
<p>اس نئے اعلان پر ٹوئٹرصارفین کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق اس اقدام سے ٹوئٹر کی نئی سی ای او لنڈا یاکارینو کی ساکھ کونقصان پہنچے گا جنہوں نے گزشتہ ماہ ہی یہ عہدہ سنبھالا۔</p>
<p>اس سے قبل ایلون مسک یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ اکاؤنٹ کی تصدیق کیلئے ہرصارف کو انفرادی طور پر آٹھ ڈالر دینا پڑیں گے جبکہ کسی ادارے کے تحت چلنے والے اکاؤنٹ کے لیے ادارے کو ہر ماہ ایک ہزار ڈالر ادا کرنا پڑیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30334647</guid>
      <pubDate>Tue, 04 Jul 2023 11:32:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2023/07/04091312f4e918d.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2023/07/04091312f4e918d.webp"/>
        <media:title>تصویر: روئٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
