<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Business &amp; Economy</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 12 May 2026 19:02:08 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 12 May 2026 19:02:08 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کیا آئی ایم ایف نے پہلی بار سیاسی جماعتوں سے ملاقاتیں کیں</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30335310/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کے ساتھ 3 ارب ڈالر کے قرض کے معاہدے پرحتمی منظوری سے قبل ان کی ٹیم  سیاسی جماعتوں کے سربراہان سے ملاقاتیں کررہی ہے جن میں عمران خان بھی شامل ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان ملاقاتوں کا مقصد 3 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پروگرام کے لیے پاکستان کی سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل کرنا ہے، آئی ایم ایفاس بات کی یقین دہانی چاہتا ہے کہ عام انتخابات سے قبل نئے اسٹینڈ بائی انتظامات (ایس بی اے) کے تحت مقاصد اور ایجنڈے پرعملدرآمد ہو گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عمران خان سے آئی ایم ایف ٹیم کی ملاقات کے بعد بہت سے ذہنوں میں اس  اس سوال نے جنم لیا کہ کیا ایسا پہلے بھی ہوا ہے؟۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30335217"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل بھی آئی ایم ایف ایسا کرچکا ہے اور ایساتب ہوتا ہے جب بیل آؤٹ پیکج یا پروگرام  کی مدت کے دوران حکومت کی تبدیلی کا امکان ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسا 1994 میں کیا گیا تھا جب عبوری حکومت نے آئی ایم ایف پروگرام پر دستخط کیے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سادہ لفظوں میں اسے یوں سمجھا جاسکتا ہے کہ ایسا صرف 1994 میں اس لیے کیا گیا کیونکہ اس کے بعد سے  تمام پروگراموں پر حکومت کی مدت کے آغاز پر دستخط کیے گئے اور 1988 کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ کسی حکومت کی مدت اقتدار کے آخری ہفتوں میں ایک نئے معاہدے پر دستخط کیے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30335222"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں بشمول حکمران اتحاد اور حزب اختلاف کو ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کر رہا ہے کیونکہ وہ اس بات کی یقین دہانی چاہتا ہے کہ ملک کے قومی انتخابات سے قبل نئے اسٹینڈ بائی انتظامات (ایس بی اے) کے تحت مقاصد اور ایجنڈے پر عمل درآمد کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ پاکستان میں عام انتخابات اکتوبر2023 میں ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف پاکستان کے ساتھ 3 ارب ڈالر کے قرض کے معاہدے پر ایگزیکٹو بورڈ کے 12 جولائی کو ہونے والے اجلاس میں غور کرے گا جس کے بعد ہی اس معاہدے کی حتمی منظوری دے گا۔ اس منظوری کے بعد ہی پاکستان کو رقم ملنا شروع ہوگی۔ تاہم اس سے قبل پاکستان میں آئی ایم ایف کی ٹیم نے سیاسی جماعتوں کے سربراہان بشمول عمران خان سے ملاقاتیں شروع کی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تین رکنی وفدعمران خان کے علاوہ  پیپلزپارٹی کی معاشی ٹیم سے بھی ملاقات کی ہے
وفد ن لیگی رہنماؤں سے بھی ملاقات کرے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کے ساتھ 3 ارب ڈالر کے قرض کے معاہدے پرحتمی منظوری سے قبل ان کی ٹیم  سیاسی جماعتوں کے سربراہان سے ملاقاتیں کررہی ہے جن میں عمران خان بھی شامل ہیں۔</strong></p>
<p>ان ملاقاتوں کا مقصد 3 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پروگرام کے لیے پاکستان کی سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل کرنا ہے، آئی ایم ایفاس بات کی یقین دہانی چاہتا ہے کہ عام انتخابات سے قبل نئے اسٹینڈ بائی انتظامات (ایس بی اے) کے تحت مقاصد اور ایجنڈے پرعملدرآمد ہو گا۔</p>
<p>عمران خان سے آئی ایم ایف ٹیم کی ملاقات کے بعد بہت سے ذہنوں میں اس  اس سوال نے جنم لیا کہ کیا ایسا پہلے بھی ہوا ہے؟۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30335217"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اس سے قبل بھی آئی ایم ایف ایسا کرچکا ہے اور ایساتب ہوتا ہے جب بیل آؤٹ پیکج یا پروگرام  کی مدت کے دوران حکومت کی تبدیلی کا امکان ہوتا ہے۔</p>
<p>ایسا 1994 میں کیا گیا تھا جب عبوری حکومت نے آئی ایم ایف پروگرام پر دستخط کیے تھے۔</p>
<p>سادہ لفظوں میں اسے یوں سمجھا جاسکتا ہے کہ ایسا صرف 1994 میں اس لیے کیا گیا کیونکہ اس کے بعد سے  تمام پروگراموں پر حکومت کی مدت کے آغاز پر دستخط کیے گئے اور 1988 کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ کسی حکومت کی مدت اقتدار کے آخری ہفتوں میں ایک نئے معاہدے پر دستخط کیے جا رہے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30335222"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں بشمول حکمران اتحاد اور حزب اختلاف کو ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کر رہا ہے کیونکہ وہ اس بات کی یقین دہانی چاہتا ہے کہ ملک کے قومی انتخابات سے قبل نئے اسٹینڈ بائی انتظامات (ایس بی اے) کے تحت مقاصد اور ایجنڈے پر عمل درآمد کیا جائے گا۔</p>
<p>واضح رہے کہ پاکستان میں عام انتخابات اکتوبر2023 میں ہوں گے۔</p>
<p>آئی ایم ایف پاکستان کے ساتھ 3 ارب ڈالر کے قرض کے معاہدے پر ایگزیکٹو بورڈ کے 12 جولائی کو ہونے والے اجلاس میں غور کرے گا جس کے بعد ہی اس معاہدے کی حتمی منظوری دے گا۔ اس منظوری کے بعد ہی پاکستان کو رقم ملنا شروع ہوگی۔ تاہم اس سے قبل پاکستان میں آئی ایم ایف کی ٹیم نے سیاسی جماعتوں کے سربراہان بشمول عمران خان سے ملاقاتیں شروع کی ہیں۔</p>
<p>تین رکنی وفدعمران خان کے علاوہ  پیپلزپارٹی کی معاشی ٹیم سے بھی ملاقات کی ہے
وفد ن لیگی رہنماؤں سے بھی ملاقات کرے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Economy</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30335310</guid>
      <pubDate>Sat, 08 Jul 2023 13:51:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2023/07/08095531f5289b3.jpg?r=095623" type="image/jpeg" medium="image" height="300" width="500">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2023/07/08095531f5289b3.jpg?r=095623"/>
        <media:title>جمعہ 7 جولائی کو کو پی ٹی آئی قیادت اور آئی ایم ایف حکام کے درمیان ورچوئل ملاقات کا اسکرین شاٹ۔
تصویر۔انسٹاگرام/عمران خان
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
