<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 15:50:15 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 15:50:15 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جنوبی کوریا: بچوں کی پیدائش نہ ہونے پر ماہرین ”امراض اطفال“ پیشہ چھوڑنے لگے</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30335415/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جنوبی کوریا میں بچوں کی پیدائش نہ ہونے پر ماہرین  ”امراض اطفال“  کی جانب سے اپنا پیشہ چھوڑنے کے رجحان اضافہ دیکھا گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیرملکی خبر رساں ادارے کے مطابق اگر کوئی بھی بچہ بیمار ہوجاتا ہے، تو اس کو کئی ہفتوں تک ڈاکٹر کا انتظارکرنا پڑتا ہے، جبکہ کئی مرتبہ تو ایسا ہوتا ہے کہ انتظار اُمید سےٓ زیادہ طویل ہوتا ہے کیونکہ ڈاکٹرز کی تعداد کم ہوتی جارہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوبی کوریا کی پیڈیارک ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ دارالحکومت سیول کے 90 فیصد ماہرین امراض اطفال اپنا پیشہ چھوڑ یا تبدیل کرچکے ہیں۔ بچوں کی پیدائش میں کمی کی وجہ سے ماہرین کو اس شعبے میں اپنا مستقبل نہیں نظر آرہا ہے حکومت بھی کوئی خاص مراعات نہیں دے رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30317662"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیڈیا ٹرک ایسوسی ایشن کےعہدیداروں کے مطابق متعدد ماہرین امراض اطفال نے اپنے کلینکس بند کردیئے ہیں، جبکہ کچھ  ایسے ہیں جنہوں نے اپنا شعبہ تبدیل کرلیا ہے۔ ایک بات اہم یہ ہے کہ تنظیم نے ایک سیمینار کا انعقاد کیا، جہاں بتایا کہ ماہرین کو اپنا شعبہ چھوڑ کر کونسے شعبے میں جاسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیمینارمیں ماہرین کو تجاویز دی گئیں کہ وہ کاسمیٹک اور پلاسٹک سرجری جیسے شعبوں میں جائیں یا پھر بالغان کی صحت کی دیکھ بھال کے شعبے کو اپنا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کا کہنا ہے کہ ڈاکٹرز نہ ہونے کی وجہ سے بعض جوڑے اس ڈر سے بچے نہیں پیدا کر رہے ہیں کہ اگران کا بچہ بیمار ہوجاتا ہے، تو اس کا علاج کون کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت نے بھی اعتراف کیا ہے کہ ان کی جانب سے ماہرین امراض اطفال کو کوئی اضافی مراعات نہیں دی جا رہی لیکن عندیہ دیا ہے کہ جلد پالیسی بنائی جائی گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذکورہ صورتحال پر ماہرین اور عام افراد نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا  ہے کہ اس مسئلے پرقابو پانا ہوگا، نہیں تو مستقبل میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے اور بیماری سے بچوں کی اموات میں اضافہ ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ جنوبی کوریا کا شمار دنیا کے ان چند ممالک میں ہونے لگا ہے جہاں شرحِ پیدائش انتہائی کم ہے، سن 2022 میں شرح پیدائش 0.78 تک گرگئی، جو ایک برس پہلے 0.81 ریکارڈ کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>جنوبی کوریا میں بچوں کی پیدائش نہ ہونے پر ماہرین  ”امراض اطفال“  کی جانب سے اپنا پیشہ چھوڑنے کے رجحان اضافہ دیکھا گیا ہے۔</strong></p>
<p>غیرملکی خبر رساں ادارے کے مطابق اگر کوئی بھی بچہ بیمار ہوجاتا ہے، تو اس کو کئی ہفتوں تک ڈاکٹر کا انتظارکرنا پڑتا ہے، جبکہ کئی مرتبہ تو ایسا ہوتا ہے کہ انتظار اُمید سےٓ زیادہ طویل ہوتا ہے کیونکہ ڈاکٹرز کی تعداد کم ہوتی جارہی ہے۔</p>
<p>جنوبی کوریا کی پیڈیارک ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ دارالحکومت سیول کے 90 فیصد ماہرین امراض اطفال اپنا پیشہ چھوڑ یا تبدیل کرچکے ہیں۔ بچوں کی پیدائش میں کمی کی وجہ سے ماہرین کو اس شعبے میں اپنا مستقبل نہیں نظر آرہا ہے حکومت بھی کوئی خاص مراعات نہیں دے رہی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30317662"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>پیڈیا ٹرک ایسوسی ایشن کےعہدیداروں کے مطابق متعدد ماہرین امراض اطفال نے اپنے کلینکس بند کردیئے ہیں، جبکہ کچھ  ایسے ہیں جنہوں نے اپنا شعبہ تبدیل کرلیا ہے۔ ایک بات اہم یہ ہے کہ تنظیم نے ایک سیمینار کا انعقاد کیا، جہاں بتایا کہ ماہرین کو اپنا شعبہ چھوڑ کر کونسے شعبے میں جاسکتے ہیں۔</p>
<p>سیمینارمیں ماہرین کو تجاویز دی گئیں کہ وہ کاسمیٹک اور پلاسٹک سرجری جیسے شعبوں میں جائیں یا پھر بالغان کی صحت کی دیکھ بھال کے شعبے کو اپنا سکتے ہیں۔</p>
<p>ماہرین کا کا کہنا ہے کہ ڈاکٹرز نہ ہونے کی وجہ سے بعض جوڑے اس ڈر سے بچے نہیں پیدا کر رہے ہیں کہ اگران کا بچہ بیمار ہوجاتا ہے، تو اس کا علاج کون کرے گا۔</p>
<p>حکومت نے بھی اعتراف کیا ہے کہ ان کی جانب سے ماہرین امراض اطفال کو کوئی اضافی مراعات نہیں دی جا رہی لیکن عندیہ دیا ہے کہ جلد پالیسی بنائی جائی گی۔</p>
<p>مذکورہ صورتحال پر ماہرین اور عام افراد نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا  ہے کہ اس مسئلے پرقابو پانا ہوگا، نہیں تو مستقبل میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے اور بیماری سے بچوں کی اموات میں اضافہ ہوگا۔</p>
<p>واضح رہے کہ جنوبی کوریا کا شمار دنیا کے ان چند ممالک میں ہونے لگا ہے جہاں شرحِ پیدائش انتہائی کم ہے، سن 2022 میں شرح پیدائش 0.78 تک گرگئی، جو ایک برس پہلے 0.81 ریکارڈ کی گئی تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30335415</guid>
      <pubDate>Sat, 08 Jul 2023 20:07:14 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2023/07/08200343bd1295c.jpg?r=200559" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2023/07/08200343bd1295c.jpg?r=200559"/>
        <media:title>تصویر — رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
