<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Life &amp; Style - Celebrity</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 10:30:22 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 10:30:22 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اب کی بار ’بےوفا‘ کے بجائے ’باوفا‘ ۔۔۔ خلیل الرحمان قمر ’بہت باریک‘ کام کرگئے</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30336475/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;خیل الرحمان قمر پاکستان انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کا ایک معروف نام ضرور ہیں لیکن ان کی مقبولیت کے ترازو کے دونوں پلڑے ڈگمگاتے رہتے ہیں جس کی اہم وجہ ان کے متنازع سمجھے جانے والے مکالمے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی ڈرامہ دیکھنے کے شائق ریکارڈ بریکر ’میرے پاس تم ہو‘ کا ڈائیلاگ ’دوٹکے کی عورت‘ یقینناً نہیں بھولے ہوں گے جس نے ایک نئی بحث کو جنم دیا تھا۔ خلیل الرحمان قمر نےاس ڈرامے میں مرد کو مظلوم اور وفادار جبکہ عورت کو لالچی اور خودغرض دکھایا تھا جس پر انہیں شدید تنقید بھی سہنی  پڑی، جلتی پر تیل ان کے بیانات ڈالتے رہے۔ وہی منظرنامہ ایک بار پھر تازہ ہورہا ہے لیکن اس بار وجہ عورت کو ’بیوفا‘ کے بجائے ’باوفا‘ دکھانا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذکر ہے عید الفطر پرریلیز کی جانے والی فلم ’تیری میری کہانیاں‘ کا جو پاکستانی فلم انڈسٹری میں ایک نیا تجربہ ہے۔ فلم میں بیک وقت تین کہانیاں ہیں اور فی الوقت باقی دو کا ذکر رہنے دیں اور آجائیں فلم کے آخری حصے میں دکھائی جانے والی کہانی ’ایک سو تئیسواں‘ کی جانب جس میں خلیل الرحمان قمر نے خلاف توقع عورت کو بہت مضبوط اور وفا شعار دکھایا ہے اوراس کے پارٹنر کو وہ منافق جو خوبصورت بیوی کے ہوتے ہوئے اس کی غیر موجودگی میں  دوسری عورتوں کے ساتھ مزے اڑاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  '&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/3a87YPXUmi4?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بہت سے حلقوں کی جانب سے اس کہانی پر مصنف کوسراہا بھی گیا کہ عورت کا ایسا کردار اور وہ بھی خلیل الرحمان قمر کے قلم سے، لیکن باریک بین ’دیکھنے والے بھی قیامت کی نظررکھتے ہیں‘ کے مصداق سمجھ گئے کہ یہاں خلیل الرحمان قمر ’بہت باریک‘ کام کرگئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرین کے ڈبے میں فلمائے گئے اس منظرمیں مہوش حیات اور وہاج علی کے ’کُھلے ڈُلے‘ مکالموں میں ایسی ’مہان‘ خوبصورت عورت دکھئی گئی ہے جو اپنے شریک سفرکے یہاں وہاں منہ مارنے کی عادت کو درگزر کرنے کی داستان سناتی ہے لیکن ساتھ ہی سامنے بیٹھے مسافر کو یہ بھی جتلاتی ہے کہ وہ اس کی اپنی زندگی میں آنے والا 123 واں مرد ہے لیکن وہ یہ موقع بھی ضائع کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے کیے جانےوالے تنقیدی تبصروں میں وفا شعاری کے اس فرسودہ خیال کو مسترد کرتے ہوئے خلیل الرحمان قمر کو آڑے ہاتھوں لیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تازہ ترین ترین تبصرہ وکیل اور انسانی حقوق کی علمبردارریما عمر کا ہے جنہوں نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ ، ’خوبصورت جمالیات، ٹرین کے سفر کا رومانس، شاعرانہ مکالمہ اور عمدہ پرفارمنس کو خلیل الرحمان قمر کے مسائل زدہ نظریے کو پھیلانے کے لیے استعمال کیا گیا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/reema_omer/status/1679887559936159745?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریما عمرنے لکھا کہ ، ’مرد فطری طور پر بے وفا ہوتے ہیں، لیکن حقیقی خواتین کی تعریف وفاداری سے ہوتی ہے (یہاں تک کہ دھوکہ دینے والے ساتھیوں کے لیے بھی)۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریما نے اگلی ٹویٹ میں لکھا کہ صدف (مہوش حیات) اور اسد (وہاج علی) کے درمیان  گفتگو محبت، قربت، رشتوں، شادی کو کسی حساسیت یا باریکی کے ساتھ نہیں جوڑتی۔ اس کے بجائے، ہم صنفی کرداروں، طرز عمل اور توقعات کے انہی پرانے نقصان دہ نظریات کو تقویت دیتے ہوئے دیکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/reema_omer/status/1679896506789244939?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس ٹویٹ پر تبصرہ کرنے والوں میں سے بیشتر نے ریما کے خیالات سے اتفاق کیا ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2023/07/1515314064abb38.png?r=153211'  alt=' ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک صارف کی جانب سے ریما کی ٹویٹ مردوں کو ’فطری طور پربےوفا‘  کہنے پراعتراض اٹھاتے ہوئے کہا گیا کہ کیا عظیم نظریات ہیں اور آپ نے اپنے شوہر، بھائی اور باپ کو کیا عظیم خراج تحسین پیش کیا ہے۔ اس پر ریما نے واضح کیا کہ یہ ان کے نہیں خلیل الرحمان قمرکے خیالات ہیں جس پر وہ معترض ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2023/07/1515313946f9886.png?r=153211'  alt=' ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خلیل الرحمان کو اپنے متنازع بیانات کی وجہ سے اداکارہ ماہرہ خان سمیت دیگر معروف شخصیات کی جانب سے بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا جاتارہا ہے۔  مارچ 2020 میں ٹیلی ویژن پروگرام میں انسانی حقوق کی کارکن ماروی سرمد کو گالی دینے کے بعد بھی ان کیخلاف مختلف حلقوں سے شدید رد عمل سامنے آیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>خیل الرحمان قمر پاکستان انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کا ایک معروف نام ضرور ہیں لیکن ان کی مقبولیت کے ترازو کے دونوں پلڑے ڈگمگاتے رہتے ہیں جس کی اہم وجہ ان کے متنازع سمجھے جانے والے مکالمے ہیں۔</strong></p>
<p>پاکستانی ڈرامہ دیکھنے کے شائق ریکارڈ بریکر ’میرے پاس تم ہو‘ کا ڈائیلاگ ’دوٹکے کی عورت‘ یقینناً نہیں بھولے ہوں گے جس نے ایک نئی بحث کو جنم دیا تھا۔ خلیل الرحمان قمر نےاس ڈرامے میں مرد کو مظلوم اور وفادار جبکہ عورت کو لالچی اور خودغرض دکھایا تھا جس پر انہیں شدید تنقید بھی سہنی  پڑی، جلتی پر تیل ان کے بیانات ڈالتے رہے۔ وہی منظرنامہ ایک بار پھر تازہ ہورہا ہے لیکن اس بار وجہ عورت کو ’بیوفا‘ کے بجائے ’باوفا‘ دکھانا ہے۔</p>
<p>ذکر ہے عید الفطر پرریلیز کی جانے والی فلم ’تیری میری کہانیاں‘ کا جو پاکستانی فلم انڈسٹری میں ایک نیا تجربہ ہے۔ فلم میں بیک وقت تین کہانیاں ہیں اور فی الوقت باقی دو کا ذکر رہنے دیں اور آجائیں فلم کے آخری حصے میں دکھائی جانے والی کہانی ’ایک سو تئیسواں‘ کی جانب جس میں خلیل الرحمان قمر نے خلاف توقع عورت کو بہت مضبوط اور وفا شعار دکھایا ہے اوراس کے پارٹنر کو وہ منافق جو خوبصورت بیوی کے ہوتے ہوئے اس کی غیر موجودگی میں  دوسری عورتوں کے ساتھ مزے اڑاتا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  '>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/3a87YPXUmi4?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>بہت سے حلقوں کی جانب سے اس کہانی پر مصنف کوسراہا بھی گیا کہ عورت کا ایسا کردار اور وہ بھی خلیل الرحمان قمر کے قلم سے، لیکن باریک بین ’دیکھنے والے بھی قیامت کی نظررکھتے ہیں‘ کے مصداق سمجھ گئے کہ یہاں خلیل الرحمان قمر ’بہت باریک‘ کام کرگئے ہیں۔</p>
<p>ٹرین کے ڈبے میں فلمائے گئے اس منظرمیں مہوش حیات اور وہاج علی کے ’کُھلے ڈُلے‘ مکالموں میں ایسی ’مہان‘ خوبصورت عورت دکھئی گئی ہے جو اپنے شریک سفرکے یہاں وہاں منہ مارنے کی عادت کو درگزر کرنے کی داستان سناتی ہے لیکن ساتھ ہی سامنے بیٹھے مسافر کو یہ بھی جتلاتی ہے کہ وہ اس کی اپنی زندگی میں آنے والا 123 واں مرد ہے لیکن وہ یہ موقع بھی ضائع کرے گی۔</p>
<p>سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے کیے جانےوالے تنقیدی تبصروں میں وفا شعاری کے اس فرسودہ خیال کو مسترد کرتے ہوئے خلیل الرحمان قمر کو آڑے ہاتھوں لیا گیا۔</p>
<p>تازہ ترین ترین تبصرہ وکیل اور انسانی حقوق کی علمبردارریما عمر کا ہے جنہوں نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ ، ’خوبصورت جمالیات، ٹرین کے سفر کا رومانس، شاعرانہ مکالمہ اور عمدہ پرفارمنس کو خلیل الرحمان قمر کے مسائل زدہ نظریے کو پھیلانے کے لیے استعمال کیا گیا‘۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/reema_omer/status/1679887559936159745?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>ریما عمرنے لکھا کہ ، ’مرد فطری طور پر بے وفا ہوتے ہیں، لیکن حقیقی خواتین کی تعریف وفاداری سے ہوتی ہے (یہاں تک کہ دھوکہ دینے والے ساتھیوں کے لیے بھی)۔‘</p>
<p>ریما نے اگلی ٹویٹ میں لکھا کہ صدف (مہوش حیات) اور اسد (وہاج علی) کے درمیان  گفتگو محبت، قربت، رشتوں، شادی کو کسی حساسیت یا باریکی کے ساتھ نہیں جوڑتی۔ اس کے بجائے، ہم صنفی کرداروں، طرز عمل اور توقعات کے انہی پرانے نقصان دہ نظریات کو تقویت دیتے ہوئے دیکھتے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/reema_omer/status/1679896506789244939?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>اس ٹویٹ پر تبصرہ کرنے والوں میں سے بیشتر نے ریما کے خیالات سے اتفاق کیا ۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2023/07/1515314064abb38.png?r=153211'  alt=' ' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<p>ایک صارف کی جانب سے ریما کی ٹویٹ مردوں کو ’فطری طور پربےوفا‘  کہنے پراعتراض اٹھاتے ہوئے کہا گیا کہ کیا عظیم نظریات ہیں اور آپ نے اپنے شوہر، بھائی اور باپ کو کیا عظیم خراج تحسین پیش کیا ہے۔ اس پر ریما نے واضح کیا کہ یہ ان کے نہیں خلیل الرحمان قمرکے خیالات ہیں جس پر وہ معترض ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2023/07/1515313946f9886.png?r=153211'  alt=' ' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<p>خلیل الرحمان کو اپنے متنازع بیانات کی وجہ سے اداکارہ ماہرہ خان سمیت دیگر معروف شخصیات کی جانب سے بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا جاتارہا ہے۔  مارچ 2020 میں ٹیلی ویژن پروگرام میں انسانی حقوق کی کارکن ماروی سرمد کو گالی دینے کے بعد بھی ان کیخلاف مختلف حلقوں سے شدید رد عمل سامنے آیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30336475</guid>
      <pubDate>Sat, 15 Jul 2023 15:53:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2023/07/151543492c9ec3b.webp?r=154358" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2023/07/151543492c9ec3b.webp?r=154358"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
