<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Life &amp; Style - Celebrity</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 24 Jun 2026 19:29:41 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 24 Jun 2026 19:29:41 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستانی ڈراموں میں مردحضرات کو پڑنے والے تھپڑ بھی وائرل</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30336736/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان میں ٹیلی ویژن انٹر ٹینمنٹ کے زُمرے میں آتا ہےتاکہ لوگ اپنے روز مرہ کے کاموں سے فراغت کے بعد اس سے لطف اندوز ہوں۔ ان کہی،دھوپ کنارے،دھواں  ،تنہائیاں اور کئی ایسے مقبول  پاکستانی اور سبق آموز ڈرامے ہیں  جنہیں بہت شوق سے دیکھا جاتا تھا اور لوگ انہیں بہت پسند کرتے تھے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وقت کے ساتھ ساتھ پاکستانی ڈراموں میں سرحد پارسے روایات و رسومات کاواضح رنگ دکھائی دینےلگا جس میں ساس بہو کی لڑائیوں اورجوائنٹ فیملی سسٹم  کو منفی انداز میں دیکھایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سماجی اقداربھی وقت کے ساتھ بدلیں اور اب جہاں خواتین ہر شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ نظرآتی ہیں۔ وہیں ’ڈومیسٹک وائلنس‘ کا تصوربھی تبدیل ہوا جس کے زیر اثر تازہ ترین ٹرینڈ مرد کو تھپڑ مارنا  ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈراموں کے بدلتے ٹرینڈزمیں تازہ ترین اضافہ مردوں کو تھپڑ مارنے کا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو ایسے ہی ڈراما کلپس کو جوڑ کربنائی گئی ہے جس میں مرد حضرات کو ایک کے بعد ایک تھپڑ پڑتے دکھایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--facebook2  media__item--relative'&gt;&lt;div class="fb-video" data-href="https://fb.watch/lQOaUpF1yc/" data-width="auto"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس ویڈیو پر صارفین کی جانب سے مختلف تبصرے دیکھنے میں آئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک صارف کا کہنا ہے کہ یہ بات سو فیصد درست ہے کہ اب  ڈراموں میں تھپڑ مارنے کا  رجحان عام ہو چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک صارف  نے ان ڈراموں کا با ئیکا ٹ کرنے کو ترجیح دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جہاں اس رجحان کو تنقید کا سامنا ہے تو وہیں  کچھ صارفین کا کہنا ہے کہ جہاں مرد اپنی حد سے تجاوز کریں  وہاں یہ ہونا چاہیئے،اکثر ڈراموں میں ایسے سین جائز جگہوں پر ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان میں ٹیلی ویژن انٹر ٹینمنٹ کے زُمرے میں آتا ہےتاکہ لوگ اپنے روز مرہ کے کاموں سے فراغت کے بعد اس سے لطف اندوز ہوں۔ ان کہی،دھوپ کنارے،دھواں  ،تنہائیاں اور کئی ایسے مقبول  پاکستانی اور سبق آموز ڈرامے ہیں  جنہیں بہت شوق سے دیکھا جاتا تھا اور لوگ انہیں بہت پسند کرتے تھے۔</strong></p>
<p>وقت کے ساتھ ساتھ پاکستانی ڈراموں میں سرحد پارسے روایات و رسومات کاواضح رنگ دکھائی دینےلگا جس میں ساس بہو کی لڑائیوں اورجوائنٹ فیملی سسٹم  کو منفی انداز میں دیکھایا گیا۔</p>
<p>سماجی اقداربھی وقت کے ساتھ بدلیں اور اب جہاں خواتین ہر شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ نظرآتی ہیں۔ وہیں ’ڈومیسٹک وائلنس‘ کا تصوربھی تبدیل ہوا جس کے زیر اثر تازہ ترین ٹرینڈ مرد کو تھپڑ مارنا  ہے۔</p>
<p>ڈراموں کے بدلتے ٹرینڈزمیں تازہ ترین اضافہ مردوں کو تھپڑ مارنے کا ہے۔</p>
<p>سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو ایسے ہی ڈراما کلپس کو جوڑ کربنائی گئی ہے جس میں مرد حضرات کو ایک کے بعد ایک تھپڑ پڑتے دکھایا گیا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--facebook2  media__item--relative'><div class="fb-video" data-href="https://fb.watch/lQOaUpF1yc/" data-width="auto"></div></div>
        
    </figure></p>
<p>اس ویڈیو پر صارفین کی جانب سے مختلف تبصرے دیکھنے میں آئے۔</p>
<p>ایک صارف کا کہنا ہے کہ یہ بات سو فیصد درست ہے کہ اب  ڈراموں میں تھپڑ مارنے کا  رجحان عام ہو چکا ہے۔</p>
<p>ایک صارف  نے ان ڈراموں کا با ئیکا ٹ کرنے کو ترجیح دی ہے۔</p>
<p>جہاں اس رجحان کو تنقید کا سامنا ہے تو وہیں  کچھ صارفین کا کہنا ہے کہ جہاں مرد اپنی حد سے تجاوز کریں  وہاں یہ ہونا چاہیئے،اکثر ڈراموں میں ایسے سین جائز جگہوں پر ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30336736</guid>
      <pubDate>Mon, 17 Jul 2023 17:33:50 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2023/07/17162813070a978.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="438" width="700">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2023/07/17162813070a978.jpg"/>
        <media:title>تصویر: فائل فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
