<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 20:57:38 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 20:57:38 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>عراق میں سویڈن کے سفارت خانے کو مشتعل افراد نے آگ لگا دی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30337158/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عراق کے دارالحکومت بغداد میں صبح سویرے سیکڑوں مشتعل مظاہرین نے دھاوا بول کر سویڈن کا سفارت خانہ جلا ڈالا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس حوالے سے سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں جمعرات کو علی الصبح سفارت خانے کے کمپاؤنڈ میں مظاہرین کو جھنڈے اور عراقی شیعہ مذہبی اور سیاسی رہنما مقتدیٰ الصدر کی تصویر والے کارڈز لہراتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/i/status/1681820398847946752"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبر رساں ادارے ”روئٹرز“ کے مطابق عراق کی وزارت خارجہ نے سفارت خانے پر حملے کی شدید مذمت کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت خارجہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ، ’عراقی حکومت نے مجاز سکیورٹی حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ فوری طور پر تحقیقات کریں اور ضروری حفاظتی اقدامات کریں، تاکہ واقعے کی تفصیلات منعلوم کی جاسکیں کیا جا سکے اور اس فعل کے مرتکب افراد کی شناخت کرکے انہیں قانون کے مطابق جوابدہ ٹھہرایا جا سکے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2023/07/2008441323bd15c.jpg'  alt=' 20 جولائی 2023 کو مظاہرین بغداد میں سویڈش سفارت خانے کے قریب جمع ہیں (تصویر: احمد سعد/رائٹرز) ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;20 جولائی 2023 کو مظاہرین بغداد میں سویڈش سفارت خانے کے قریب جمع ہیں (تصویر: احمد سعد/رائٹرز)&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عینی شاہدین نے بتایا کہ جمعرات کی صبح کئی فائر فائٹنگ ٹرک بغداد میں سویڈن کے سفارت خانے پہنچے جہاں عراقی سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آتشزدگی کے واقعے کے بعد سویڈن کی وزارت خارجہ نے اطلاع دی کہ سفارت خانے کا عملہ محفوظ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سویڈش وزارت خارجہ کے پریس آفس نے کہا کہ عراقی حکام کی ذمہ داری ہے وہ سفارتی مشن اور عملے کی حفاظت کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/i/status/1681855821578108930"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل ایک ذریعے نے روئٹرز کو بتایا تھا کہ سفارت خانے کے کسی عملے کو نقصان نہیں پہنچا لیکن مزید تفصیل بتانے سے انکار کر دیا ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مظاہرین میں سے ایک حسن احمد نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی ”اے ایف پی“ کو بتایا کہ ’ہم آج قرآن پاک جلانے کے خلاف متحرک ہیں، یہ محبت اور ایمان کا معاملہ ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ’ہم سویڈن اور عراقی حکومت سے اس قسم کے اقدام کو روکنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔‘&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="قرآن-پاک-جلانے-کیلئے-ایک-اور-درخواست" href="#قرآن-پاک-جلانے-کیلئے-ایک-اور-درخواست" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;قرآن پاک جلانے کیلئے ایک اور درخواست&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;سویڈن کی خبر رساں ایجنسی ”ٹی ٹی“ نے بدھ کو اطلاع دی تھی کہ سویڈش پولیس نے جمعرات کو اسٹاک ہوم میں عراقی سفارت خانے کے باہر مظاہرے کی ایک درخواست منظور کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درخواست میں کہا گیا ہے کہ درخواست دہندہ قرآن پاک کی ایک کاپی اور عراقی پرچم کو جلانا چاہتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سویڈش میڈیا نے بتایا کہ سویڈن میں ایک عراقی پناہ گزین سلوان مومیکا نے جمعرات کو آتشزدگی کا یہ منصوبہ بنایا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سلوان مومیکا نے ساٹاک ہوم کی سب سے بڑی مسجد کے سامنے 28 جون کو عید الاضحیٰ کے موقع پر قرآن کے ایک نسخے کے صفحات بھی جلائے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سویڈش پولیس نے سلوان مومیکا کو ملک کے آزادی اظہار کے تحفظات کے مطابق اجازت دی تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عراق کے دارالحکومت بغداد میں صبح سویرے سیکڑوں مشتعل مظاہرین نے دھاوا بول کر سویڈن کا سفارت خانہ جلا ڈالا۔</strong></p>
<p>اس حوالے سے سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں جمعرات کو علی الصبح سفارت خانے کے کمپاؤنڈ میں مظاہرین کو جھنڈے اور عراقی شیعہ مذہبی اور سیاسی رہنما مقتدیٰ الصدر کی تصویر والے کارڈز لہراتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/i/status/1681820398847946752"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>خبر رساں ادارے ”روئٹرز“ کے مطابق عراق کی وزارت خارجہ نے سفارت خانے پر حملے کی شدید مذمت کی ہے۔</p>
<p>وزارت خارجہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ، ’عراقی حکومت نے مجاز سکیورٹی حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ فوری طور پر تحقیقات کریں اور ضروری حفاظتی اقدامات کریں، تاکہ واقعے کی تفصیلات منعلوم کی جاسکیں کیا جا سکے اور اس فعل کے مرتکب افراد کی شناخت کرکے انہیں قانون کے مطابق جوابدہ ٹھہرایا جا سکے۔‘</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2023/07/2008441323bd15c.jpg'  alt=' 20 جولائی 2023 کو مظاہرین بغداد میں سویڈش سفارت خانے کے قریب جمع ہیں (تصویر: احمد سعد/رائٹرز) ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>20 جولائی 2023 کو مظاہرین بغداد میں سویڈش سفارت خانے کے قریب جمع ہیں (تصویر: احمد سعد/رائٹرز)</figcaption>
    </figure></p>
<p>عینی شاہدین نے بتایا کہ جمعرات کی صبح کئی فائر فائٹنگ ٹرک بغداد میں سویڈن کے سفارت خانے پہنچے جہاں عراقی سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔</p>
<p>آتشزدگی کے واقعے کے بعد سویڈن کی وزارت خارجہ نے اطلاع دی کہ سفارت خانے کا عملہ محفوظ ہے۔</p>
<p>سویڈش وزارت خارجہ کے پریس آفس نے کہا کہ عراقی حکام کی ذمہ داری ہے وہ سفارتی مشن اور عملے کی حفاظت کریں۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/i/status/1681855821578108930"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>اس سے قبل ایک ذریعے نے روئٹرز کو بتایا تھا کہ سفارت خانے کے کسی عملے کو نقصان نہیں پہنچا لیکن مزید تفصیل بتانے سے انکار کر دیا ۔</p>
<p>مظاہرین میں سے ایک حسن احمد نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی ”اے ایف پی“ کو بتایا کہ ’ہم آج قرآن پاک جلانے کے خلاف متحرک ہیں، یہ محبت اور ایمان کا معاملہ ہے‘۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ’ہم سویڈن اور عراقی حکومت سے اس قسم کے اقدام کو روکنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔‘</p>
<h2><a id="قرآن-پاک-جلانے-کیلئے-ایک-اور-درخواست" href="#قرآن-پاک-جلانے-کیلئے-ایک-اور-درخواست" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>قرآن پاک جلانے کیلئے ایک اور درخواست</h2>
<p>سویڈن کی خبر رساں ایجنسی ”ٹی ٹی“ نے بدھ کو اطلاع دی تھی کہ سویڈش پولیس نے جمعرات کو اسٹاک ہوم میں عراقی سفارت خانے کے باہر مظاہرے کی ایک درخواست منظور کی تھی۔</p>
<p>درخواست میں کہا گیا ہے کہ درخواست دہندہ قرآن پاک کی ایک کاپی اور عراقی پرچم کو جلانا چاہتا تھا۔</p>
<p>سویڈش میڈیا نے بتایا کہ سویڈن میں ایک عراقی پناہ گزین سلوان مومیکا نے جمعرات کو آتشزدگی کا یہ منصوبہ بنایا تھا۔</p>
<p>سلوان مومیکا نے ساٹاک ہوم کی سب سے بڑی مسجد کے سامنے 28 جون کو عید الاضحیٰ کے موقع پر قرآن کے ایک نسخے کے صفحات بھی جلائے تھے۔</p>
<p>سویڈش پولیس نے سلوان مومیکا کو ملک کے آزادی اظہار کے تحفظات کے مطابق اجازت دی تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30337158</guid>
      <pubDate>Thu, 20 Jul 2023 08:51:41 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2023/07/200843508b4ac35.jpg?r=084534" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2023/07/200843508b4ac35.jpg?r=084534"/>
        <media:title>تصویر: روئٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
