<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 23:51:44 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 23:51:44 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بیوٹی پارلر بندش کیخلاف افغان خواتین کا احتجاج، طالبان کی ہوائی فائرنگ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30337218/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;افغانستان میں طالبان حکام کی جانب سے بیوٹی پارلرز پر پابندی کے خلاف کابل میں احتجاج کرنے والی درجنوں افغان خواتین نے مظاہرہ کیا، جنہیں منتشر کرنے کیلئے سیکیورٹی اہلکاروں نے ہوائی فائرنگ کی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگست 2021 میں اقتدار پر قبضے کے بعد سے، طالبان حکومت نے لڑکیوں اور خواتین کو ہائی اسکولوں اور یونیورسٹیوں سے دور کردیا ہے، خواتین پر پارکوں، تفریحی میلوں پر جانے پر پابندی لگا دی ہے، اور انہیں عوامی مقامات پر پردہ کرنے کا حکم دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طالبان حکومت کی جانب سے &lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30312080"&gt;گزشتہ ماہ جاری ہونے والے حکم&lt;/a&gt; کے تحت ملک بھر میں ہزاروں بیوٹی پارلرز بند کردیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بیوٹی پارلز افغان خواتین چلاتی تھیں جو اکثر گھرانوں کی آمدنی کا واحد ذریعہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30312080"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افغانستان میں عوامی مظاہرے شاذ و نادر ہی ہوتے ہیں اور اکثر انہیں طاقت کے ذریعے منتشر کردیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے ایف پی کے مطابق بدھ کو احتجاج میں 50 کے قریب خواتین شریک تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مظاہرین نے بعد میں صحافیوں کے ساتھ ویڈیوز اور تصاویر شیئر کیں جن میں دکھایا گیا کہ حکام انہیں منتشر کرنے کے لیے ہوائی فائرنگ کررہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/i/status/1681596841496903680"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے ایف پی کے مطابق کابل میں بیوٹی پارلرز کے لیے مشہور علاقے ”بوچر اسٹریٹ“ (کوچہ قصابی)  پر ہونے والے اس احتجاج میں شریک ایک خاتون نے ایک تختی اٹھا رکھی تھی، جس پر لکھا تھا کہ ’’میری روزی روٹی اور پانی تو مت چھینو۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2023/07/201218164ee27af.jpg'  alt=' افغان خواتین کابل کے علاقے شہر نو میں ایک بیوٹی سیلون کے سامنے اپنے حقوق کے لیے احتجاج کر رہی ہیں (تصویر: اے ایف پی) ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;افغان خواتین کابل کے علاقے شہر نو میں ایک بیوٹی سیلون کے سامنے اپنے حقوق کے لیے احتجاج کر رہی ہیں (تصویر: اے ایف پی)&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیوٹی پارلر میں کام کرنے والی ایک خاتون نے جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کو بتایا، ’ہم تو بس اپنے کام کرنے کا حق اور اس حوالے سے حکم کی منسوخی چاہتے ہیں۔ لیکن طالبان نے اس کا جواب واٹر کینن اور ہوائی فائرنگ سے دیا اور بعض خواتین کو اٹھا کر بھی لے گئے۔‘&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>افغانستان میں طالبان حکام کی جانب سے بیوٹی پارلرز پر پابندی کے خلاف کابل میں احتجاج کرنے والی درجنوں افغان خواتین نے مظاہرہ کیا، جنہیں منتشر کرنے کیلئے سیکیورٹی اہلکاروں نے ہوائی فائرنگ کی۔</strong></p>
<p>اگست 2021 میں اقتدار پر قبضے کے بعد سے، طالبان حکومت نے لڑکیوں اور خواتین کو ہائی اسکولوں اور یونیورسٹیوں سے دور کردیا ہے، خواتین پر پارکوں، تفریحی میلوں پر جانے پر پابندی لگا دی ہے، اور انہیں عوامی مقامات پر پردہ کرنے کا حکم دیا ہے۔</p>
<p>طالبان حکومت کی جانب سے <a href="https://www.aaj.tv/news/30312080">گزشتہ ماہ جاری ہونے والے حکم</a> کے تحت ملک بھر میں ہزاروں بیوٹی پارلرز بند کردیے گئے ہیں۔</p>
<p>یہ بیوٹی پارلز افغان خواتین چلاتی تھیں جو اکثر گھرانوں کی آمدنی کا واحد ذریعہ ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30312080"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>افغانستان میں عوامی مظاہرے شاذ و نادر ہی ہوتے ہیں اور اکثر انہیں طاقت کے ذریعے منتشر کردیا جاتا ہے۔</p>
<p>اے ایف پی کے مطابق بدھ کو احتجاج میں 50 کے قریب خواتین شریک تھیں۔</p>
<p>مظاہرین نے بعد میں صحافیوں کے ساتھ ویڈیوز اور تصاویر شیئر کیں جن میں دکھایا گیا کہ حکام انہیں منتشر کرنے کے لیے ہوائی فائرنگ کررہے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/i/status/1681596841496903680"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>اے ایف پی کے مطابق کابل میں بیوٹی پارلرز کے لیے مشہور علاقے ”بوچر اسٹریٹ“ (کوچہ قصابی)  پر ہونے والے اس احتجاج میں شریک ایک خاتون نے ایک تختی اٹھا رکھی تھی، جس پر لکھا تھا کہ ’’میری روزی روٹی اور پانی تو مت چھینو۔‘</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2023/07/201218164ee27af.jpg'  alt=' افغان خواتین کابل کے علاقے شہر نو میں ایک بیوٹی سیلون کے سامنے اپنے حقوق کے لیے احتجاج کر رہی ہیں (تصویر: اے ایف پی) ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>افغان خواتین کابل کے علاقے شہر نو میں ایک بیوٹی سیلون کے سامنے اپنے حقوق کے لیے احتجاج کر رہی ہیں (تصویر: اے ایف پی)</figcaption>
    </figure></p>
<p>بیوٹی پارلر میں کام کرنے والی ایک خاتون نے جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کو بتایا، ’ہم تو بس اپنے کام کرنے کا حق اور اس حوالے سے حکم کی منسوخی چاہتے ہیں۔ لیکن طالبان نے اس کا جواب واٹر کینن اور ہوائی فائرنگ سے دیا اور بعض خواتین کو اٹھا کر بھی لے گئے۔‘</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30337218</guid>
      <pubDate>Thu, 20 Jul 2023 12:22:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2023/07/20121522f6f1a7d.jpg?r=121951" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2023/07/20121522f6f1a7d.jpg?r=121951"/>
        <media:title>افغان خواتین کابل کے علاقے شہر نو میں ایک بیوٹی سیلون کے سامنے اپنے حقوق کے لیے احتجاج کر رہی ہیں (تصویر: اے ایف پی)
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
