<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 11:30:41 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 11:30:41 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اپیل کا حق دینے یا نہ دینے کا اختیار صرف پارلیمنٹ کو حاصل ہے، سپریم کورٹ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30337644/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سپریم کورٹ نے گھریلو تنازع سے متعلق کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا، فیصلے میں کہا گیا کہ اپیل کا حق دینے یا نہ دینے کا اختیار صرف پارلیمنٹ کو حاصل ہے، آئینی عدالتیں فیملی کیسز کے حقائق کا جائزہ نہیں لے سکتیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سپریم کورٹ کی جسٹس عائشہ ملک نے گھریلو تنازع  کیس کے 6 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے میں کہا کہ دوسری اپیل کا حق دستیاب نہ ہو تو متعلقہ فورم کا فیصلہ حتمی تصور ہوگا، ہائیکورٹ کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ سائلین کو دوسری اپیل کا حق دے، فیملی کیسز میں حقائق کا جائزہ لینے کے لیے ہائیکورٹ کو دوسری اپیل کا حق نہ دینے کا مقصد قانونی تنازعات کو جلد حل کرنا ہے،&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیصلے میں کہا گیا کہ اگر ہائیکورٹس فیملی کیسز میں حقائق کا جائزہ لینا شروع کر دیں تو اس سے مقدمات کا سیلاب آمد آئے گا، عدالتوں کو یہ اختیار نہیں دیا جاسکتا کہ وہ غیر ضروری طور پر قانونی عمل کا غلط استعمال کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحریری فیصلے کے مطابق ٹرائل کورٹس اور اپیلٹ کورٹس کو حقائق کا جائزہ لینے کا اختیار دینے کا مقصد غیر ضروری مقدمہ بازی کی روک تھام ہے،  جب ٹرائل کورٹس اور اپیلٹ کورٹ حقائق کا تعین کر دیں تو آئینی عدالتوں کو مداخلت سے گریز کرنا چاہیئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ کوہاٹ کی فیملی کورٹ نے میاں بیوی کے تنازع پر بیوی کے حق میں فیصلہ سنایا تھا جسے ڈسٹرکٹ کورٹ کوہاٹ نے برقرار رکھا تھا، پشاور ہائیکورٹ نے حقائق کا درست جائزہ نہ لینے پر ماتحت عدالتوں کے فیصلے کالعدم قرار دیے تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سپریم کورٹ نے گھریلو تنازع سے متعلق کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا، فیصلے میں کہا گیا کہ اپیل کا حق دینے یا نہ دینے کا اختیار صرف پارلیمنٹ کو حاصل ہے، آئینی عدالتیں فیملی کیسز کے حقائق کا جائزہ نہیں لے سکتیں۔</strong></p>
<p>سپریم کورٹ کی جسٹس عائشہ ملک نے گھریلو تنازع  کیس کے 6 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے میں کہا کہ دوسری اپیل کا حق دستیاب نہ ہو تو متعلقہ فورم کا فیصلہ حتمی تصور ہوگا، ہائیکورٹ کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ سائلین کو دوسری اپیل کا حق دے، فیملی کیسز میں حقائق کا جائزہ لینے کے لیے ہائیکورٹ کو دوسری اپیل کا حق نہ دینے کا مقصد قانونی تنازعات کو جلد حل کرنا ہے،</p>
<p>فیصلے میں کہا گیا کہ اگر ہائیکورٹس فیملی کیسز میں حقائق کا جائزہ لینا شروع کر دیں تو اس سے مقدمات کا سیلاب آمد آئے گا، عدالتوں کو یہ اختیار نہیں دیا جاسکتا کہ وہ غیر ضروری طور پر قانونی عمل کا غلط استعمال کریں۔</p>
<p>تحریری فیصلے کے مطابق ٹرائل کورٹس اور اپیلٹ کورٹس کو حقائق کا جائزہ لینے کا اختیار دینے کا مقصد غیر ضروری مقدمہ بازی کی روک تھام ہے،  جب ٹرائل کورٹس اور اپیلٹ کورٹ حقائق کا تعین کر دیں تو آئینی عدالتوں کو مداخلت سے گریز کرنا چاہیئے۔</p>
<p>یاد رہے کہ کوہاٹ کی فیملی کورٹ نے میاں بیوی کے تنازع پر بیوی کے حق میں فیصلہ سنایا تھا جسے ڈسٹرکٹ کورٹ کوہاٹ نے برقرار رکھا تھا، پشاور ہائیکورٹ نے حقائق کا درست جائزہ نہ لینے پر ماتحت عدالتوں کے فیصلے کالعدم قرار دیے تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30337644</guid>
      <pubDate>Sat, 22 Jul 2023 22:22:31 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (افضل جاوید)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2023/07/22222042ca2065f.webp?r=222231" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2023/07/22222042ca2065f.webp?r=222231"/>
        <media:title>فوٹو۔۔۔۔۔ فائل
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
